ہفتہ , 19 اکتوبر 2019

عراق میں پرتشدد مظاہرے، وجوہات اور اہداف (2)

ابنِ حسن

عراق میں ہونے والے حالیہ پرتشدد مظاہروں کے دوران نجف میں مقیم دنیائے شیعت کے عظیم مرجع تقلید آیت اللہ سیستانی کے گھر پر دھاوا بولنے کی کوشش بھی کی گئی ہے جسے عراقی سیکورٹی فورسز نے نہ صرف بروقت روکا بلکہ کئی ایسے عناصر کی گرفتاری کی اطلاعات بھی ہیں جو ان کی جان کے حوالے سے غلط ارادہ رکھتے تھے۔ ظاہراً مذہبی قیادت پر حملوں یا ان کی کردار کشی اور معاشی مشکلات و مسائل کے حل کے مطالبے میں کوئی تناسب نہیں ہے لہذا ان مظاہروں کے پسِ پردہ اہداف کافی حد تک واضح ہیں۔

میرے نزدیک حالیہ پرتشدد مظاہرے سیاسی استحکام اور بین الاقوامی سطح پر مستقل حیثیت حاصل کرنے کی جانب بڑھتے ہوئے عراق میں انتشار، تفرقہ اور افراتفری پھیلا کر مستقبل کے ایک طاقتور عراق کا راستہ روکنے کی سازش کی ایک کڑی ہیں۔

ایک اور چیز جو ان پر تشدد مظاہروں کی حقیقت کا پول کھولتی ہے وہ ان مظاہروں کی کوریج کا انداز ہے۔ سوشل میڈیا کے علاوہ جن ذرائع ابلاغ نے ان پرتشدد مظاہروں کو بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے ان میں بی بی سی، سی این این اور العربیہ سرفہرست ہیں۔ ان تینوں ذرائع ابلاغ نے حالیہ مظاہروں کو کبھی قیام عراق کا عنوان دیا تو کبھی انقلاب عراق کا۔ اگر یہ مظاہرے معاشی مشکلات اور مسائل سے متعلق تھے تو ان میں سیاسی انقلاب اور قیام کی روح پھونکے جانے کی کوشش کیوں کی گئی ہے؟۔ ان دونوں کے درمیان کیا لازمہ ہے؟۔

ذرائع ابلاغ کی خبروں اور کہانیوں کے ساتھ مغز ماری کرنے والے فاضل دوست نیز ان تینوں میڈیا ہاوسز کی صداقت، اہداف اور مقاصد سے اچھی طرح واقف ہیں۔ ان پرتشدد مظاہروں کو ہوا دینے میں سعودی عرب کے Global Center to Combat Extremism کے روبوٹس اور ٹوئٹر ہینڈلز نے بھی اپنا کردار ادا کیا ہے۔ ایک خبر رساں ادارے کے مطابق حالیہ مظاہروں کے حوالے سے ہونے والی 79 فیصد ٹوئٹس کا تعلق سعودی عرب سے تھا جو انتہا پسندی سے مقابلے کے نام پر بنائے گئے اس سعودی سینٹر کے سوشل میڈیا ڈیسک سے ہوتی رہی ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ سعودی عرب کے شہری کب سے دوسرے ممالک کی عوام کے حقوق کے حامی اور ان کا ہاتھ بٹانے کے قابل ہوگئے ہیں؟۔

اس سے پہلے کہ ان مظاہروں کے حوالے سے عراقی حکومت کا کوئی موقف سامنے آتا امریکہ و اسرائیل سے وابستہ اداروں اور حکومتوں کی تشویش آچکی تھی۔ جن اداروں کو یمن، فلسطین اور کشمیر پر تقریروں اور قراردادوں سے جگانا پڑتا ہے انہیں عراق میں ہونے والے مظاہروں کے حوالے سے اتنی جلدی تشویش کیسے ہو گئی؟۔

عراق میں موجودہ سیاسی نظام عراقی عوام کو سابق عراقی آمر صدام کے سقوط کے بعد بڑی مشکل سے ملا ہے جسے بچانے کے لیے عراقی قوم نے داعش کے خلاف ایک بڑی جنگ لڑی جس میں لاکھوں شہید دیے ہیں۔ امریکہ کی خواہش یہ تھی کہ وہ عراق میں اپنی مرضی کا نظام حکومت لے آئے گا جو عراقی عوام اور خصوصاً عراقی مذہبی قیادت کی بصیرت کے سبب ممکن نہیں ہو سکا۔

جب صدام کے سقوط کے کچھ عرصہ بعد امریکی اور چند دیگر بین الاقوامی اداروں کے عہدیداروں کا ایک وفد آیت اللہ سیستانی کے پاس عراقی آئین کا ایک مسودہ لیکر آیا اور کہا آپ کی تجاویز و تائید چاہیے تاکہ اسے نافذ کر کے اس کے مطابق عراق کے پہلے انتخابات کروائے جاسکیں تو آپ نے فرمایا یہ آئین کس نے بنایا ہے؟۔ انہوں نے کہا بین الاقوامی اداروں کی مدد سے دنیا کے چند اعلی دماغ سیاسی ماہرین اکٹھے کئے گئے ہیں انہوں نے آپ کی قوم کے لیے یہ بہترین آئین ترتیب دیا ہے۔ آپ نے فرمایا وہ جتنے اعلی اذہان ہی کیوں نہ ہوں انہیں عراقی عوام کے لیے آئین بنانے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ پہلے انتخابات کروائیں، عوام کے نمایندوں پر مشتمل ایک عبوری حکومت اور عبوری اسمبلی تشکیل پائے اور عراقی عوام کی نمایندگی میں صرف وہ اسمبلی آئین ترتیب دے جس میں ہر مذہب، مسلک، دین، نسل اور قوم قبیلے سے تعلق رکھنے والے عراقیوں کی نمایندگی ہو۔

حالیہ مظاہروں کا ایک نعرہ اس عراقی نظام کی سرنگونی اور اس کی جگہ کسی دوسرے نظام کی تشکیل کا مطالبہ تھا جس سے آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں ان مظاہروں کا مقصد کیا ہو سکتا ہے۔

جاری ہے۔۔۔۔

نوٹ: ابلاغ نیوز کی پالیسی کا اس تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

نوکریاں دینا حکومت کا کام ہی نہیں

تحریر: طاہر یاسین طاہر حیراں ہوں دل کو روئوں کہ پیٹوں جگر کو میں مقدور …