جمعہ , 18 اکتوبر 2019

کشمیر کی آزادی تک ادھار بند ہے

وسعت اللہ خان

پچپن عبور کرنے کے باوجود بچپن کی جو یادیں تازہ ہیں ان میں محلے کی ایک دکان کا بورڈ بھی شامل ہے۔ ’ کشمیر ہیئر ڈریسنگ اینڈ گرم حمام، پروپرائیٹر محمد اسلم مجبور۔‘

محمد اسلم مجبور شاعر نہیں تھے لیکن اس زمانے میں ہر تیسرا بندہ تخلص ضرور کرتا تھا مثلاً گوگے دودھ دہی فروش کے بورڈ پر لکھا تھا پروپرائیٹر جاوید علی راہی یا نور پرنٹنگ پریس پروپرائٹر طارق محمود آزردہ وغیرہ وغیرہ۔

کشمیر ہیئر ڈریسنگ اینڈ گرم حمام اس لیے یاد ہے کہ دکان کے اندر لٹکے گتے پر لکھا تھا ’ کشمیر کی آزادی تک ادھار بند ہے۔‘ دوم یہ کہ پروپرائیٹر محمد اسلم مجبور باقاعدگی سے مشرق اخبار خریدتے تھے۔

مجھے اس شرط پر اخبار پڑھنے کی اجازت تھی کہ میں با آواز سناؤں گا تاکہ اسلم مجبور استرا اور قینچی بھی چلاتے رہیں اور انھیں حالاتِ حاضرہ سے آگہی بھی رہے۔

وہ پاکستانی اداکارہ شمیم آرا کا دورِ عروج تھا۔ انھوں نے کسی انٹرویو میں کہا تھا کہ میں اس سے شادی کروں گی جو سری نگر پر پاکستان کا جھنڈا لہرائے۔ اس انٹرویو کے بعد اسلم مجبور کی دکان میں صدر ایوب کی تصویر کے برابر میں شمیم آرا کا پوسٹر بھی لگ گیا۔

بہت بعد میں معلوم ہوا کہ اسلم مجبور بھی ہزاروں دیگر مہاجروں کی طرح تقسیم کے بعد جموں سے پاکستان دھکیلے گئے تھے۔ جب نئے ملک میں کچھ نہ بن پڑا تو ایک استاد سے کام سیکھ کر حجام کی دکان کھول لی۔ وقت گذرتا گیا۔ ایک دن اسلم مجبور بھی گذر گئے۔ دکان وہیں رہی مکین اور بورڈ بدل گیا اور پھر دکان بھی ڈھ گئی۔

زمانہ فاسٹ فارورڈ ہو گیا۔ مئی سنہ 2009 میں لوک سبھا کے الیکشن کی کوریج کے لیے بہت سی انڈین ریاستوں کے علاوہ انڈیا کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر بھی جانا ہوا۔

اننت ناگ میں ایک پولنگ سٹیشن کے باہر ووٹروں کی قطار میں میری نگاہ 70، 75برس کے ایک بزرگ پر پڑی۔ میں نے پوچھا آپ بھی۔ بائیکاٹ نہیں کیا ؟ فرمایا ’بیٹے آزادی تو جب ملے گی تب ملے گی۔ ابھی تو سڑک، پانی، بجلی اور بچوں کے لیے روزگار چاہیے۔‘

آج پھر پاکستان میں سب سے اہم ریاستی مدعا کشمیر کی آزادی ہے جس کے خواب دیکھتے دیکھتے اسلم مجبور حجام اور اداکارہ شیم آرا گذر گئے اور شاید اننت ناگ کا وہ بزرگ ووٹر بھی رخصت ہو چکا ہو۔

یقیناً ایک دن کشمیریوں کو آزادی ملے گی یا ممکن ہے کہ ’کشمیر بنے گا پاکستان‘ بھی ہو جائے لیکن جب تک ایسا نہیں ہو پا رہا تب تک کچھ اور ضروری کام کیوں نہ نمٹا لیے جائیں۔

مثلاً کیا یہ ممکن ہے کہ ’کشمیر کی آزادی‘ سے پہلے پہلے پاکستان میں پولیو کا 100 فیصد خاتمہ ہو جائے تاکہ 100 فیصد پولیو فری موجودہ کشمیر جب پاکسان میں شامل ہو تو یہ وائرس کسی نوآزاد نومولود کشمیری بچے کو نہ منتقل ہو۔

تب تک تعلیمی نظام کا قبلہ ہی کم از کم اس حد تک درست ہو جائے کہ گلیوں میں لور لور پھرنے والے ڈھائی کروڑ پاکستانی بچوں میں لاکھوں نو آزاد کشمیری بچے شامل ہونے سے بچ جائیں۔

کیا یہ امید رکھی جائے کہ ’کشمیر بنے گا پاکستان‘ سے پہلے پہلے کم ازکم اتنی پولیس اصلاحات ہو جائیں کہ نئے کشمیریوں کو بھی عام پاکستانی شہری کو درپیش چھترولی ذلت نہ سہنی پڑے کہ جس سے بچنے کے لیے ہی وہ اتنی جدوجہد کر رہے ہیں۔

کیوں نہ تب تک پاکستانی معیشت اس قابل کر لی جائے کہ ممکنہ طور پر نئے نئے شامل ہونے والے 80 لاکھ کشمیری اگر خوشحال نہ ہو سکیں تو کم ازکم خطِ غربت سے اور نیچے نہ کھسک جائیں؟

اور کیا دل کی بات بلا خوف و خطر زبان پر لانے کا کلچر تب تک نافذ ہو جائے گا تاکہ نئے کشمیریوں کو واقعی یقین ہو جائے کہ وہ نسل در نسل کیسی گھٹن گذار کر واقعی ایک ایسی کھلی فضا میں سانس لے رہے ہیں جہاں عزتِ نفس کا احترام ہے؟

اب بھی وقت ہے سوچ لیں۔

اگر یہ بنیادی کام بھی کشمیریوں کی آزادی سے پہلے پہلے ممکن نہیں تو پھر’ کشمیر بنے گا پاکستان‘ کی بجائے ’کشمیر بنے گا خود مختار‘ تک ہی رہیں تاکہ آزادی کے بعد کشمیری ہمیں کوئی الزام دینے کے بجائے اپنے مسائل خود ہی سلٹا سکیں اور ان کے ذہن میں یہ نہ آئے کہ ایک کالے کے چنگل سے نکل کر دوسرے کالے سے آن ملنے کا بھلا کیا فائدہ ہوا؟

یہ بھی دیکھیں

نوکریاں دینا حکومت کا کام ہی نہیں

تحریر: طاہر یاسین طاہر حیراں ہوں دل کو روئوں کہ پیٹوں جگر کو میں مقدور …