ہفتہ , 19 اکتوبر 2019

زیادتی کے مجرم کی معافی کیونکر؟

محمد افضل بھٹی

قصور کی تحصیل چونیاں میں چار بچوں کے اغوا اور زیادتی کے بعد قتل کیے جانے کے واقعے پر بہت کچھ لکھا اور کہا جاچکا ہے، لیکن آج ہم اسےواقعہ کو کسی اور تناظر میں دیکھیں گے۔ اس سانحے کا ملزم سہیل شہزاد، جو کہ پیشے کے لحاظ سے ایک رکشہ ڈرائیور ہے اور گرفتار بھی ہوچکا ہے، اس کی بابت یہ حقیقت بھی سامنے آئی ہے کہ اس نے اِس جرم کا ارتکاب پہلی دفعہ نہیں کیا۔ بلکہ اس سے قبل 2011 میں بھی ملزم نے عظیم نامی بچے کے ساتھ زیادتی کی۔ اس کے خلاف مقدمہ درج ہوا، یہ پکڑا گیا اور عدالت کی طرف سے اس کو مجرم ڈیکلیئر کرتے ہوئے پانچ سال کی سزا سنائی گئی تھی۔

لیکن کہانی میں ایک موڑ ہے۔ ایک ایسا موڑ جو مزید چار معصوم جانوں کو نگل گیا۔ وہ موڑ یہ ہے کہ جب سہیل شہزاد نامی اس شخص کو پانچ سال سزا سنائی گئی تو اس کی ماں نے مدعی سعید اختر، جو کہ اسی کے محلے میں رہتا تھا کو ڈرانا دھمکانا شروع کردیا کہ اگر اُس نے اس کے بیٹے کو معاف نہ کیا تو وہ اپنے کپڑے پھاڑ کر اور پولیس کو رشوت دے کر اس کے خلاف زنا بالجبر کا مقدمہ درج کروا دے گی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ مدعی پارٹی دھمکیوں میں آگئی اور اپنے مقدمے سے منحرف ہوگئی۔ لہٰذا سہیل شہزاد کو صرف ڈیڑھ سال کے بعد ہی بری کردیا گیا۔

رہائی کے بعد جب سہیل شہزاد واپس اپنے محلے میں آیا تو لوگوں نے اپنے بچوں کی خاطر احتجاجاً اسے علاقہ بدر کروا دیا۔ جس کے بعد اسے ہجرہ شاہ مقیم کے علاقے عمرکوٹ میں رہنا پڑا۔ لیکن جلد ہی ملزم کا بھائی مسجد کےلیے چندہ اکٹھا کرنے کا نیک کام کرنے لگا اور بالآخر منت سماجت کرکے یہ خاندان محلے کے لوگوں کو قائل کرنے میں کامیاب ہوگیا کہ ملزم اب ایسا کوئی عمل نہیں کرے گا۔ علاقہ بدری کے بعد سہیل شہزاد تین سال قبل واپس اپنے محلے میں آکر رہنے لگا۔

مجرم کو چونکہ پہلے جرم پر پوری سزا نہیں ملی تھی اور وہ باآسانی بری ہوگیا تھا، لہٰذا اسی سے شہ پاکر اس نے تین جون 2019 کو دوبارہ اسی جرم کا ارتکاب کیا، جب اس نے عمران نامی بارہ سالہ بچے کو اغوا کیا۔ اغوا کرتے ہوئے مجرم نے سوچا کہ پچھلی بار اس لیے پکڑا گیا تھا کہ بچے کو زیادتی کرکے چھوڑ دیا تھا، لہٰذا بچے نے گھر جاکر سب کچھ بتا دیا تھا۔ مجرم نئی منصوبہ بندی کے تحت جرم کے ارتکاب میں تبدیلی لایا۔ اب اس نے جب عمران نامی بچے سے زیادتی کی منصوبہ بندی کی تو سب سے پہلے اسے اپنے رکشہ میں بٹھایا، سیر کے بہانے چونیاں سے باہر ٹیلوں میں لے گیا جہاں دور دور تک لوگوں کا گزر نہیں ہوتا۔ وہاں زیادتی کے بعد جرم کا نشان مٹانے کےلیے بچے کو وہیں مار کر پھینک دیا۔ اس طرح ملزم نے کل چار بچوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا اور انہیں ابدی نیند سلادیا۔

