پیر , 16 دسمبر 2019

عراق میں پرتشدد مظاہرے، وجوہات اور اہداف (1)

ابنِ حسن

عراق میں ہونے والے حالیہ پرتشدد مظاہروں نے بہت سارے لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی ہے۔ ان مظاہروں کی بنیادی وجہ ملک میں بے روزگاری، کرپشن، معاشی ابتری اور بنیادی ضروریات زندگی کا فقدان بتائی جا رہی ہے۔ بتایا یہی جا رہا ہے کہ ان مشکلات سے تنگ آکر لوگ خصوصاً نوجوان سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ لیکن یہ ان مظاہروں کی صرف ایک وجہ ہے، واحد اور بنیادی وجہ ہرگز نہیں ہے۔  ہم چند قسطوں پر مشتمل اس مضمون کے ذریعے کچھ چیزوں کی طرف اشارہ کر رہے ہیں تاکہ عراق کے حالیہ بحران کو سمجھنے میں آسانی ہو۔

عراق کے 8 مختلف شہروں میں بیک وقت شروع ہونے والے حالیہ مظاہروں نے اپنے آغاز سے ہی تشدد کا رنگ اختیار کرلیا تھا۔ مظاہرین نے جہاں شدید توڑ پھوڑ اور جلاو گھیراو کی روش اختیار کی وہیں عراق کی مذہبی قیادت اور عراق کے مذہبی تہواروں کی توہین بھی کی ہے۔ بظاہر اندرونی مشکلات کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں نے عراق کی خارجہ پالیسی خصوصاً ہمسایوں کے ساتھ عراقی حکومت کے تعلقات پر تنقید کو بھی اپنے نعروں اور کتبوں کی زینت بنایا ہے۔

ان مظاہروں کی ایک دلچسپ بات یہ بھی تھی کہ یہ مظاہرے صرف اور صرف شیعہ نشین شہروں میں ہوئے ہیں۔ معاشی مشکلات اور مسائل کو حالیہ مظاہروں کی بنیادی وجہ سمجھنے والے دوستوں سے یہ سوال بھی بنتا ہے کہ کہ کیا عراق کے سُنی نشین شہروں کو مہنگائی، بیروزگاری اور پانی و بجلی کے بحران کا سامنا نہیں ہے یا انہیں حکومت سے کوئی شکوہ نہیں ہے یا ان میں سیاسی بصیرت کی کمی یا اپنے حقوق کے لیے اٹھنے کی جرات نہیں ہے؟۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ عراق کی موجودہ حکومت چونکہ شیعہ حکومت ہے لہذا حکومت گرانے کی تحریک کو سنی علاقوں سے شروع کیا جاتا تو وہ اتنی موثر نہ ہوتی جتنی شیعہ علاقوں سے چلنے والی تحریک موثر ہوگی اور شاید سنی علاقوں سے چلنے والی حکومت مخالف تحریک فرقہ وارانہ سمجھی اور جلد سرکوب ہو جاتی لہذا شیعہ نشین علاقوں کا انتخاب کیا گیا ہے۔

عراقی آمر صدام کے سقوط کے بعد بننے والے عراق کے سیاسی نظام میں اس سے پہلے بھی کئی بار مظاہرے ہوئے ہیں، حالیہ مظاہرے پہلی بار تھے نہ آخری بار لیکن گزشتہ مظاہروں میں لاکھوں لوگ شریک ہوتے رہے ہیں جبکہ اس دفعہ ان مظاہروں میں کسی بھی شہر میں مظاہرین کی تعداد 2 ہزار سے زیادہ نہیں تھی۔ عراق میں بصرہ ہمیشہ ہی عوامی مظاہروں کا مرکز رہا ہے جہاں دو لاکھ تک لوگ ایک وقت میں مظاہروں میں شریک ہوتے رہے ہیں جبکہ اس دفعہ بصرہ میں نسبتاً خلوت رہی ہے۔ ایرانی خبر رساں اداے فارس نیوز کے مطابق آٹھ شہروں میں مظاہرین کی مجموعی تعداد 20 ہزار افراد سے ہرگز زیادہ نہیں تھی۔ نجف اشرف میں کئی لوگ مرجعیت مخالف نعرے اور دینی تہواروں کی توہین سن اور ان مظاہروں میں تشدد کے عنصر کو دیکھ کر مظاہرے ترک کر گئے ہیں۔ لہذا موجودہ مظاہروں کو ایک خالص اور بڑی عوامی تحریک قرار دینا ٹھوس شواہد کا متقاضی ہے۔
جاری ہے۔۔۔

نوٹ: ابلاغ نیوز کی پالیسی کا اس تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

زیارت، مذہبی سیاحت اور ہمارے حکمران (1)

تحریر: ارشاد حسین ناصر پاکستان ایران کا ہمسایہ اور برادر اسلامی ملک ہے، جس کے …