جمعہ , 18 اکتوبر 2019

ترک فوج کی جانب سے شمالی شام کے بعض علاقوں پر قبضہ

انقرہ: ترکی کی وزارت جنگ نے جمعرات کو اعلان کیا کہ شام کے علاقوں الحسکہ اور الرقہ پر فضائی حملے ، گولہ باری اور زمینی فوجی کارروائیاں، بقول اس کے کامیاب رہی ہیں ۔ترک وزارت جنگ نے اعلان کیا ہے کہ شام کے خلاف اس کی فوجی کارروائیاں بدستور جاری ہیں ۔

اس درمیان لندن بیسڈ سیرین ہیومن رائٹس واچ نے اعلان کیا ہے کہ بدھ کی شام کو جارحیت شروع ہونے کے بعد سے آخری اطلاع ملنے تک ترک فوج کی جارحیت میں کم سے کم پندرہ افراد جاں بحق اور چالیس سے زائد زخمی ہوچکے تھے۔

دوسری طرف شامی ذرائع نےالحسکہ سے امریکی فوجیوں کے انخلا کی بھی خبردی ہے۔

شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا نے اعلان کیا ہے کہ تقریبا پچاس امریکی فوجی، اپنی بکتر بند گاڑیوں اور دیگر فوجی سازو سامان کے ہمراہ ، سیمالکا، پاس کے راستے، شام کے شمال مشرقی علاقے الحسکہ سے نکل گئے ہیں ۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترک صدر رجب طیب اردوغان سے ٹیلیفونی گفتگو کے بعد، پیر کے دن اعلان کیا تھا کہ چونکہ ترکی شمال مشرقی شام کے علاقوں کے خلاف فوجی کارروائی کرنا چاہتا ہے اس لئے امریکا ان علاقوں سے اپنے فوجیوں کو نکال رہا ہے ۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بیان ایسی حالت میں دیا کہ شام کے کرد امریکا کے اتحادی سمجھے جاتے ہیں اور امریکا نے بارہا یہ اعلان کیا تھا کہ ترک فوج نے ان کے خلاف کوئی حملہ یا کارروائی انجام دی تو امریکی فوج ان کی حفاظت کرے گی۔

اس دوران شامی ذرائع نے اعلان کیا ہے کہ ترک فوجیوں نے رقہ کے شمالی مضافاتی علاقوں پر بھی حملہ کیا ہے ۔

دوسری طرف شام کے کرد ذرائع نے اعلان کیا ہے کہ کوبانی کے مغرب میں ترک فوجیوں اور شام کی کرد ملیشیا کے درمیان گھمسان کی جنگ جاری ہے ۔ کرد ذرائع کے مطابق تل ابیض سیکٹر پر کرد جنگجووں اور ترک فوجیوں کے درمیان لڑائی میں کم سے کم پانچ ترک فوجی ہلاک ہوئے ہیں ۔

شام کے خلاف ترکی کی فوجی جارحیت کی عالمی سطح پر مذمت کی گئی ہے ۔اسی کے ساتھ شام کی حکومت نے ترکی کی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ شام کی حکومت اور عوام اس جارحیت کے مقابلے میں ، اپنے ملک کی ارضی سالمیت اور اقتدار اعلی کا بھر پور دفاع کریں گے ۔

یہ بھی دیکھیں

جاپان: خوفناک سمندری طوفان میں 65 ہلاکتوں کی تصدیق

ٹوکیو: جاپان کے وسطی اور شمالی علاقوں میں آنے والے تباہ کن سمندری طوفان ‘ہیگی …