بدھ , 23 اکتوبر 2019

پولیس کرتی کیا ہے؟

(محمود جان بابر)

لوگ جب گھر سے نکلتے ہیں اورحکومت کو ڈھونڈتے ہیں توانہیں سڑک پر سب سے پہلی نظرآنے والی حکومتی نشانیوں میں پولیس ملتی ہے جواگر اچھی ہو تو حکومت اچھی کہلاتی ہے اوراگر بری نکلی تو حکومت کو بھی برا بنادیتی ہے۔ گزشتہ 23سالہ صحافت کے دوران پولیس کے ہاتھوں بے انتہا مظالم کورپورٹ کیا۔90کی دہائی میں ایک ایک دن میں پولیس کے ہاتھوں مقابلوں میں پانچ پانچ مبینہ ڈاکوئوں کو موت کے گھاٹ اترتے دیکھا اوراصل کہانی نہ چھاپنے کے لئے اپنے ہاتھ میں ہزاروں روپوں کی رشوت کی گرمی بھی محسوس کی لیکن سٹوری پھر بھی چھپی، دھمکیوں کا سامنا بھی کیا اورپھران کے بڑے افسران کو پتہ چلنے پردوسرے دن ان کے بیانات بھی چھاپے کہ تھانہ کلچرکو بدلناوقت کی ضرورت ہے۔ ہم جیسے "ناسمجھ”صحافیوں کو سمجھانے کی اوربھی بہت سی کوششیں ہوئیں لیکن پولیس کی بات کو نہ سمجھنے کا اپنا ہی مزہ تھا جس کی ہمیں لت پڑچکی تھی۔

وقت گزرتا گیا پھردہشت گردی کے نام پرجنگ شروع ہوئی بم دھماکوں اورخودکش حملوں نے ہم سے بہت سارے خوبصورت اورجری پولیس والے چھین لئے جن کی تصویریں اب بھی شہروں کی دیواروں پرچسپاں ہیں، لوگ انہیں صبح شام دیکھ کرسلام کرتے ہیں۔پھردہشت گردی کچھ کم ہوئی اورصوبے میں عمران خان کی حکومت آگئی جنہوں نے دنیا کو ہرتقریر میں باورکرایا کہ وہ خیبرپختونخوا کی پولیس کو بدل چکے ہیں اوراب یہ وہ والی پولیس نہیں رہی جوکبھی ہوا کرتی تھی۔ پولیس کو اس کی اسی حالت میں صرف سفید رنگ دے کر فاختہ بنانے کی کوشش کی گئی جو اس لئے بھی کامیاب ہوئی کہ اس کے پیچھے عمران خان جیسے پاپولر لیڈر کی دن رات تمام میڈیا پرتعریفی آوازیں تھیں اورپولیس اس سیاسی پشت پناہی کی بدولت غیرسیاسی کہلانے لگی۔ ہم بھی دہشت گردی میں اتنی شہادتوں اورعمران خان کی اتنی تعریفوں کی روشنی میں یہ سمجھنے پرمجبورہوئے کہ شاید پولیس بدل چکی ہے اورنہ صرف بدل چکی ہے بلکہ شاید اس کی استعداد بھی بڑھ چکی ہے اس پولیس کو مثالی قراردے کر اسے اس صوبے میں آنے والے ہرمہمان اوراینکروں کے سامنے پورے فخر سے پیش کیا جاتا رہا۔

اس دوران پولیس ٹھیک ہوئی یا نہیں ہوئی یہ تو دوسرا موضوع ہے لیکن ہم اپنے جیسے بہت سارے باقی صحافیوں کی طرح ٹھیک ہوکر دفتروں تک محدود ہوگئے پھر ہمیں بھی سرکاری خبروں کا چسکا پڑگیا اورہم بھی واٹس ایپ گروپوں میں پولیس کی جانب سے بھیجی جانے والی خبریں ہی رپورٹ کرنے تک محدود ہوگئے۔لیکن ایسا بھی نہیں تھا کہ سب ہم جیسے تھے بلکہ چند سرپھرے بہترانداز میں اپنا کام کرکے ہم جیسوں کا منہ چڑاتے رہے۔یہ سب کچھ ہمارے سامنے ہوا اورہم صحافی جرائم کی رپورٹنگ کی بجائے پولیس کی رپورٹنگ پرلگ گئے۔ اس کا فوری اثرکیا ہوا کہ عام آدمی کی اصل کہانیاں سامنے آنا بند ہوگئیںاوران کی جگہ ان فرضی کہانیوں نے لے لی جوہم کو پولیس بتاتی تھی۔ پولیس کی امیج بلڈنگ کا کام ہم نے اپنے سر لے لیا یوں ہمارے گناہوں کی بدولت لوگوں کو حقوق تک رسائی ممکن نہ رہی اورپولیس کچھ کئے بغیر ہی بہت سارے خیالی مدارج طے کرکے اوپر سے اوپر ہی جاتی رہی۔

