بدھ , 13 نومبر 2019

شام کا شمالی محاذ، بات کہاں تک پہنچے گی؟

تحریر: ثاقب اکبر

گذشتہ بدھ (9 اکتوبر 2019ء) کو ترک افواج نے اپنی جنوبی اور شام کی شمالی سرحد کی طرف پیش قدمی شروع کی اور اس کا مقصد شام کے شمالی علاقے سے ایس ڈی ایف (سیرین ڈیموکریٹک فورسز) کے اقتدار کا خاتمہ قرار دیا، جو ترک حکومت کے بقول ترکی کی کالعدم کرد تنظیم کردستان ورکز پارٹی کی توسیع ہے، جو ترکی سے آزادی حاصل کرنے کے لیے گذشتہ کئی دہائیوں سے سرگرم عمل ہے۔ ترکی کے صدر اردغان نے شام کے اندر ترکی کے بارڈر پر کرد علاقوں کو اپنا سیکورٹی زون بنانے کا اعلان کیا اور کہا کہ ترکی میں موجود شامی پناہ گزینوں کو اس سیکورٹی زون میں آباد کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ ترکی کے صدر اردغان اور امریکی صدر ٹرمپ کے مابین ہونے والی گفتگو کے بعد ترکی نے یہ فیصلہ کیا، کیونکہ صدر ٹرمپ نے اس خطے سے امریکی افواج نکالنے کا اعلان کردیا تھا، جسے عالمی سطح پر ترکی کے لیے گرین سگنل قرار دیا گیا۔ اس خطے میں امریکا کردوں کی سربراہی میں قائم عسکری اتحاد وائی پی جے (پیپلز پروٹیکشن یونٹس) کی سرپرستی کررہا تھا۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اسی خطے میں دس ہزار داعشی قید ہیں۔ اب جب امریکا نے شامی کردوں کے سرپر سے ہاتھ اٹھا لیا، تو ترکی کے لیے آسان ہو گیا کہ وہ اپنی دیرینہ خواہش کو پورا کرتے ہوئے شام کے ایک خطے پر اپنے عذر ہائے لنگ کے بہانے قبضہ کر لے۔

دیکھنا یہ ہے کہ ترکی کی اس پیش رفت کا اب تک کیا نتیجہ نکلا ہے اور اسے دنیا میں کس کس زاویے سے دیکھا جارہا ہے۔ ہم نے 9 اکتوبر 2019ء کو لکھے گئے اپنے ایک کالم میں یہ کہا تھا کہ ”اس امر کا امکان موجود ہے کہ کرد اور شامی حکومت آپس میں اتحاد کر لیں اور کرد شامی فوج کی کمان میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہو جائیں، اگر ایسا ہو گیا تو ترکی کے لیے مداخلت کا جواز ختم ہوجائے گا، کیونکہ شام کی حکومت کو اپنے پورے خطے پر اپنا اقتدار اعلیٰ بحال کرنے کا قانونی جواز حاصل ہے۔“ہماری اس پیشگوئی کے مطابق کردوں اور شامی حکومت کے مابین دو روز پہلے (14 اکتوبر کو) ہونے والے اتفاق رائے کے نتیجے میں شامی فوج کردوں کے زیر اثر علاقوں میں داخل ہونا شروع ہو گئی اور اب تک وہ قامشلی، حسکہ، منبج، کوبانی، عین العرب، عین العیسی، طبقہ، منصورہ اور دیگر شہروں اور قصبوں پر شامی پرچم لہرا چکی ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق بہت جلد شامی افواج الرقہ میں بھی داخل ہو جائیں گی، جہاں کے عوام سڑکوں پر بے چینی سے شامی فوجوں کا استقبال کرنے کے لیے موجود ہیں۔ اس سے پہلے شامی فوج جس علاقے میں بھی گئی ہے وہاں عوام نے اس کا والہانہ استقبال کیا ہے۔

