ہفتہ , 19 اکتوبر 2019

کیا خلیفہ اردغان سلطان ٹرمپ کے ٹریپ میں آگئے ہیں؟

سید ثاقب اکبر

کیا خلیفہ اردغان سلطان ٹرمپ کے ٹریپ میں آگئے ہیں؟یہ سوال اس لیے پیدا ہوتا ہے کہ صدر ٹرمپ گذشتہ برس کے آخر میں اپنی ایک ٹویٹ میں کہ چکے ہیں کہ وہ ترکی کو معاشی طور پر برباد کردیں گے، اگر اس نے کردوں کو نشانہ بنایا، بیس میل طویل محفوظ زون بنا لیں۔ اس کا پس منظر کچھ یوں ہے دسمبر 2018ء میں صدر ٹرمپ نے داعش کی شکست کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے شام میں موجود دو ہزار امریکی فوجیوں کو جو ایس ڈی ایف کو مدد فراہم کرہے تھے، واپس آنے کا حکم دے دیا ہے۔ بیرونی اتحادیوں اور سینئر ریپلکین نے صدر ٹرمپ کے اس دعوے کو رد کرتے ہوئے امریکی حمایت کے بغیر کرد فورسز کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا تھا۔ چند دن بعد صدر ٹرمپ نے وہ ٹویٹ کیا جو ہم اوپر نقل کر چکے ہیں۔ آئیے ذرا اس بات کو کھولتے ہیں اور شام میں ترکی کی فوج کے حالیہ داخلے اور کرد علاقوں سے امریکی فوج کے انخلاء کی روشنی میں بات سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کا جائزہ لیتے ہیں کہ کیا، بیس کلومیٹر شامی علاقے کے اندر داخلے کی سلطان ٹرمپ کی اجازت پر عمل درآمد کے نتیجے میں کہیں ترکی معاشی طور پر برباد تو نہیں ہو جائے گا؟۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ دوسرے ممالک میں افواج کو داخل کرنے کا مطلب مستقل بھاری فوجی اخراجات کو برداشت کرنا ہے۔ ترکی کی معیشت جو اس وقت ماضی کی نسبت بہتر حالت میں ہے اگر میدان جنگ میں خرچ ہونا شروع ہو جائے گی تو اس کا نتیجہ منفی ہی نکلے گا۔ امریکہ جیسی بڑی قوت بھی کسی ایسی جنگ کا اپنے آپ کو متحمل نہیں سمجھتی، جس میں وہ منافع میں نہ جارہی ہو۔ لہذا گذشتہ اتوار (6اکتوبر 2019) کو اپنی افواج شمالی شام سے نکالنے میں کا اعلان کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہم کسی ایسی جنگ کا حصہ نہیں بنتے جس میں ہمارا کوئی فائدہ نہ ہو، لہذا اس وقت جب کہ ترکی نے شمالی شام میں افواج داخل کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو ہم اپنی افواج کو وہاں زخمی، قتل اور اسیر ہونے کے لیے نہیں چھوڑ سکتے۔ صدر ٹرمپ نے یہ کہ کر امریکی سلطنت کے پھیلاؤ کے طریقے اور اصول واضح کرد یے ہیں۔ اب یہ خلافت عثمانیہ کے وارث جناب اردغان پر منحصر ہے کہ وہ کس قدر سوچ کر فیصلہ کرتے ہیں۔ ماضی کی خلافتوں کے زوال کے اسباب کو بھی مد نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔

صدر اردغان نے شام کے اندر ترکی کے بارڈر پر کرد علاقوں کو اسی طرح اپنا سیکورٹی زون بنانے کا اعلان کیا ہے، جیسے اسرائیل نے جنوبی لبنان میں اپنا سیکورٹی زون بنا رکھا تھا۔ اسرائیل جیسا عالمی طاقتوں کا لاڈلا اگر جنوبی لبنان کے نام نہاد سیکورٹی زون سے بالآخر ہاتھ اٹھانے پر مجبور ہو چکا ہے تو یہ تاریخ کوئی زیادہ پرانی نہیں ہے۔ ترکی کے صدر اردغان کو چاہیے کہ تاریخ کے ان فیصلوں سے سبق حاصل کریں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ شامی حکومت ایک لاکھ پچاسی ہزار مربع کلومیٹر علاقے کو نظر انداز کردے۔ یاد رہے کہ ایک دن تھا جب شام کا صرف پندرہ فیصد علاقہ دمشق کی حکومت کے پاس باقی رہ گیا تھا، باقی سب داعش اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے قبضے میں تھا۔ یہ وہی دہشت گرد تنظیمیں ہیں جنھیں امریکہ، اسرائیل اور علاقے کے رجعت پسند حکمرانوں کی ہمہ گیر حمایت حاصل تھی۔ شام کی افواج اس وقت میدان جنگ میں ان تمام عفریتوں کو شکست دے کر پہلے سے کہیں زیادہ پر اعتماد اور طاقتور ہو چکی ہیں۔ اس موقع پر شامی نائب وزیر خارجہ فیصل مقداد نے کہا ہے کہ شامی حکومت یہ ہر گز قبول نہیں کر سکتی کہ اپنا ایک لاکھ پچاسی ہزار مربع کلومیٹر علاقہ واپس نہ لے۔