لیکن گذشتہ دنوں ایک بارپھر پورے ملک اور خیبرپختونخوا میں یکے بعد دیگرے پولیس کی ’’مہربانیوں‘‘اورغفلتوں کا ایک طوفان امڈکے آیااوراچانک ہمیں بھی یاد آیا کہ بادشاہ نے توکپڑے ہی نہیں پہنے۔ یہ بھی یاد آیا کہ پشاورمیں رہتے ہوئے جب پولیس قریبا دوسال کا عرصہ گذرنے کے باوجود جب مجھ جیسے "بااثر”صحافی کی کار سے ہونے والی چوری کی ابھی تک تفتیش بھی شروع نہیں کرسکی تو عام آدمی کا کیا حال ہوگا؟ یادآیا کہ کیسے ناکوں پرلوگوں کو ان کی اصل گاڑیوں کو دونمبربنانے کی دھمکیوں پرلوٹا جاتا رہا ایک دوست کے ساتھ اس کی کارمیں موجودگی کے دوران ہی پولیس کی جانب سے صرف ایک غلط بیانی نے اس دوست کو جس حال تک پہنچایا اسے اب تو کیا شاید کبھی نہ بھول پائوں۔ بعد میں اس کی گاڑی تو ٹھیک نکلی لیکن اس ذہنی دبائو کے حملے کی بدولت اسے یوٹی آئی نامی مثانے کی بیماری ہوچکی تھی جو پھر آئندہ کئی روز میں ٹھیک ہوئی۔ پنجاب میں اے ٹی ایم سے اپنا کارڈ نکالنے کے بعد پولیس کی حراست میں مارے جانے والے صلاح الدین نے پولیس کے بارے میں لوگوں کو جھنجوڑدیا کہ کچھ بھی نہیں بدلا۔ مردان میں اقرا نامی بچی کی لاش ملنے کے بعد پولیس کے بدلتے بیانات اس بات کا ثبوت نکلے کہ ابھی منزل بہت دور ہے۔نہ صرف تھانے سے انصاف کا حصول مشکل ہے بلکہ افسربھی حقیقت کی بجائے ماتحت کو بچانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

پولیس ہی بہتر بتاسکتی ہے کہ یہ تو پرائے ہیں جن کے ساتھ یہ سب ہوتا رہا لیکن کیا وہ یہ بتاسکتی ہے کہ وہ دہشت گردی کے دوران شہید ہونے والے پیٹی بند بھائیوں کے خاندانوں کے ساتھ کیا کرتے رہے ہیں۔ابھی تک قوم اس سوال کا جواب ہی نہ سن پائی کہ دہشت گردی کے دوران مارے جانے والے سپاہیوں کو دہشت گردوں کے کھاتے میں ڈالا جائے یا ان پولیس حکام کے کھاتے میں جن کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے ان اہلکاروں کو ناقص جیکٹس پہنا کرمیدان جنگ میں بھیجا۔ بہت سارے سوالات تشنہ ہیں، پولیس کو ٹھیک ہونے کے لئے صرف تھانوں کی دیواروں کو ہی چونا نہیں لگانا بلکہ حقیقی تبدیلی کے لئے پولیس کو یہ بھی بتانا ہے کہ وہ جن کے پیسے سے تنخواہ لیتی ہے وہ بے چارے لوگ کتنے مجبور ہیں جن کی بچیوں کی لاشیں کھیتوں سے ملتی ہیں وہ زندہ درگورہوچکے ہوتے ہیں اس لئے ان کے بارے میں کوئی بھی بیان دیتے ہوئے اسے سوبارسوچناچاہیئے تاکہ لوگ ظلم درظلم کا مزید شکار نہ ہوں۔بشکریہ مشرق نیوز

یہ بھی دیکھیں

اصل کون ہے اور روبوٹ کون، بوجھو تو جانیں

وسعت اللہ خان دنیا چوتھے صنعتی انقلاب سے گزر رہی ہے۔ پہلا صنعتی انقلاب چھاپے …