بدھ , 23 اکتوبر 2019

اسرائیل وادی اردن کے لیے کیوں ہلکان ہو رہا ہے؟

عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی اور امریکا کی واضح ملی بھگت کے ہوتے ہوئے فلسطینی علاقوں میں صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کوئی حیرت کی بات نہیں۔ عالمی خاموشی اور امریکا کی صہیونی ریاست کی بے لاگ حمایت فلسطین پر صہیونی ریاست کے قبضے کی اشتہا میں اضافے کے دو بنیادی اسباب ہیں اور انہی کی بناء پر صہیونی ریاست دریائے اردن سے بحر مردار تک کے علاقے کو اپنی نام نہاد ریاست میں شامل کرنا چاہتا ہے۔

حال ہی میں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے انتخابی مہم کے دوران اعلان کیا کہ وہ 17 ستمبر کو ہونے والے کنیسٹ کے انتخابات کے بعد مقبوضہ مغربی کنارے کی وادی اردن کو اسرائیل میں ضم کرنے کا فیصلہ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ وادی اردن اور شمالی بحیرہ مردار پر "اسرائیلی خودمختاری” نافذ کی جائے۔ مغربی کنارے کو دوسرا غزہ بننے سے روکنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ غرب اردن کےعلاقوں کو اسرائیل میں ضم کرلیا جائے۔نیتن یاہو نے زور دے کر کہا کہ یہ قدم "انتخابات کے فورا. بعد ہو گا تاکہ ان کے انتخابات کی صورت میں عوام پر اعتماد کا یقین دلایا جاسکے۔

نیتن یاھو کے اس اعلان پر فلسطینی برادری ،بین الاقوامی اور عرب ممالک کی سطح پر شدید مذمت اور غم وغصہ پایا گیا۔وادی اردن پر قبضے سے متعلق نیتن یاھو کا بیان وادی اردن کی اسرائیل اور فلسطینیوں کے لیے تزویراتی اہمیت کی عکاسی کرتا ہے۔

جغرافیائی اعتبار سے وادی اردن شمال میں بحیرہ طبریا سے بحیرہ مردار تک پھیلی ہوئی ہے۔ مغربی کنارے سے بحیرہ مردار تک صہیونی ریاست کاغاصبانہ قبضہ ہے اور اسے عالمی برادری بھی تسلیم نہیں کرتے۔وادی اردن اور شمالی بحر مردار کا علاقہ مغبری کنارے کے مشرق میں واقع ہیں۔ وادی اردن کی لمبائی 120 کلو میٹر اور چوڑائی 15 کلو میٹر ہے۔

اسرائیل میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم’بتسلیم’ کی رپورٹ کے مطابق وادی اردن کا مجموعی رقبہ 16 لاکھ دونم ہے جو مغربی کنارے کا 30 فی صد ہے۔’انسانی حقوق گروپ بتسلیم’ کا کہنا ہے کہ وادی اردن میں فلسطینی آبادی 65 ہزار اور یہودی آباد کار 11 ہزار ہیں۔

فلسطینی حکومت کے انفارمیشن آفس کے ذریعہ شائع ہونے والی ایک پچھلی رپورٹ کے مطابق ، وادی اردن میں 2 لاکھ 80 ہزار دونم قابل کاشت رقبہ ہے،جس میں سے فلسطینیوں کے پاس 50،000 دونم جبکہ 27 ہزار یہودی آباد کاروں کے قبضے میں ہے۔

مرکزاطلاعات فلسطین کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے سنہ 1967 میں وادی اردن پرقبضے کے بعد وہاں پر 90 فوجی کیمپ اور چھائونیاں قائم کیں اور 31یہودی بستیاں تعمیر کرکے اس پرقبضہ مضبوط کرنے کی مذموم کوشش کی گئی۔رپورٹ کے مطابق اسرائیلی قبضے نے سنہ 1967 سے وادی اردن کے 50،000 سے زیادہ باشندوں کو بے گھر کردیا ہے۔

‘بتسلیم’ کی رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ 1993 میں اسرائیل اور پی ایل او کے مابین طے پائے اوسلو معاہدوں کے مطابق اس علاقے کے 90 فی صد حصے کو ‘زون C’ میں شامل کیا گیا۔ یہ زون مکمل طور پر اسرائیلی سکیورٹی اور انتظامی کنٹرول میں ہے۔

وادی اردن میں آبادی کم اور زمین انتہائی زرخیز ہے۔ اس میں بہت ساری کھلی جگہیں شامل ہیں۔ ان خصوصیات نے اس علاقے کو مغربی کنارے کی ترقی کے لئے زمین کا سب سے بڑا ذخیرہ بنا دیا ہے۔ شہری مراکز ، توانائی اور صنعت کے شعبوں میں برآمدات اور بنیادی ڈھانچے کی سہولیات کو ترقی دے کر اس علاقے کو تجارتی مرکز بنایا جاسکتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ صہیونی ریاست بحیرہ مردار کے اطراف کی ساری ارضی پر اپنا غاصبانہ اور فوجی تسلط قائم کیے ہوئے ہے۔’بتسلیم’ کا کہنا ہے کہ بحیرہ مردار کی 85 فی صد اراضی سے اسرائیل نے فلسطینیوں کو محروم کر رکھا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق 2006 سے ستمبر 2017 کے درمیان اسرائیل نے وادی اردن میں کم از کم 698 رہائشی یونٹوں کو مسمار کردیا۔ یوں فلسطینیوں کے لیے وادی اردن میں عرصہ حیات تنگ کیا جا رہا ہے اور یہودی آباد کاروں کو بسانے کے لیے زیادہ سے زیادہ یہودیوں کو وہاں پر لایا جا رہا ہے۔بشکریہ مرکز اطلاعات فلسطین

یہ بھی دیکھیں

اصل کون ہے اور روبوٹ کون، بوجھو تو جانیں

وسعت اللہ خان دنیا چوتھے صنعتی انقلاب سے گزر رہی ہے۔ پہلا صنعتی انقلاب چھاپے …