ہفتہ , 19 اکتوبر 2019

کیا عراق میں ہنگامے اور فساد، آرامکو پر حملے کا سعودی- امریکی انتقام ہے؟

یہ بالکل صحیح بات ہے کہ عراقی عوام جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں وہ ملک کے وسائل پر توجہ دینے کے بعد تعجب خيز ہے۔ ان وسائل کے علاوہ خود عراقی عوام بھی کافی باصلاحیت اور توانا ہیں لیکن ان سب کے باوجود عشروں سے عراقی عوام آرام اور سہولیات سے دور ہیں اس لئے اس کا مطالبہ کرنا اور سکڑوں پر نکلنا ان کا حق ہے لیکن آج کل جو کچھ عراق میں ہو رہا ہے اسے پوری طرح ان چيزوں کا نتیجہ قرار نہیں دیا جا سکتا ہے بلکہ اس کے متعدد اسباب ہیں۔

یہاں پر ہم مظاہرین کو مشتبہ نہیں کہہ رہے ہیں بلکہ ہمارے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ مظاہروں کے دوران جس طرح کے نعرے لگائے گئے اور جو روش اختیار کی گئی اس نے ان مظاہروں کو پوری طرح سے ان کے راستے سے گمراہ کر دیا۔ ہمیں مظاہروں کے دوران بہت زیادہ تشدد نظر آیا، جس کی وجہ سے حالات دھماکہ خیز ہوگئے، مظاہرین کے تشدد سے سیکورٹی اہلکاروں میں غصہ بڑھا اور سیکورٹی اہلکاروں کے تشدد سے مظاہرین میں تشدد بڑھا تو سوال یہ ہے کہ در حقیقت تشدد کس کی جانب سے ہے؟

مظاہروں میں تشدد پر توجہ دینے سے پتہ چلتا ہے کہ مظاہرین اور سیکورٹی اہلکاروں کے علاوہ بھی کچھ لوگ تھے جو آگ میں گھی ڈالنے کا کام کر رہے ہیں اور ان کا مقصد حالات کو دھماکہ خيز بنانا ہے۔

اس کے ساتھ ہی قابل توجہ ایک اور بات یہ ہے کہ ان مظاہروں میں ایران، اس کے اتحادیوں، مرجعیت اور رضاکار فورس کو نشانہ بنایا جا رہا ہے حالانکہ اسی رضاکار فورس نے ایران کی پوری حمایت سے دہشت گرد گروہ داعش کی عراق سے بیخ کنی کی اور عراق پر قبضے کا اس کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔

اسی لئے ہمیں یہ لگتا ہے کہ کچھ طاقتیں ہیں جو عراق میں ایران اور علاقے میں اس کے اتحادیوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ تو اگر یہ خیال صحیح ہے تو پھر امریکا اور اس کے علاقائی اتحادی خاص طور پر سعودی عرب کے علاوہ کسی اور طاقت کا خیال ذہن میں نہیں آتا کیونکہ ایران، مرجعیت اور عراقی رضاکار فورس نے ان کے منصوبوں پر پانی پھیرا ہے لہذا اب ان کو ان ہی کو مظاہروں میں نشانہ بنایا جا رہا ہے جنہوں نے عراق کی سلامتی میں بہترین کردار ادا کیا۔

در اصل سعودی عرب میں ایران سے براہ راست مقابلہ کرنے کی توانائی نہیں ہے اور اس کا سب سے بڑا اتحادی امریکا بھی ایران سے تصادم سے پرہیز کرتا ہے تو پھر سعودی عرب نے شاید فی الحال عراق میں ہی ایران کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے پر اطمئنان کرنے کا ارادہ کیا ہو۔ اس لئے ہماری دعا ہے کہ عراق اور اس کے عوام، دشمنوں کی سازشوں سے محفوظ رہیں۔

بشکریہ

رای الیوم

نوٹ: ابلاغ نیوز کی پالیسی کا اس تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

نوکریاں دینا حکومت کا کام ہی نہیں

تحریر: طاہر یاسین طاہر حیراں ہوں دل کو روئوں کہ پیٹوں جگر کو میں مقدور …