چند دنوں میں جب ایک ہی علاقے سے چار بچوں کا اغوا ہوا تو علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ اپنے بچوں کی حفاظت کی خاطر لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ بات میڈیا اور سوشل میڈیا سے ہوتی ہوئی پورے ملک میں پھیل گئی۔ ملزم جو کہ رکشہ ڈرائیور تھا، چار بچوں کو اغوا اور زیادتی کے بعد قتل کرچکا تھا، علاقہ چھوڑ کر لاہور چلا گیا، جہاں وہ تندور پر روٹیاں لگانے کا کام کرتا رہا۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مجرم چونکہ علاقے سے فرار ہوچکا تھا تو پھر پولیس مجرم تک پہنچی کیسے؟ پولیس نے سب سے پہلے نادرا سے متعلقہ علاقے کا ڈیٹا نکلوایا۔ مخصوص علاقے کی نشاندہی کی گئی۔ یہاں ایک بات قابل ذکر ہے جس کے متعلق پولیس اگر نہ سوچتی تو شاید مجرم تک پہنچنے میں بڑی دشواری پیش آتی۔ وہ یہ کہ چونیاں اور اس کے گردونواح میں نزدیک نزدیک جتنے بھی علاقے ہیں، وہاں سے بچوں کو اسکول بھیجنے کےلیے صرف ایک ہی سواری میسر ہوتی ہے اور وہ ہے چنگچی رکشہ۔ مرنے والے چاروں بچوں کی عمریں چونکہ آٹھ سے بارہ سال کے درمیان تھیں، اس سے واضح تھا کہ بچے اسکول بھی جاتے تھے۔ پولیس کے کسی سمجھ دار افسر نے اس پوائنٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے تفتیش کو آگے بڑھایا اور یوں رکشہ ڈرائیوروں پر فوکس کرتے ہوئے کل سترہ سو لوگوں بشمول 41 رکشہ ڈرائیوروں کا ڈی این اے سیمپل لیا گیا۔ اس میں مذکورہ ملزم کا 1471 واں نمبر تھا۔

کہتے ہیں کہ چور کتنا بھی چالاک کیوں نہ ہو ایک دن قانون کی پکڑ میں ضرور آتا ہے۔ مرنے والے بچوں کی لاشوں و باقیات سے لیے گئے سیمپل اور مذکورہ ملزم کا ڈی این اے رزلٹ میچ کرگیا۔ پولیس جب اس کو گرفتار کرنے پہنچی تو ملزم نے جو جوتا پہنا ہوا تھا اسی کے نشان موقعہ واردات پر پائے گئے تھے۔

قطع نظر اس کے اب مجرم کو کیا سزا ملتی ہے؟ ہم صرف ایک چیز پر فوکس کریں گے، وہ یہ کہ ملزم کو اگر 2011 کے واقعے میں دی گئی سزا پوری ملتی تو شاید مزید چار بچے اس کی ہوس کا نشانہ نہ بنتے۔ مجرم کی نامکمل سزا کے پیچھے قصوروار کون ہے؟ ملزم کی ماں؟ جس نے مدعی سعید اختر کو جھوٹے کیس میں پھنسانے کی دھمکی دے کر معافی نامہ لکھوایا۔ یا پھر مدعی سعید اختر جو اپنے بیٹے کو انصاف دلاتے دلاتے خود ملزم پارٹی کی دھمکیوں سے ڈر گیا۔ یا وہ عدالت جس نے ریپ کے کیس میں معافی نامہ جمع کروانے پر مجرم کو بری کردیا۔ اور اگر یہ سب گناہگار نہیں تو پھر وہ قانون بنانے والے سیاستدان گناہگار ہیں جنہوں نے ریپ کا ایسا قانون بنایا ہے کہ اگر اس میں مدعی پارٹی کا معافی نامہ جمع کروا دیا جائے تو ڈیکلیئر شدہ مجرم بھی بری ہوسکتا ہے۔

اگر ایسے قانون کا وجود ہے تو پھر ایک سوال پیدا ہوتا، جو ہم سب کو اپنے گریبانوں میں جھانک کر سوچنا چاہیے۔ وہ یہ کہ کیا ہم اپنے بچے کے ریپسٹ کو معاف کرسکتے ہیں؟ اگر جواب نفی میں ہے (جوکہ واقعی نفی میں ہوگا) تو پھر آواز اٹھائیے ایسے قانون کے خلاف جو ہمارے بچوں کے مجرم کو بری ہونے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ اس عدالت کے خلاف جو ایک ریپسٹ کو اس لیے بری کردیتی ہے کہ وہ دوبارہ اسی معاشرے میں جاکر مزید بچوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنائے اور موت کی ابدی نیند سلادے۔ ان قانون دانوں کے خلاف جو قانون بناتے ہوئے ایسی کمزوریاں دور نہیں کرتے جو مجرم کو فائدہ دیتی ہیں۔ اگر دوسروں کے بچوں پر ہونے والے ظلم کے خلاف آواز نہیں اٹھائیں گے تو کل آپ کا بچہ بھی ان ظالموں کا شکار ہوسکتا ہے۔

نوٹ: ابلاغ نیوز کی پالیسی کا اس تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

نوکریاں دینا حکومت کا کام ہی نہیں

تحریر: طاہر یاسین طاہر حیراں ہوں دل کو روئوں کہ پیٹوں جگر کو میں مقدور …