صورتحال کو سمجھنے کے لیے یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ کردوں کی سربراہی میں شام کے شمال میں قائم عسکری اتحاد امریکہ ہی کی ایماء پر معرض وجود میں آیا تھا۔ شامی کرد ملیشیا کو پیپلز پروٹیکشن یونٹس (وائی پی جے) کہا جاتا ہے، ترکی کا کہنا ہے کہ یہ کردستان ورکرز پارٹی کا حصہ ہے، جو ترکی کے کرد علاقوں کی آزادی اور خودمختاری کے لیے مسلح جدوجہد کررہی ہے۔ وائی پی جے دراصل سیرئین ڈیموکریٹک فورسز کا سب سے بڑا عسکری دھڑا ہے جو چار سال پہلے امریکہ کی مدد سے معرض وجود میں آیا۔ اس کے پاس اسوقت بھی دس ہزار داعشی قیدی موجود ہیں۔ کرد ملیشیا کا کہنا ہے کہ وہ ترک افواج کا میدان جنگ میں مقابلہ کرے گی اور اس کے لیے ان داعشیوں سے بھی استفادہ کرے گی۔ صدر ٹرمپ نے ترک صدر رجب طیب اردغان سے کہا ہے کہ ان دس ہزار داعشیوں کو سنبھالنے کی ذمہ داری بھی اب آپ پر ہے۔ ترک افواج اس علاقے میں گذشتہ اتوار کو داخل ہوئی ہیں، جو ایک بڑے اور بظاہر طویل جنگی معرکے کے لیے تیار دکھائی دیتی ہیں۔ اس کے لیے وہ دہشت گرد گروہ جو پہلے سے ترکی کے نزدیک سمجھے جاتے ہیں کو بھی متحرک کر دیا گیا ہے۔

دہشت گردوں کا یہ گروہ فری سیرئین آرمی کے نام سے منظم ہے اور ترکی و شام کے مابین منبج کے علاقے میں موجود ہے۔ فری سیرئین آرمی اب ترک افواج سے ملحق ہو رہی ہے اور یوں لگتا ہے کہ قربانی کے پہلے بکرے یہی بنیں گے۔ شامی حکومت کا کہنا ہے کہ امریکی فوج کی شام میں مداخلت پہلے دن سے ہی غیر قانونی تھی، اسے بہت پہلے شام سے نکل جانا چاہیے تھا۔ کردوں نے امریکی فیصلے کو بے وفائی اور اپنی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف قرار دیا ہے۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے شام کے نائب وزیر خارجہ فیصل مقداد نے کہا ہے کہ جس نے بھی اپنے آپ کو کم قیمت پر بیچا ہے تاریخ اسے دور پھینک دیتی ہے، ہم نے کئی مرتبہ ملک و ملت کیخلاف ان سازشوں سے خبردار کیا تھا اور کہا تھا کہ جو کوئی بھی غیروں کی گود میں پناہ لے گا غیر آخر کار اسے پرے پھینک دیں گے اور ایسا ہی ہوا ہے۔ انھوں نے کہا کہ شام ایک ہے اور ناقابل تقسیم، جو لوگ راستے سے بھٹک گئے تھے، انھیں نصیحت کرتے ہوئے شامی حکومت کے ترجمان نے کہا کہ اپنے وطن کی طرف واپس آجائیں کیونکہ آخرکار وطن ہی طرف لوٹنا ہوتا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ وہ لوگ جو اپنا سب کچھ گنوا بیٹھے ہیں ہم ان سے کہتے ہیں کہ اب اپنے وجود کو نہ گنوا دیں، یہ وطن ہی ہے جو بالآخر اپنے فرزندوں کو قبول کرتا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ شام کی مشکلات کو مثبت اور پر امن طریقے سے حل کریں لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ شام کی وحدت محفوظ رہے۔ اس امر کا امکان موجود ہے کہ کرد اور شامی حکومت آپس میں اتحاد کر لیں اور کرد شامی فوج کی کمان میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہو جائیں، اگر ایسا ہو گیا تو ترکی کے لیے مداخلت کا جواز ختم ہوجائے گا کیونکہ شام کی حکومت کو اپنے پورے خطے پر اپنا اقتدار اعلی بحال کرنے کا قانونی جواز حاصل ہے۔ گذشتہ کئی برسوں سے ترکی، روس اور ایران مل کر شام کے مسائل میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ ترکی کی تازہ مداخلت کو ایران اور روس دونوں نے مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ شام کی وحدت کی حفاظت کے اصول پر ہم اتفاق کر چکے ہیں اور آئندہ بھی ماضی کے مشترکہ اعلامیوں کی روشنی میں گفت و شنید سے مسائل کا حل نکالنے کی ضرورت ہے۔

