ہفتہ , 19 اکتوبر 2019

ظریف کی علاقائی رہنماؤں کو ایران کے امن و سلامتی کے منصوبہ سے ملحق ہونے کی سفارش

تہران:  اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے فائننشل ٹائمز میں لکھا ہے کہ علاقائی ممالک کے رہنماؤں کو ایران کے امن و سلامتی کے منصوبہ سے ملحق ہوجانا چاہیے۔ انھوں نے کہا ہرمز صلح کا منصوبہ ایک جامع اور کامل منصوبہ ہے اور اس پر تمام ہمسایہ اور علاقائی ممالک اپنے نظریات کو بیان کرسکتے ہیں امن و صلح اور دوستی سب سے اہم چیز ہے اور اس کے لئے ہم سب کو ملکر تلاش و کوشش کرنی چاہیے۔

ایرانی وزير خارجہ کے مطابق ہمارا خطہ اہم اور حساس خطہ ہے اور اس خطے میں غیر علاقائی طاقتیں بد امنی ، کشیدگی اور دہشت گردی پھیلا رہی ہیں اور وہ اپنی کمپنیوں کے ہتھیار فروخت کرنے کے لئے ہمیں آپس میں لڑنے اور جھگڑنے کی ترغیب اور تشویق کررہی ہیں۔ ہمارے دلوں میں ایکدوسرے کا خوف پیدا کررہی ہیں۔ ایرانی وزير خارجہ نے سعودی عرب کی یمن پر مسلط کردہ جنگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس جنگ کو 5 برس ہونے والے ہیں جنگ جاری ہے اس میں یورپی اور مغربی ممالک کے ہتھیاروں سے بھر پور استفادہ کیا جارہا ہے مسلمان ایکدوسرے کو مغربی ہھتیاروں سے قتل کر رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ آرامکو پر حملہ سے سعودی عرب کو سبق سیکھنا چاہیے اور یمن پر مسلط کردہ جنگ کو متوقف کرکے ایران کے امن و صلح منصوبے سے ملحق ہوجانا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ اگر سعودی عرب نے یمن کے نہتے عربوں کے خلاف جنگ متوقف نہ کی تو یمنی ، سعودی عرب کو دردناک صورتحال سے دوچار کرسکتے ہیں۔ ظریف نے کا کہنا ہے کہ عدم جارحیت کے معاہدے پر دستخط کرکے ہم خطے میں امن و صلح کا آغاز کرسکتے ہیں اور اغیار پر اعتماد کرنے کے بجائے ہمیں آپس میں اور ایکدوسرے پر اعتماد کرنا چاہیے۔

یہ بھی دیکھیں

جاپان: خوفناک سمندری طوفان میں 65 ہلاکتوں کی تصدیق

ٹوکیو: جاپان کے وسطی اور شمالی علاقوں میں آنے والے تباہ کن سمندری طوفان ‘ہیگی …