جمعرات , 21 نومبر 2019

ریاست مدینہ کے علوی اصول

تحریر : منظوم ولایتی

مملکت خداداد پاکستان کی تشکیل کے وقت بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناح رحمة اللہ علیہ کے ذہن میں کیسا نظام حکومت تھا ، اس کی ایک جھلک برصغیر پاک و ھند کے مشہور دانشور اور خطیب علامہ رشید ترابی نے اپنے ایک بیان میں یوں پیش کیا ہے: "قائد اعظم مرحوم نے 1947ء میں تقسیم ھند و پاکستان کے فورا بعد مجھے یہاں طلب کیا تھا اور کراچی میں میرے قیام کے واسطے کارٹن ہوٹل میں کچھ کمرےلئے گۓ تھے۔مجھ سے یہ خواھش کی گئ تھی کہ میں حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام کا خط جو مالک شتر کے نام ہے، اس کا انگریزی میں ترجمہ کروں۔چنانچہ میں نے یہیں یہ کام شروع کیا۔۔۔۔۔”

یہ مکتوب قائد اعظم محمد علی جناح (رح)کے حکم پر اکتوبر 1947ء میں ترجمہ ہوا اور دسمبر 1947ء میں اس کا پہلا ایڈیشن شائع ہوا۔

اس عھد نامہ میں کیا ہے ؟ وہ جب آپ خود مطالعہ فرمائیں گے تو حقیقت جان سکیں گے۔

حقیقت میں آج پاکستان کو جناب عمران خان صاحب "ریاست مدینہ” کے طرز پر چلانے کا مدعی ہے انہیں اس مکتوب میں مذکور بنیادی اصولوں کے مطابق حکمرانی کرنی چاہیے وگرنہ ان کا ریاست مدینہ والا خواب کبھی پورا نہیں ہوسکے گا۔

یہ عھد نامہ ” نھج البلاغہ” کا مکتوب نمبر53 ہے۔
حضرت علی علیہ السلام نےجب مصر میں امیر شام کی شورشوں کی وجہ سے حضرت محمد بن ابی بکر کی حکومتی رٹ کمزور پڑگئ تھی، تو اس وقت حضرت مالک اشتر نخعی(رح) کو مصر کا گورنر مقرر فرمایا تھا ،اس وقت ان کیلیے اس خط کو تحریر فرمایا تھا کہ وہ اس کے اندر بتائے اصولوں کے مطابق مصر میں کارحکومت کو انجام دے۔

یوں ظاہرا اس مکتوب میں حضرت کا مخاطب حضرت مالک اشتر میں مگر حقیقت میں یہ خط ہر زمانے اور ہر خطے کے حکمران کے نام ہے۔

اس خط میں نظام حکومت کو کس گہرائ سے بیان کیا گیا ہے اس کے بارے میں ایک عیسائ دانشور جورج جرداق اپنی مشہور زمانہ کتاب ” الامام العلی الصوت العدالة الانسانیة” کےصفحہ 188 میں لکھتے ہیں:

"اقوام متحدہ کے منشور اور حقوق انسانی کے اعلامیہ میں کوئ ایسا عنوان نہیں جس کی نظیر علی علیہ السلام کے دستور میں نہ پائ جاتی ہو، بلکہ حضرت کے دستور میں اس سے بہتر اور بالا ترین چیزیں موجود ہیں۔ میرے نزدیک دونوں دستوروں میں چار نمایاں فروق ہیں:

اول یہ کہ : اقوام متحدہ کے منشور کو دنیا کے ہزاروں عقلمندوں نے ملکر مترتب کیا ہے ،جو تمام ملکوں سے اکھٹے ہوۓ تھے ،لیکن دستور علوی کو صرف ایک ذات نے تحریر کیا ہے اور وہ ہیں علی ابن ابی طالب علیھما السلام۔

