اتوار , 16 اگست 2020

انڈونیشیا کی پارلیمنٹ نے لڑکیوں کی شادی کے لیے نئے قانون کی منظوری دے دی

جکارتہ (مانیٹرنگ ڈیسک)مسلم آبادی والے دنیا کے سب سے بڑے ملک انڈونیشیا میں لڑکیوں کی شادی کی کم از کم حد 19 برس مقرر کر دی گئی۔انڈونیشیا کی پارلیمنٹ نے شدید تنقید کے بعد لڑکیوں کی شادی کے لیے نئے قانون کی منظوری دے دی ہے۔نئے قانون کے تحت اب انڈونیشیا میں لڑکیوں کی شادی کی قانونی عمر 19 برس ہو گی۔

قانون میں ترمیم سے قبل انڈونیشیا میں لڑکیوں کے لیے شادی کی عمر کی حد 16 برس مقرر تھی لیکن اگر والدین اور لڑکی کی رضامندی ہوں تو لڑکیاں اس سے کم عمر میں بھی شادیاں کر سکتی تھیں۔

یہ بھی دیکھیں

جلال آباد میں جیل پر داعش کے حملے میں کم سے کم 22 افراد ہلاک

جلال آباد: افغانستان کے مشرقی شہر جلال آباد میں جیل پر داعش کے حملے میں …