منگل , 15 اکتوبر 2019

اسٹیٹ بینک کی زری پالیسی، شرح سود 13.25 فیصد برقرار

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)اسٹیٹ بینک نے شرح سود کو 13 اعشاریہ 25 فیصد کی موجودہ سطح پر برقرار رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ملک میں جاری افراط زر میں بتدریج کمی یقینی بن جائے گی۔

اسٹیٹ بینک سے جاری ایک بیان کےمطابق زری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کا گزشتہ فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ‘زری پالیسی اس نقطہ نظر کی عکاسی کرتی ہے کہ نتائج زیادہ تر توقع کے مطابق رہے اور مالی سال 2020 کے لیے افراط زر کے حوالے سے 16 جولائی 2019 کو منعقدہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد اب تک کوئی تبدیلی نہیں آئی’۔بیان کے مطابق ‘زر پالیسی کمیٹی کا خیال تھا کہ دستیاب معلومات کی بنیاد پر زری پالیسی کا فیصلہ موجودہ مہنگائی کو کم کرکے اگلے دوسال کے دوران 5 سے 7 فیصد کے ہدف تک لانے کے لیے مناسب تھا’۔

شرح سود کو برقرار رکھنے کے حوالے سے بیان میں کہا گیا ہے کہ شرح سود کو برقرار رکھنے کے ‘فیصلے کے لیے زری پالیسی کمیٹی نے گزشتہ اجلاس سے اب تک کے اہم معاشی حالات، حقیقی، بیرونی اور مالیاتی شعبوں میں ہونے والی تبدیلیوں اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی زری کیفیات اور مہنگائی پر غور کیا’۔

اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ گزشتہ اجلاس میں کیے گئے فیصلے کے بعد بینکوں کے درمیان شرح مبادلہ کے نظام میں قدرے بہتری آئی اور دوسری تبدیلی بیرونی محاذ پر امریکی فیڈرل ریزرو نے توقع کے مطابق اپنی پالیسی کی شرح کم کردی جس سے دنیا بھر کے بڑے مرکزی بینکوں نے بھی اپنی پالیسی ریٹ میں کٹوتی کی اور اس فیصلے سے رقوم کے بہاؤ میں بھی اضافہ ہوگا۔

زری پالیسی کے مطابق معاشی سرگرمیوں میں توقعات کے برخلاف سست رفتاری ہوئی اور توقع ہے کہ مالی سال 2020 میں 3اعشاریہ 5 فیصد کی اوسط نمو ہوگی تاہم ملکی سطح پر گاڑیوں اور فولاد جیسی صنعتوں کی رفتار میں نمایاں کمی آئی جو مالی سال 2019 کی شرح 3 اعشاریہ 6 فیصد سے بھی سکڑ گئی ہے۔

اسٹیٹ بینک کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ‘اگست تا ستمبر 2019 میں کیے گئے سروے میں معیشت میں تھوڑی بہتری نظر آئی ہے، زراعت اور خدمات کے شعبوں میں زیادہ تبدیلی نہیں دیکھی گئی تاہم زراعت کے شعبے میں بہتری کی توقع ہے’۔

بیرونی قرضوں کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ‘بیرونی حالات میں مسلسل نمایاں بہتری آئی ہے اور مالی سال 2019 میں خسارے میں لگ بھگ 32 فیصد کی خاطر خوا کمی ہوئی ہے اور رواں مالی سال کے پہلے ماہ کے دوران یہی رجحان برقرار رہا’۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق ‘برآمدات میں 11 فیصد کا حوصلہ افزائی اضافہ اور درآمدار میں 25 اعشاریہ 8 فیصد کمی کے باعث جاری کھاتوں کا خسارہ جولائی 2019 میں کم ہو گیا اور ساتھ ہی رقوم کی وصولی اور سعودی تیل کی سہولت کے آغاز سے اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے میں مدد ملی جو 6 ستمبر کو 8 اعشاریہ 46 ارب ڈالر تھے جو جون 2019 کے مقابلے میں ایک اعشاریہ 18 ارب ڈالر کا اضافہ ہے’۔

اسٹیٹ بینک نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے ہک ‘مالیاتی پالیسی مالی سال 2019 میں بنیادی خسارہ جی ڈی پی کا 3 اعشاریہ 5 فیصد اور مجموعی مالیاتی خسارہ 8 اعشاریہ 9 فیصد رہا جبکہ ٹیکس کے حصول میں جولائی اور اگست میں بہت اضافہ ہوا’۔

نجی شعبے کے قرض میں کمی کی نشان دہی کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ‘مہنگائی کی صورت حال خاصی حد تک نئے اور پرانے اشاریے سے کافی ملتی جلتی ہے اور گزشتہ مہینوں کے مقابلے میں مہنگائی بتدریج بڑھی ہے جو سالانہ اور ماہانہ دونوں سطح پر بلند رہی ہے جو پش گوئی کے مطابق رہی’۔زری پالیسی کمیٹی کا کہنا ہے کہ ‘توقع ہے کہ مالی سال 2020 میں مہنگائی اوسطاً 11 سے 12 فیصد کے درمیان رہے گی’۔

اسٹیٹ بینک نے مہنگائی میں کمی یا اضافے کے حوالے سے کہنا ہے کہ ‘اگر مالیاتی کمی یا منفی حالات پیش آئے تو مہنگائی اوپر جاسکتی ہے جبکہ تیل کی قیمتیں کم ہوئی، مجموعی طلب کی رفتارتوقع سے زیادہ سست ہوئی یا شرح مبادلہ میں اضادہ ہوا تو مہنگائی توقع سے زیادہ کم ہوجائے گی’۔

یہ بھی دیکھیں

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا مثبت آغاز

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا مثبت آغاز دیکھنے میں آرہاہے۔ کاروباری ہفتے کے چوتھے …