دوسری یہ کہ: علی علیہ اسلام ان سے چودہ سو سال پہلے تشریف لاۓ تھے۔

تیسری یہ کہ: اقوام متحدہ کا منشور وضع کرنے والے یا در حقیقت اس کا مواد اکھٹا کرنے والوں نے اپنی اس قدر خود ستائ کی کہ لوگ سنتے سنتے تھک گئے اور پھر لوگوں کے کاندھوں پر ہزاروں احسانات کا بارگراں بھی لادا گیا، لیکن علی علیہ السلام نے بارگاہ خداوندی میں خضوع و خشوع اور لوگوں میں فروتنی اور عاجزی اختیار کی۔ نہ اپنی برتری چاہی ، نہ بزرگی تلاش کی۔

چوتھی وجہ جو ان تینوں سے اہم ہے یہ کہ : اقوام متحدہ میں سے جنہوں نے حقوق انسانی کے منشور کی تدوین میں شرکت کی خود اس کو تسلیم کیا مگر اکثر نے خود ہی اس کو توڈ دیا اور ان عالمی قوانین کو پارہ پارہ کرنے اور ان حقوق کے باطل کرنے کیلیے لڑائ کے میدانوں میں فوجیں اتاردیں ، لیکن علی ابن ابی طالب علیھما السلام نے جس مقام پر قدم رکھا ، جس موقع پر بات کہی اور جس وقت نیام سے تلوار نکالی ، ہمیشہ جورو استبداد کا پردہ چاک کیا ، ظلم و ستم کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا اور زمین کو ہموار کیا تاکہ اس پر آسانی سے قدم بڑھائے جاسکیں۔ یہاں تک کہ انسانی حقوق کا دفاع کرتے ہوئے درجہ شہادت پر فائز ہوئے ، باوجودیکہ آپ ع اپنی زندگی میں ہزاروں بار شھید ہوچکے تھے”۔

قارئین کرام! حضرت علی علیہ السلام کے اس خط کی اہمیت اقوام متحدہ کے سابقہ سکریٹری جنرل کوفی عنان کے اس بیان سے بھی واضح ہوجاتی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا:

” پیغمبر حضرت محمد ﷺ کے بعد خلیفہ چہارم امام علی علیہ السلام نے مصر کے گورنر کو حکم دیا کہ تمام امور میں رحمت و رافت کو مدنظر رکھنا اور کہا : ” تمھارے نزدیک محبوب ترین ذخیرہ اعمال کا ذخیرہ ہونا چاہئے۔۔۔ ” ” رعایا کیلیے اپنے دل کے اندر رحم ورافت اور لطف و محبت کو جگہ دو۔ ان کیلیے پھاڑ کھانے والا درندہ نہ بن جاؤ کہ انہیں نگل جانے ہی کو غنیمت سمجھنے لگو۔ اس لیے کہ رعایا میں دو قسم کے لوگ ہیں : ایک تو تمھارے دینی بھائ اور دوسرے تمہارے جیسی مخلوق "۔

یاد رہے کہ اقوام متحدہ کی ” عرب ہیومن ڈویلپمنٹ رپورٹ 2002ء ” کے صفحہ 107 پر حضرت علی علیہ السلام کے کلام سے چھہ نکات نمونے کے طور پر درج کیے گئے ہیں اور ان میں چھٹا نکتہ اسی خط سے لیا گیا ہے، جہاں حضرت علی علیہ السلام چیف جسٹس کے انتخاب کا طریقہ کار بیان کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں :

"پھر یہ کہ لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کرنے کیلیے ایسے شخص کو منتخب کرو جو تمھارے نزدیک تمھاری رعایا میں سے سب سے بہتر ہو ، جس کا دل واقعات کہ پیچیدگیوں سے تنگ نہ ہوتا ہو ، اور نہ جھگڑنے والوں کے رویہ سے غصہ میں آتا ہو۔۔۔ "۔

قارئین کرام! اگر اس آفاقی قانون کو حکومت پاکستان چیف جسٹس کے انتخاب میں دستور اساسی قرار دے تو کیا اسلامی جمہوریہ پاکستان صحیح معنی میں "ریاست مدینہ” کا مصداق نہیں بن سکتا ہے!!؟

مزید بر آں کہ اس آفاقی منشور کی عظمت و رفعت اور گہرائ و گیرائ کے متعلق مولانا ابو الکلام آزاد کے قریبی ساتھی اور عربی رسالہ ثقافة الہند کے مدیر اعلی عبد الرزاق ندوی ملیح آبادی لکھتے ہیں :

