جمعہ , 18 اکتوبر 2019

جسٹس عیسیٰ برطانیہ میں 3 جائیدادوں کے مالک، ان کے بچے بے نامی دار ہیں، اٹارنی جنرل

اسلام آباد: اٹارنی جنرل انور منصور خان نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کے معاملے میں اپنا جواب سپریم کورٹ میں جمع کروادیا۔

عدالت عظمیٰ میں جمع کروائے گئے جواب میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر مختلف الزامات لگائے گئے ہیں۔

اٹارنی جنرل کی جانب سے جواب میں کہا گیا کہ برطانیہ میں 3 جائیدادوں کے اصل مالک جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ہیں اور ان کے بچے اس کے بے نامی دار ہیں۔

جواب میں کہا گیا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ جائیداد خریدنے کے ذرائع بتانے سے گریز کررہے ہیں جبکہ ان کی جانب سے لگائے گئے الزامات محظ مفروضوں پر مبنی ہیں۔

سپریم کورٹ میں جمع کروائے گئے جواب میں کہا گیا کہ وزیر قانون کا بار کونسلز میں چیک تقسیم کرنا غلط نہیں اور بطور اٹارنی جنرل سپریم جوڈیشل کونسل کی معاونت کرنا آئینی ذمہ داری ہے۔

اٹارنی جنرل نے جواب میں لکھا کہ احتساب اور شفافیت جمہوریت کا حصہ ہے، احتساب سے کسی کو استثنیٰ حاصل نہیں۔

جواب میں کہا گیا کہ صدر اور وزیراعظم کو اپنی ذمہ داریوں پر آئین کے آرٹیکل 248 کے تحت استثنیٰ حاصل ہے جبکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی کونسل کے خلاف درخواست قابل سماعت نہیں۔

یاد رہے کہ صدر مملکت کی جانب سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف دائر صدارتی ریفرنس کی سپریم جوڈیشل کونسل میں سماعت کو مذکورہ جج نے سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا تھا۔

اس معاملے پر عدالت عظمیٰ نے 10 رکنی فل کورٹ بنایا تھا، جس کی سربراہی جسٹس عمرعطا بندیال کر رہے ہیں اور گزشتہ دنوں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست پر سماعت بھی ہوئی تھی۔

یہ بھی دیکھیں

جاپان: خوفناک سمندری طوفان میں 65 ہلاکتوں کی تصدیق

ٹوکیو: جاپان کے وسطی اور شمالی علاقوں میں آنے والے تباہ کن سمندری طوفان ‘ہیگی …