بدھ , 23 اکتوبر 2019

بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں مزید ایک لاکھ 80 ہزار سیکورٹی اہلکار تعینات کردیے گئے‘

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) مقبوضہ کشمیر میں 45 روز سے جاری مسلسل لاک ڈاؤن کے ساتھ وادی میں 9 لاکھ سیکیورٹی اہلکاروں کی تعداد میں اضافہ کرتے ہوئے مزید ایک لاکھ 80 ہزار فوجی اور نیم فوجی دستے اور دیگر اہلکار تعینات کردیے گئے۔یہ بات سیکریٹری خارجہ سہیل محمود نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتائی۔

اپنی بریفنگ میں انہوں نے پارلیمانی کمیٹی کو بھارت کی جانب سے 5 اگست کو کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد پیدا ہونے والی انسانی حقوق، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور سیکیورٹی کی صورتحال کے بارے میں آگاہ کیا۔بریفنگ کے دوران ان کا کہنا تھا کہ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے ساتھ بھارتی جارحیت میں اضافہ ہوگیا ہے اور وہ کوئی بھی شر انگیزی کر کے اس کا الزام پاکستان پر دھرنے سے دریغ نہیں کرے گا۔

بین الاقوامی خبررساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق مقبوضہ کشمیر سے 6 ہزار افراد کو گرفتار کر کے بھارت کی مختلف جیلوں میں بھیجا جاچکا ہے جہاں انہیں بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ’مذہبی آزادیوں پر پابندی ہونے کے ساتھ ساھ عوام خوراک اور ادویات کی قلت کا شکار ہیں‘۔

سہیل محمود نے بتایا کہ مقبوضہ وادی میں مواصلاتی رابطے منقطع ہونے پر وزیراعظم عمران خان نے عالمی رہنماؤں سے رابطہ کر کے وادی کشمیر میں بھارتی فورسز کی سفاکیت سے آگاہ کیا۔عہدیدار کے مطابق حکومت پاکستان نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سیکیورٹی کونسل کے صدر سے رابطہ کر کے انہیں بھارتی فوج کے مظالم سے آگاہ کیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’حکومت پاکستان، بیرونِ ملک پاکستانیوں اور عالمی میڈیا کے مشترکہ کاوشوں سے مقبوضہ کشمیر پوری دنیا کی بھرپور توجہ کا مرکز بن چکا ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ’حکومت پاکستان، بیرونِ ملک پاکستانیوں اور عالمی میڈیا کے مشترکہ کاوشوں سے مقبوضہ کشمیر پوری دنیا کی بھرپور توجہ کا مرکز بن چکا ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا۔

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ
خیال رہے کہ بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے 5 اگست کو صدارتی فرمان کے ذریعے آئین میں مقبوضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والی دفعہ 370 کو منسوخ کرنے کا اعلان کردیا تھا، جس کے بعد مقبوضہ علاقہ اب ریاست نہیں بلکہ وفاقی اکائی کہلائے گا جس کی قانون ساز اسمبلی ہوگی۔

بھارتی آئین کی دفعہ 35 ‘اے’ کے تحت وادی سے باہر سے تعلق رکھنے والے بھارتی نہ ہی مقبوضہ کشمیر میں زمین خرید سکتے ہیں اور نہ ہی سرکاری ملازمت حاصل کر سکتے ہیں، یہ دونوں معاملات بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا ہدف تھے۔بھارت کو اس اقدام کے بعد نہ صرف دنیا بھر سے بلکہ خود بھارتی سیاست دانوں اور اپوزیشن جماعت کی طرف سے تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

یہی نہیں بلکہ بھارت نے 5 اگست کے اقدام سے کچھ گھنٹوں قبل ہی مقبوضہ وادی میں مکمل لاک ڈاؤن اور کرفیو لگا دیا تھا جبکہ مواصلاتی نظام بھی منقطع کردیے تھے جو ایک ماہ گزرنے کے باوجود بھی تاحال معطل ہیں۔ادھر برطانوی خبررساں ایجنسی رائٹرز کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ بھارتی حکومت نے 6 ستمبر کو اعداد و شمار جاری کیے تھے جن کے مطابق 3 ہزار800 افراد کو حراست میں لیا گیا تھا تاہم اس میں 2 ہزار 600 افراد رہا کردیے گئے۔

خیال رہے کہ مقبوضہ کشمیر کے 2 سابق وزرائے اعلیٰ سمیت 200 سیاستدان گرفتار ہیں، جس میں 100 سے زائد سیاستدانوں کا تعلق بھارت مخالف جماعتوں سے ہے۔اس حوالے سے انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا تھا کہ یہ کریک ڈاؤن مقبوضہ وادی کی حالیہ تاریخ کی ’واضح اور بے مثال‘ کارروائی ہے اور ان گرفتاریوں سے بڑے پیمانے پر خوف ہراس پھیلا ہے۔

اس کے علاوہ مقبوضہ کشمیر کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق وادی کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد سے اب تک 4 ہزار افراد کو حراست میں لیا جاچکا ہے۔تاہم ان سب پابندیوں کے باوجود ہمالیائی وادی میں گزشتہ 7 ہفتوں سے بھارتی حکومت کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر اوسطاً 20 احتجاجی مظاہرے کیے جارہے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

امریکی فوجیوں کو عراق میں ٹھہرنے کا کوئی حق نہیں

بغداد: امریکی فوج کو شام سے خارج ہوکرعراق میں ٹھہرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ …