بدھ , 23 اکتوبر 2019

امریکہ نے کبھی سعودی عرب کی حفاظت کا وعدہ نہیں کیا‘ ٹرمپ کا بڑا یوٹرن

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک)امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی تیل تنصیبات پر حملہ کرنے والوں کے ساتھ جنگ نہ کرنے عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم جنگ نہیں چاہتے اور نہ ہی کبھی امریکا نے سعودی عرب سے اس کی حفاظت کرنے کا وعدہ کیا۔برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہیں یہ محسوس ہورہا ہے کہ ایران ہی سعودی تیل تنصیبات پر حملے میں ملوث ہے تاہم وہ پھر بھی خطے میں جنگ نہیں چاہتے۔

خیال رہے کہ امریکا نے الزام عائد کیا تھا کہ ایران خطے میں موجود اپنے حریف سعودی عرب میں تیل تنصیبات پر حملے میں براہ راست ملوث ہے۔امریکا کے صدر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں کہا تھا کہ وہ سعودی عرب میں تیل تنصیبات پر ہونے والے حملے کا رد عمل دینے کے لیے تیار ہیں اور اس کے لیے واشنگٹن نے اپنے اہداف بھی لاک کرلیے۔تاہم ایک روز بعد ہی اب اپنے حالیہ بیان میں امریکا کے صدر کا کہنا تھا کہ انہیں ایسا کرنے کی کوئی جلدی نہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’ہمارے پاس مزید آپشنز موجود ہیں، ابھی ہم ان آپشنز کی جانب نہیں دیکھ رہے بلکہ پہلے ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ یہ (تیل تنصیبات پر حملہ) کس نے کیا‘۔امریکا تحقیقات کر رہا ہے کہ کیا ان حملوں میں ایران ملوث ہے جبکہ اس حوالے سے امریکا کے صدر کا کہنا تھا کہ یہ یقیناً اسی طرف دیکھ رہے ہیں۔

خیال رہے کہ امریکا کے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ صدارت کا منصب سنبھالنے کے بعد واشنگٹن کو وراثت میں ملی جنگوں سے دور کرنے کی کوششوں میں اپنا زیادہ وقت گزار رہے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ سعودی عرب کے لیے انہیں کسی تنازع میں جانے کی جلدی نہیں اور نہ ہی وہ جنگ کی خواہش رکھنے والی شخصیت کے حامل ہیں۔

ٹرمپ نے ایران پر الزامات عائد کرنے کے بیانات سے خود کو علیحدہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکی کابینہ کے اراکین بشمول مائیک پومپیو اور سیکریٹری توانائی رک پیری نے تہران پر الزام عائد کیا اور وہ لوگ جلد سعودی عرب جائیں گے۔یاد رہے کہ اپنے دورہ ترکی کے دوران ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا تھا کہ سعودی اتحادی افواج کی یمنی عوام پر بمباری کے نتیجے میں وہاں کے باسی ’جوابی کارروائی‘ کر رہے ہیں۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یمنی عوام اپنے دفاع کا قانونی حق استعمال کر رہے ہیں۔امریکی صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے سعودی عرب کی حفاظت کا وعدہ نہیں کیا تھا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم نے سعودی لوگوں سے کوئی وعدہ نہیں کیا تھا لیکن ہمیں ان کے ساتھ مل بیٹھ کر معاملے کا حل نکالنا ہے۔امریکی صدر نے واضح کیا کہ ’یہ حملہ سعودی عرب پر ہوا ہے ہم پر نہیں ہوا‘۔

سعودی تیل تنصیبات پر حملہ
خیال رہے کہ 14 ستمبر کو سعودی عرب میں حکومت کے زیر انتظام چلنے والی دنیا کی سب سے بڑی تیل کمپنی آرامکو کے 2 پلانٹس ابقیق اور خریص پر ڈرون حملے کیے گئے تھے۔ڈرون حملوں سے تیل کی تنصیبات میں آگ بھڑک اٹھی تھی تاہم سعودی پریس ایجنسی نے سعودی وزارت داخلہ کے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ ابقیق اور خریص میں لگنے والی آگ پر قابو پالیا گیا ہے۔

اس حملے کی ذمہ داری حوثی باغیوں نے قبول کی تھی جبکہ اس کے عسکری ترجمان نے کہا تھا کہ سعودی حکومت کو مستقبل میں بھی ایسے مزید حملوں کی توقع رکھنی چاہیے۔امریکا نے جب ایران پر آرامکو تنصیبات پر حملے کا الزام عائد کیا تو اسے مسترد کرتے ہوئے تہران نے کہا تھا کہ ایران پر الزام تراشی سے خطے میں تباہی ختم نہیں ہوگی۔

بعد ازاں ایرانی صدر حسن روحانی نے امریکا کو خبردار کیا تھا کہ خطے میں امریکی مراکز اور طیارے ان کے میزائلوں کے نشانے پر ہیں۔واضح رہے کہ سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر ڈرون حملوں اور تیل کی پیداوار میں کمی کی وجہ سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 19.5 فیصد تک کا ریکارڈ اضافہ ہوگیا تھا۔

یہ بھی دیکھیں

امریکی فوجیوں کو عراق میں ٹھہرنے کا کوئی حق نہیں

بغداد: امریکی فوج کو شام سے خارج ہوکرعراق میں ٹھہرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ …