جمعرات , 21 نومبر 2019

جمہوری اسلامی اور تھیوکریسی (حصہ سوم)

تحریر: سید امتیاز علی رضوی

حقیقت یہ ہے کہ Theocracy اپنے لغوی اور اپنے اصل تصور کے لحاظ سے بالکل درست ہے کہ اس کائنات میں حاکمیت کا حق درحقیقت اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے، اور انسان جو بھی حکومت قائم کرے اسے اللہ تعالیٰ کے احکام کے تابع ہونا چاہئے لیکن اسلام کے علاوہ دیگر مذاہب بشمول عیسائیت، یہودیت اور ہندو مذہب میں چونکہ اس تصور کو ٹھیک ٹھیک نافذ کرنے کا کوئی راستہ نہیں تھا اس لئے انہوں نے اسے بگاڑ کر مذہبی پیشواؤں کی حاکمیت میں تبدیل کردیا جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج جب تھیوکریسی کا نام لیا جاتا ہے تو اس سے کوئی بھی اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کا مفہوم نہیں سمجھتا بلکہ اسے مذہبی پیشواؤں کی حاکمیت ہی سمجھا جاتا ہے چنانچہ سیاست کی اردو کتابوں میں بھی اس کاترجمہ مذہبی پیشوائیت کے نام سے کیا جاتا ہے اور ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بجائے مذہبی پیشواؤں کو حاکمیت کا درجہ دیدینا وہ بدترین شرک ہے جس کی مذمت قرآن کریم نے بھی کی ہے۔ لہذا ہم بھی اس مضمون میں آئندہ تھیوکریسی کو اس کے رائج منفی معنی ہی میں استعمال کریں گے۔

یہ واضح ہے کہ اسلام عیسائیت کی طرح محض اخلاقی تعلیمات کا مجموعہ نہیں ہے، یہ زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی عطا کرتا ہے۔ ریاستی اُمور چلانے کے لئے اسلام کا اپنا ضابطہ حیات ہے۔ اسلام میں کلیسا کی طرح کوئی “Hierarchy” نہیں ہے جس میں پوپ، کا رڈینل، چیف بشپ، پادری یا فادر پر مبنی درجہ بہ درجہ کلیسائی نظم ہو۔ اسلام نے حکمرانی کا حق کسی مخصوص طبقہ کو تفویض نہیں کیا جو خدائی مشن کا نام لے کر اقتدار پر قابض ہوجائے اور اپنی من مانی کرتا پھرے۔ اسلام میں مطلوبہ صلاحیت رکھنے والے ہر شخص کو حکمران بننے کا حق ہے چاہے اس کا کسی بھی نسل یا قبیلہ سے تعلق ہو۔ قریش کی حکمرانی کا تصور بھی ایک پیش گوئی کی حیثیت رکھتا ہے نہ کہ قابلیت کا معیار۔

اسلام میں ختم نبوت کے بعد اور اہل تشیع میں زمانہ غیبت امام مہدی میں جو شخص بھی حکمراں بنایا جاتا ہے اس کی اصلی حیثیت ایک نائب ہی کی سی ہوتی ہے اور وہ تنقید سے بالاتر نہیں ہوتا ۔ قانون کی نگاہ میں اس کی حیثیت عام شہریوں کے برابر ہوتی ہے ، اس کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کیا جاسکتا ہے اور وہ عدالت میں کسی امتیازی برتاؤ کا مستحق نہیں ہوتا۔ اسے مشورہ کے ساتھ کام کرنا ہوتا ہے۔

اہل مغرب کے تعصب کا حال یہ ہے کہ جب وہ کسی بھی موضوع سے متعلق مختلف نظریات کی تاریخ بیان کرتے ہیں تو ان میں اسلامی تعلیمات یا مسلمان مفکرین کی خدمات کاکوئی ذکر نہیں کرتے۔ سیاسی نظریات کی تاریخ میں بھی یہی ہوا ہے کہ وہ سیاسی نظریات کی تاریخ ارسطو اور افلاطون سے شروع کرتے ہیں اور پھر عیسائی دور پر پہنچنے کے بعد کئی صدیوں کی چھلانگ لگا کر وولٹائر، مونتیسکو اور روسو پر پہنچ جاتے ہیں اور اس بات کا کوئی ذکر تک نہیں کرتے کہ درمیان میں ایک طویل عرصہ اسلامی حکومتوں کا گزرا ہے جس میں سیاست کا ایک مختلف تصور پیش کیا گیا ہے۔ چنانچہ خدائی اصل کا نظریہ بیان کرتے ہوئے اس کے تحت صرف اس تھیوکریسی کی باتیں بیان کی جاتی ہیں جو یہودیوں، عیسائیوں یا ہندؤں کی تھیوکریسی سے متعلق ہیں لیکن اس بات کا کہیں ذکر و فکر نہیں ہے کہ اسلام میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کو کس طرح سیاست کی بنیاد پر بنایا گیا ہے ۔ اگر صرف مورخانہ دیانت ہی پر عمل کرلیا جاتا تو کم از کم ایک نظریہ کے طور پر تو یہ بات ذکر کی جاتی کہ اسلام کا تصور سیاست کیا ہے اور اس کے تحت کس قسم کی حکومتیں قائم ہوئی ہیں؟ اور حاکموں اور حزب مخالف کے درمیان کن باتوں پر اختلاف نظر ہوتا تھا خصوصاً امام حسین علیہ السلام کا یزید کی حکومت پر اصل اعتراض کیا تھا؟ اگر اسلام کی رو سے حاکم خدا کا نمائندہ تھا تو پھر یہ قیام نواسہ رسول کیوں ہوا؟

چونکہ عالم اسلام اپنے مذہب کو مکمل اور جامع سمجھتا ہے اور اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ اس دین کے پاس اللہ کی ہدایت کردہ تعلیمات کا مجموعہ موجود ہے جو اصل میں انسانیت کی نجات کا ہی پروگرام ہے لہذا اسلامی ممالک میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لئے کئی تحریکیں اٹھیں جن کی تعداد کم نہیں ہے ۔ چونکہ ان کی اکثریت ناکامی کا شکار رہی ہے لہذا اس سے یہ تاثر اُبھرا ہے کہ اسلامی نظام کی تشکیل عملی طور پر ممکن نہیں پھر صرف مذہبی رہنماؤں کا ان تحریکوں کی قیادت کرنا اور اس میں شدت پسندی کے رجحان کو داخل کرنا پھر ان افراد کا انتشار اور نفرت انگیزی اور مزاجوں میں سختی نے اس تاثر کو اور بھی تقویت دی ہے کہ اسلامی نظام بھی قابل نفاذ نہیں ہے۔ اس تناظر میں اسلامی نظام کے نفاذ کے نعرے کو تھیوکریسی کی ہی ایک شکل سمجھا جانے لگا ہے یعنی اس نظام کا نفاذ یعنی ملاؤں کی من پسند اور سخت گیر حکومت جیسے حالیہ دنوں میں افغانستان میں طالبان اور عراق و شام کے کچھ علاقوں میں داعش کی سخت گیر حکومتیں۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ: ابلاغ نیوز کی پالیسی کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

عدالت عظمیٰ کا بابری مسجد کے حوالے سے تامل برانگیز فیصلہ اور ہندوستان کے مسلمان

تحریر: خیبر تحقیقاتی ٹیم جیسا کہ پہلے سے امید کی جا رہی تھی اور حالات …