ہفتہ , 19 اکتوبر 2019

قرآن اور میڈیا (1)

منظوم ولایتی

اطلاعات کے اس ترقی یافتہ نظام میں ابلاغ کے وہ تمام ذرائع شامل ہیں، جن کے توسط سے ہر نوعیت کی قومی اور بین الاقوامی خبریں ، حالات وکوائف اور اطلاعات و معلومات عامة الناس تک پہنچائی جاتی ہیں۔ ان ذرائع میں قومی اور بین الاقوامی خبررساں ادارے، ریڈیو، ٹیلی ویژن ،اخبارات، رسائل، جرائد، شماریاتی بینک، اشتہارات دینے اور تیار کرنے والے ادارے ، کیسٹ، کتابیں، پمفلٹ اور ماہرانہ تبصرے کرنے والے تجزیہ نگار شامل ہیں۔

ان ذرائع ابلاغ کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:
(1) سوشل میڈیا؛ اس میں بلاگرز، سماجی ویب سائٹس، ایس ایم ایس اور فیس بک ، ٹوئٹر، مائی اسپیس، گوگل پلس، ایمو، واٹس اپ، یوٹیوب اور ڈگ وغیرہ شامل ہیں۔

(2) الیکٹرانک میڈیا؛ اس سے مراد ٹی وی چینلز ، سی ڈی ، ریڈیو اور دیگر ویڈیوز ہیں۔

(3) پرنٹ میڈیا؛ اس سے مراد اخبار ، رسائل ، جریدے اور میگزین وغیرہ ہیں۔

یاد رہے کہ اطلاعات کی ترسیل کیلیے باقاعدہ نظام ترتیب پانے سے پہلے انسانی سماج میں ترقی کی رفتار بہت سست تھی، انسان کے پاس اطلاعات کی ترسیل کا نظام پریس مشین کی ایجاد سے پہلے بھی موجود تھا لیکن تب تک عام آدمی کو اطلاعات تک رسائی حاصل نہیں تھی۔ اطلاعات صرف حکمرانوں اور ان کے دربار اور محفلوں سے منسلک افراد تک محدود ہوتی تھیں ، اور یہ لوگ ہر معاشرے میں آٹے میں نمک کی مقدار سے بھی کم تھے۔

موجودہ ذرائع ابلاغ کی بنیاد سترہویں صدی عیسوی میں پڑی جب جرمنی اور بعض دیگر ممالک میں حالات و واقعات پر مبنی رپورٹس کی اشاعت باقاعدگی سے شروع ہوئی لیکن اخبارات و رسائل کی اشاعت عام اٹھارھویں صدی میں ہوئی ۔

اسلام چونکہ رہتی دنیا تک کیلے ایک جامع دین بن کر آیا ہے ، اس لیے اس میں میڈیا اور پریس کے حوالے سے بھی ضابطہ اور قانون موجود ہے، اسلام میں میڈیا کی کتنی اہمیت ہے اور ان ذرائع ابلاغ کو انسانی زندگی میں کتنا اہم مقام حاصل ہے، اس کا اندازہ لگانے کیلیے ہمیں ان آیتوں کا مطالعہ اور ان کے مفاہیم میں غور کرنا چاہیے، جن سے اسلام کے داعیانہ پہلو پر روشنی پڑتی ہے۔

ارشاد رب العزت ہے : ادع الی سبیل ربک (سورہ نحل۔آیت 125)
ترجمہ: اے نبی! اپنے رب کے راستے کی طرف دعوت دو۔

دوسری آیت میں فرمایا: ولتکن منکم امة یدعون الی الخیر (سورہ آل عمران104)

ترجمہ: تم میں سے کچھ لوگ تو ایسے ضرور ہی رہنے چاہیں جو نیکی کی طرف بلائیں۔

پس مندرجہ بالا آیات میں اسلام کے جس آفاقی پیغام کے ابلاغ و ترسیل کا امت مسلمہ کو حکم دیا گیا ہے، کیا اس کی وسیع اور عالمی پیمانے پر دعوت اور اشاعت ، سائنس و ٹیکنالوجی کے اس دور میں ذرائع ابلاغ کے سہارے کے بغیر ممکن ہے؟

مزید بر آں یہ بات مخفی نہ رہے کہ اسلامی نظریہ ابلاغ کسی انسانی فکر کا زائیدہ یا محض عقلی بنیادوں پر انسانوں کا تیارکردہ نہیں ہے، بلکہ وہ قرآن و حدیث سے مستنبط اور ماخوذ ہے۔ انسان کی فطری آزادی سے لے کر ذرائع ابلاغ کی آزادی تک سارا نظام عمل انہی اسلامی ہدایات پر مبنی ہے۔

ہاں یہ نکتہ یاد رہے کہ اسلامی نظریہ ابلاغ میں جہاں ذرائع ابلاغ کو آزادی رائے کی آزادی دی گئی ہے، وہاں اس کو بہت سی اخلاقی شرائط اور سماجی اور معاشرتی قوانین کا پابند بھی بنایا گیا ہے، تاکہ دیگر اسلامی نظریہ کی طرح یہاں بھی توازن و اعتدال برقرار ریے۔

اگر اظہار کی آزادی کی آڑ میں ذرائع ابلاغ کے اس سرکش گھوڑے کو بے لگام چھوڑ دیا جائے تو یہ ایمانیات کے ساتھ انسانوں کی اخلاقیات کو بھی اپنے پیروں تلے روند کر رکھ دے گا ، جیسا کہ عصر حاضر چونکہ مغربی ثقافتی یلغار کا غلبہ ہے لہذا فحاشی کی سینکڑوں ویب سائٹس اس کی بہترین مثال ہیں۔

( جاری ہے)

نوٹ: ابلاغ نیوز کی پالیسی کا اس تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

نوکریاں دینا حکومت کا کام ہی نہیں

تحریر: طاہر یاسین طاہر حیراں ہوں دل کو روئوں کہ پیٹوں جگر کو میں مقدور …