ہفتہ , 19 اکتوبر 2019

عراق میں تین روز کا سوگ

بغداد: عراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی کے دفتر نے بدہ کی شام ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ جمعرات سے عراق میں تین روز کا عام سوگ منایا جائے گا۔

عراق میں گذشتہ دنوں ہونے والے مظاہروں کے دوران کم سے کم ایک سو چار افراد جاں بحق اور چھے ہزار سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے ۔

مرنے والوں میں آٹھ افراد کا تعلق سیکورٹی فورسس سے تھا۔عراقی حکومت نے مظاہرین کو نشانہ بنانے والوں کے بارے میں تحقیقات شروع کردی ہیں۔ عراق کی وزارت داخلہ کے ترجمان سعد معن موسوی کے اعلان کے مطابق عراقی سیکورٹی اہلکاروں نے تخریبی کارروائیوں میں ملوث بعض افراد کو گرفتار کر لیا ہے ۔

دارالحکومت بغداد سمیت عراق کے بعض صوبوں میں گذشتہ دنوں عام سروسز کی خراب صورت حال ، بے روزگاری اور دفتری بدعنوانی کے خلاف مظاہرے ہوئے تھے جس میں اغیار بالخصوص امریکا کا ہاتھ بتایا جاتا ہے ۔

عراق میں احتجاجی مظاہروں کی لہر کو روکنے کے لئے عراقی وزیراعظم نے اتوار کو مظاہرین کے مطالبات پر غورکرنے اورجائز مطالبات تسلیم کرنے کی یقین دہانی کرائی جس کے بعد مظاہروں کا سلسلہ بند ہوگیا ہے۔

عراق کی تحریک اسلامی کے رہنما حسین الاسدی کا کہنا ہے کہ عراق میں رونما ہونے والی حالیہ بدامنی میں امریکی حکومت کا ہاتھ تھا کیونکہ حکومت عراق نے واشنگٹن کے بعض مطالبات ماننے سے انکار کردیا تھا ۔

عراقی کردستان علاقے کی وزراء کونسل نے ملک کے حالات کا جائزہ لینے کے لئے کونسل کے سربراہ مسرور بارزانی کی صدارت میں ایک اجلاس طلب کیا ۔ مسعود بارزانی نے اس اجلاس میں عوام کے برحق اور قانونی مطالبات کو جائز ٹھہراتے ہوئے کہا کہ عراقی کردستان ، وزیر اعظم عادل عبدالمہدی کی جانب سے مظاہرین کے مسا‏ئل حل کرنے کے لئے اصلاحات کی پالیسی اختیار کئے جانے کی حمایت کرے گا۔

عراق کے نیشنل ویزڈم موومنٹ این ڈبیلو ایم کے رہنما سید عمار حکیم نے بھی وزیراعظم عادل عبدالمہدی کے اصلاحی پروگراموں کی حمایت کا خیرمقدم کیا اور اس پر عمل درآمد کے لئے سنجیدہ طریقہ کار اختیار کئے جانے اور نظام الاوقات کے ساتھ زمینی سطح پر عمل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

جاپان: خوفناک سمندری طوفان میں 65 ہلاکتوں کی تصدیق

ٹوکیو: جاپان کے وسطی اور شمالی علاقوں میں آنے والے تباہ کن سمندری طوفان ‘ہیگی …