دوسری طرف یہ بات قابل ذکر ہے کہ صدر اردغان اگرچہ شامی حکومت کے سخت خلاف ہیں، لیکن انھیں گذشتہ روز یہ کہنا پڑا ہے کہ صوبہ حلب کے شہر منبج میں شامی افواج کا داخلہ کوئی بری خبر نہیں ہے، صرف وہاں پر دہشتگردوں کو نہیں ہونا چاہیے۔ ادھر ترکی کی افواج بھی مختلف اطراف میں پیش قدمی کررہی ہیں، جسے شام میں ترکی کی اتحادی نیشنل آرمی کی حمایت حاصل ہے۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق شام کے شمال مشرقی علاقوں میں کردوں کے خلاف ترکی کے فوجی آپریشن میں نیشنل آرمی کے جنگجوﺅں کی ایک بڑی تعداد ترک فوجوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔اس نیشنل آرمی میں ترکی کی سرپرستی میں شامی حکومت کے خلاف کئی برسوں سے نبردآزما مختلف گروہ شامل ہیں۔ 2011 سے ترکی کی طرف سے ان کو مالی اور فوجی امداد ملتی رہی ہے۔ اس نیشنل آرمی میں مختلف گروہ شامل ہیں، جن میں ادلیب میں موجود جنگجوﺅں کا ایک بڑا گروہ نیشنل لبریشن فرنٹ بھی شامل ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کے نزدیک امریکا کے کردوں کی پشت خالی کرنے کا فیصلہ کئی جہتیں رکھتا ہے اور اس میں چھپے ہوئے راز آہستہ آہستہ سامنے آئیں گے۔ ہمارے نزدیک ان میں سے ایک اہم مقصد داعش کو ایک نئی قوت اور ہدف فراہم کرنا ہے۔

کردوں کو جب ترکی سے جنگ کا سامنا کرنا پڑ گیا ہے، تو وہ اب دس ہزار داعشیوں کی حفاظت نہیں کر سکتے، لہٰذا مختلف جیلوں سے داعشیوں کے فرار کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ اگرچہ صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ اب داعشیوں کو سنبھالنا ترکی کے ذمہ ہے، لیکن ترکی داعش کے خلاف نہیں، بلکہ کردوں کے خلاف کارروائی کا اعلان کرکے شام میں داخل ہوا ہے۔ امریکی افواج کے ایک بیان کے مطابق امریکی ہیلی کاپٹروں نے داعشی گروہ سے تعلق رکھنے والی پچاس خواتین کو عراقی کردستان میں منتقل کر دیا ہے۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق امریکا کا ارادہ ہے کہ تین ہزار داعشیوں کو شام سے نکال کر عراق میں منتقل کر دے۔ اس سلسلے میں امریکا نے عراق میں تین علاقوں کو منتخب کیا ہے۔ ان خبروں پر خود عراقی حکومت نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے، جو پہلے ہی داعش کے خلاف کئی برسوں سے نبردآزما ہے۔ بعض تجزیہ نگاروں کی رائے ہے کہ امریکا نے داعش کو پھر سے منظم کرنے اور لانچ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس لیے اس نے اپنا محاذ تبدیل کر لیا ہے۔ وہ امریکی افواج جو شمالی شام سے نکلی ہیں، انھیں عراق اور اردن کے مختلف مقامات پر متعین کیا جارہا ہے۔ ایک اطلاع کے مطابق کئی سو داعشی اب تک شام کے شمالی علاقے میں موجود جیلوں سے فرار کر چکے ہیں۔