روس اور ایران نے کہا ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ جو حکومتیں کسی ملک میں فوجی مداخلت کا فیصلہ کرتی ہیں ان کے لیے ایسے فیصلوں کو واپس لینا بہت مشکل ہو جاتا ہے یہاں تک کہ ناک کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ ناک اگر امریکہ کی ہو تو اسے شاید کوئی خاص فرق نہیں پڑتا وہ بھی ٹرمپ جیسوں کی موجودگی میں لیکن ترکی جس خطے میں موجود ہے، تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ یہاں حکمرانوں کی ناک بڑے مسائل پیدا کرتی ہے۔ اس خطے میں عصر حاضر کے مسائل بھی بیشتر ناک، انا اور چودھراہٹ کی خواہش کا نتیجہ ہیں۔ ترکی کے نئے فوجی اقدام کو دنیا بھر کے تجزیہ کار امریکا کی طرف سے ترکی کے لیے گرین لائٹ کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔ اتوار کی رات ترکی اور امریکہ کے صدر نے آپس میں ٹیلی فون پر بات کی جس کے بعد وائٹ ہاؤس نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ ترکی ایک عرصے سے شمالی شام میں کارروائی کا جو منصوبہ بنائے ہوئے تھا اسے اب انجام دے رہا ہے۔ امریکہ کی مسلح افواج اس کی نہ حمایت کرتی ہیں اور نہ اس میں شریک ہو ں گی۔ امریکی افواج نے داعش کی خلافت کو شکست دے دی ہے، اب وہ اس علاقے میں نہیں رہیں گی۔

امریکی صدر کے دفتر وائٹ ہاوس سے جاری ہونے والے اس بیان میں اس علاقے سے مراد شام کی شمالی سرحد ہے کہ ترکی جس میں کردوں کے خلاف فوجی کارروائی کا ارادہ رکھتا ہے۔ جس دن سے صدر ٹرمپ نے بیس کلومیٹر شام میں داخل ہونے کی اجازت مرحمت فرمائی ہے اس دن سے خلافت عثمانیہ کے وارث اور اس خلافت کے احیاء کے پرچم بردار خلیفہ اردغان نے اسے اپنا ارمان بنا لیا ہے، چنانچہ انھوں نے شامی علاقے میں ترکی کے بارڈر پر بیس کلومیٹر کی طویل پٹی کو اپنا سیکورٹی زون قرار دیتے ہوئے اس علاقے کا نقشہ حالیہ ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھی دکھایا تھا۔ اب اس وقت صدر ٹرمپ کھلے بندوں ترکی کو ناٹو کا ایک اتحادی بھی قرار دے رہے ہیں اور ان کی فوجی کارروائی کے لیے پوری طرح سے راہ ہموار کر رہے ہیں۔ کیا امریکہ کی ترکی کے لیے ان مہربانیوں کو واقعا سنجیدہ سمجھنا چاہیے؟ کیا امریکہ ترکوں پر اتنا مہربان ہو گیا ہے؟ یہ وہی امریکہ ہے جسے آج شامی کرد بد عہد اور پیٹھ میں خنجر گھونپنے والا قرار دے رہے ہیں۔

کیا وہ دن دور ہے جب ترک بھی امریکہ کو بدعہد اور پیٹھ میں خنجر گھونپنے والا کہیں گے۔ کیا اس وقت خلافت کا خواب دیکھنے والے خلیفہ کی آنکھ نہیں کھل جائے گی؟ کھل تو جائے گی لیکن بہت کچھ ضائع ہو چکا ہوگا۔ اگر ہماری ہمدردانہ بات سمجھ نہ آسکے تو خلیفہ بغدادی سے مشورہ کیا جاسکتا ہے جو امریکہ ہی کا لے پالک ہے۔ ترکی اس وقت ایک بڑی اسلامی معاشی قوت ہے، شاندار ماضی رکھنے والا ملک ہے، پاکستانی تو اس سے ویسے بھی بہت پیار کرتے ہیں، لہذا ہم نہیں چاہتے کہ وہ اپنے آپ کو کسی نئی مصیبت میں داخل کرے۔ ترک فوج کو اپنی ہی سرحدوں میں رہنا چاہیے، شام کو تقسیم نہیں ہونا چاہیے بلکہ کسی بھی مسلمان ملک کو تقسیم نہیں ہونا چاہیے۔ غیروں کے ایماء پر لشکر کشی سے پرہیز کرنا چاہییے۔ مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر مسائل کو حل کرنا چاہیے۔ اگر سعودی عرب ایران سے مذاکرات کے لیے بعد از خرابی بسیار آمادہ دکھائی دیتا ہے تو ترکی کو آخر کار یہی راستہ اختیار کرنا ہوگا۔

نوٹ: ابلاغ نیوز کی پالیسی کا اس تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

نوکریاں دینا حکومت کا کام ہی نہیں

تحریر: طاہر یاسین طاہر حیراں ہوں دل کو روئوں کہ پیٹوں جگر کو میں مقدور …