جمعرات , 21 نومبر 2019

عراق میں پرتشدد مظاہرے، وجوہات اور اہداف (آخری حصہ)

ابنِ حسن

عراق میں ہونے والے حالیہ پرتشدد مظاہروں کا ایک ہدف موجودہ عراقی حکومت کو گرانا، کمزور کرنا یا عقب نشینی پر مجبور کرنا ہے۔ اگر موجودہ عراقی حکومت گرتی ہے تو عراقی نظام میں ابھی اتنی سکت نہیں ہے کہ وہ فوری طور پر متبادل حکومت لا سکے اور بغیر حکومت کے ملک یعنی ملکی نظام کو متزلزل کرنا اور یہی وہ ہدف ہے جو عراقی قوم کے دشمن کے پیش نظر ہے۔ یہ بات جہاں عراقی سیاسی جماعتوں کے سربراہان کو سمجھنی ہوگی وہیں مذہبی قیادت اور حکومت کو بھی سیاسی استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

حکومتی خامیوں کو برطرف کرنے اور عوامی معیار زندگی بہتر بنانے کی کوشش انتہائی ضروری بلکہ حکومت کے وجود کا بنیادی فلسفہ ہے۔ لیکن عراق کا موجودہ سیاسی نظام اگر متزلزل ہوا تو معیار زندگی میں بہتری کجا عراق آج سے بیس سال پیچھے چلا جائے گا۔ عراق کو اس وقت سیاسی استحکام کی اشد ضرورت ہے۔ سیاسی استحکام کو کسی محدود گروہ کے سیاسی شعور کے ارتقاء کی مشق کی نظر نہیں کیا جاسکتا۔

حالیہ پرتشدد مظاہروں کا چہلمِ امامِ حسین ع کی تقریبات سے کیا تعلق ہے؟۔ اربعینِ حسینی کی حالیہ تقریبات جن میں کروڑوں لوگ شرکت کرتے ہیں اور یہ تقریبات اس وقت دنیا میں نہ فقط مذہب تشیع بلکہ اسلامی تعلیمات کی ترویج و تبلیغ کا انتہائی موثر ذریعہ بنتی جارہی ہیں۔ اتنی وسیع سطح پر ان تقریبات کا آغاز عراقی آمر صدام کے سقوط کے بعد ہوا ہے۔ عراق میں اگر دوبارہ کسی قسم کا سیاسی عدم استحکام یا نظام میں خلل ایجاد ہوتا ہے تو سب سے پہلے جو چیز متاثر ہو گی وہ چہلمِ امام حسین ع کی تقریبات ہیں۔

چہلم امامِ حسین ع کے وسیع انتظامات کی اجازت، اس میں مدد، ٹرانسپورٹ کی فراہمی، سیکورٹی، دوسرے ممالک سے شرکت کرنے والے زائرین کے ویزا اور دیگر دسیوں امور ایسے ہیں جو براہ راست حکومتی دائرہ کار میں آتے ہیں اگر عراق میں حکومت گرتی یا نظام میں کسی قسم کی تبدیلی آتی ہے تو یہ تمام امور متاثر ہوں گے جن سے چہلم امام حسین ع کی تقریبات براہ راست متاثر ہوں گی۔

علاوہ ازیں پرتشدد مظاہرے سب سے پہلے ملکی امن و امان کو متاثر کرتے ہیں اگر حالیہ پرتشدد مظاہرے مزید چند دن جاری رہتے تو جہاں ایک طرف زائرین کے راستے ناامن ہوجاتے وہیں سرحدیں اور ایئرپورٹس بھی بند ہوجاتے، دیگر ممالک اپنے زائرین کو عراق کے سفر سے منع کردیتے جو کہ براہ راست اربعین کی تقریبات کو متاثر کرتا جیسا کہ ایران نے وقتی طور پر عراق کے ساتھ لگنے والے 4 میں سے 2 بارڈرز کو بند اور اپنے شہریوں کو حالات کی بہتری تک عراقی سفر سے منع کردیا تھا۔

اگر یہ صورتحال جاری رہتی اور کسی بڑے بحران کی شکل اختیار کرلیتی تو چہلمِ امام حسین ع کی تقریبات بری طرح متاثر ہوتیں۔ ہم اپنی سادگی کیوجہ سے شاید یہی سمجھتے رہیں کہ مظاہرین کا ہدف صرف عراق کے داخلی مسائل تھے انہیں چہلم امام حسین ع سے کوئی سروکار نہیں تھا لیکن ان مظاہروں کو تشدد کی طرف دھکیلنے والے کے پیش نظر اس سناریو کے تمام پہلوؤں ہیں۔

ان پرتشدد مظاہروں کا وقت ہماری اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ عین اس وقت جب چہلمِ امام حسین ع کی تقریبات میں سے صرف ایک ہفتہ باقی رہ گیا تھا اس وقت ملک کو ایک مشکوک اندرونی بحران کی طرف دھکیلا جارہا تھا جس کی قیادت عراقی سیاسی قیادت کررہی تھی نہ مذہبی قیادت بلکہ اس کھیل کے تمام نہیں تو اکثر مہرے خفیہ ہاتھ چل رہے تھے۔ لہذا صرف عراقی عوام کی مشکلات اور مسائل کو ان مظاہروں کی بنیادی وجہ قرار دینے والے دوست اس حوالے سے انتہائی سادگی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔

نوٹ: ابلاغ نیوز کی پالیسی کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

عدالت عظمیٰ کا بابری مسجد کے حوالے سے تامل برانگیز فیصلہ اور ہندوستان کے مسلمان

تحریر: خیبر تحقیقاتی ٹیم جیسا کہ پہلے سے امید کی جا رہی تھی اور حالات …