” یہ نہایت قیمتی دستاویز ہے۔ حیرت ہوتی ہے کہ اس زمانے میں نہ کالج تھے نہ یونیورسٹیاں تھیں ، علم سیاست مدون ہوا تھا نہ عربوں کو حکمرانی کا تجربہ تھا ، اس کے باوجود امیر المومنین علیہ السلام نے انتہائ اختصار و بلاغت سے حکمرانی اور سیاست مدن کے اصول اس طرح اس تحریر میں جمع کر دئے ہیں کہ آج بھی ان سے متمدن حکمران مستغنی نہیں ہوسکتے ”

عصر حاضر میں جامعہ الازہر مصر کےسربراہ معروف علمی و سیاسی شخصیت شیخ محمد عبدہ نے اس عھدنامہ کے متدد علمی ، ادبی، اخلاقی ، اور سیاسی نکات کی طرف اشارہ کیا ہے۔

پاکستان میں یہ عھدنامہ جماعت اسلامی کے ادارے کی جانب سے متعدد بار کتابی صورت میں طباعت کے مراحل سے گزر چکا ہے۔

قارئین کرام آپ کے علم میں ہو کہ اس سے قبل سابقہ وزیر اعظم پاکستان جناب ملک معراج خالد نے بھرپور کاوش کی تھی کہ یہ عھدنامہ پاکستان کا دستور اساسی قرار پائے لیکن ان کی یہ خواھش کی بدقسمتی سے تکمیل نہ ہوسکی۔

موجودہ عمران خان کی حکومت بھی اگر اسلامی جمھوریہ پاکستان کو حقیقی معنی میں ” ریاست مدینہ” کا مصداق بنانا چاہتی ہے تو اس خط کو پاکستان کے منشور اساسی کے طور پر تسلیم کرنا چاہیے۔

اس لیے کہ یہ عھد نامہ جسے اسلام کا دستور اساسی کہا جاکتا ہے، اس ہستی کا ترتیب دیا ہوا ہے جو قانون الہی کا رسول اللہ ﷺ کے بعد سب سے بڑا واقف کار اور سب سے ذیادہ خود سختی سے عمل پیرا تھا۔

ان اوراق سے امیرالمومنین علیہ السلام کے طرز جہانبانی کا جائزہ لے کر یہ فیصلہ کیا جاسکتا ہے کہ ان کے پیش نظر صرف قانون الہی کا نفاذ اور اصلاح معاشرت ہی پوری زندگی کا ہم و غم تھا۔ نہ آج کے رہنماوں کی شکل میں راہزنوں کی طرح پورے ملک کو لوٹنا، امن عامہ کا سودا کر کے پور ملک کو دھشت گردی کی بھینٹ چڑھانا اور توسیع سلطنت کیلیے ہر جائز و ناجائز وسائل سے آنکھ بند کر کے سعی و کوشش کرنا۔الامان و الحفیظ۔

اب یہ فرض اولا ہم پیروان امیر المومنین پر ہے اور ثانیا پوری امت مسلمہ پر ہے کہ ہم حضرت کے ہزاروں سال قبل بتائے ہوئے انسانی حقوق کے عالمی منشور کو دینا کے سامنے کیسے پیش کریں، تاکہ آج کی مشکلات میں گھری ہوئ دنیا امن و آشتی کی جانب گامزن ہو سکے۔

وگرنہ تو ہم "آب در کوزہ و ما تشنہ لباں می گردیم” کے مصداق جس طرح اس وقت قرار پاچکے ہیں اسی طرح آئندہ بھی قرار پاتے رہینگے۔

اللہ تعالی ہمیں حضرت کے اس آئین حکمرانی کی اپنے ملک میں تنفیذ اور پھر پوری دنیا کے سامنے پیش کرنے کی ہمت و جرائت سے نوازے۔

نوٹ: ابلاغ نیوز کی پالیسی کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

عدالت عظمیٰ کا بابری مسجد کے حوالے سے تامل برانگیز فیصلہ اور ہندوستان کے مسلمان

تحریر: خیبر تحقیقاتی ٹیم جیسا کہ پہلے سے امید کی جا رہی تھی اور حالات …