ترکی کے فوجی اقدام کی پوری دنیا میں مخالفت کی جارہی ہے، یہاں تک کہ خود امریکا بھی اس مخالفت میں شامل ہو گیا ہے۔ امریکا کی تاریخ میں یہ پہلا موقع نہیں کہ وہ کسی ملک کو فریب دے کر جنگ کے لیے اکساتا ہے اور پھر اسی کے خلاف سرگرم عمل ہو جاتا ہے۔ اس سلسلے میں صدام کو کویت میں مداخلت کا اشارہ دینے کے بعد عراق پر امریکی افواج کی چڑھائی کی تاریخ کوئی زیادہ پرانی نہیں ہے۔ امریکا نے بعض ترک وزارتوں اور اہم وزراء پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکا نے ترکی کے صدر سے فوری جنگ بندی کی جو اپیل کی ہے، ترک صدر رجب طیب اردغان نے اسے مسترد کردیا ہے۔ امریکی نائب صدر مائیک پینس اور وزیر خارجہ مائیک پومپیو ترک صدر سے ملاقات کے لیے استنبول پہنچنے والے ہیں۔ البتہ یہ کہے بغیر واضح ہے کہ امریکا کوئی ایسی پابندیاں عائد نہیں کرے گا، جن کا امریکا کو نقصان ہو، لیکن اگر کسی بہانے سے ترکی کی معیشت کو نقصان پہنچ سکتا ہے تو امریکا اس سے گریز نہیں کرے گا۔ امریکی وزیر خزانہ سٹیون منوشن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ترکی کے خلاف عائد کی گئی پابندیاں بہت سخت ہیں، جو ترکی کی وزارت دفاع اور وزارت توانائی کے خلاف ہیں۔ انھوں نے متنبہ کیا کہ یہ پابندیاں مزید شدید ہوتی چلی جائیں گی۔ شاید ان پابندیوں کا ایک مقصد ترکی کو روس کے ساتھ دفاعی معاہدوں کی سزا دینا بھی ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ شامی افواج کو روس کی مدد حاصل ہے۔ روس کے زمینی فوجی دستے شامی فوج کے ساتھ منبج میں داخل ہوئے ہیں۔ روس کی فضائیہ بھی خطے میں موجود ہے۔ روس کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ شامی اور ترک فوجوں کو ایک دوسرے کے خلاف لڑنے نہیں دیں گے۔ کینیڈا اور بعض یورپی ممالک نے بھی ترکی کے خلاف بعض پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔ ان ممالک نے ترکی کو ہتھیاروں کی سپلائی روک دی ہے۔ یورپی یونین کی طرف سے بھی پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔ تاہم ترک صدر اردغان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہم اپنے مقاصد حاصل کرکے رہیں گے اور ان پابندیوں کا ہمارے فیصلوں پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔ ترک صدر نے ایک بیان میں پاکستان کی طرف سے ترکی کے اقدام کی حمایت پر پاکستان کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ شاید اس اعلان حمایت کے بعد کسی روز پاکستان کو یہاں بھی ثالثی کا ڈول ڈالنا پڑے، ہو سکتا ہے کہ ایسا خود ترکی کے کہنے پر کرنا پڑ جائے۔ قطر نے بھی ترکی کے اقدام کی حمایت کی ہے، جب کہ عرب لیگ نے ترکی کے اس اقدام کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے، اگرچہ عرب لیگ کے شامی حکومت سے ایک عرصے سے اچھے تعلقات نہیں ہیں۔

جس طرح سے شامی فوج پیش رفت کر رہی ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2012ء سے شامی فوج جن شمالی علاقوں میں موجود نہیں رہی، اب ان کا بڑا حصہ اس کے زیر تسلط آ جائے گا، اگرچہ کچھ علاقہ ترکی اور اس کی حمایت میں لڑنے والے دہشت گرد گروہوں کے قبضے میں بھی رہے گا۔ اس کے بعد کیا ہوگا شاید ترکی، ایران اور روس کو پھر ایک مرتبہ ایک میز پر بیٹھنا پڑے اور شاید وہ وقت جلد آجائے، جب ترکی کو دمشق کے نمائندوں کے ساتھ بیٹھ کر بات کرنا پڑجائے۔ وہ دن دور دکھائی نہیں دیتے، جب شام کی اپنے تمام علاقوں پر حاکمیت اعلیٰ کو قبول کیے بغیر ترکی کے لیے کوئی چارہ نہ رہے۔ اگرچہ اس میں چند مشکل مقامات ضرور آئیں گے۔ ترکی کو فیصلہ کرنا پڑے گا کہ ترکی کی جو سرحدیں اس وقت موجود ہیں، ترکی کو ان ہی کے اندر رہنا ہے اور بدلی ہوئی دنیا کے تقاضے خلافت عثمانیہ کے احیاء کی اجازت نہیں دیتے۔ دنیا میں نئے حقائق رونما ہو چکے ہیں اور مختصر عرصے میں مزید نئے حقائق رونما ہونے والے ہیں۔ علامہ اقبال نے سچ کہا ہے؎

مری صراحی سے قطرہ قطرہ نئے حوادث ٹپک رہے ہیں
میں اپنی تسبیح روز و شب کا شمار کرتا ہوں دانہ دانہ

نوٹ: ابلاغ نیوز کی پالیسی کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

پاکستان اور روس رفتہ رفتہ قریب آرہے ہیں

تحریر: ثاقب اکبر ”معاملہ سیدھا سیدھا ہے۔ بین الاقوامی سیاست میں نہ مستقل دشمنیاں ہوتی …