جمعرات , 21 نومبر 2019

بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا

نئی دہلی:  بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد اور رام جنم بھومی کے درمیان تنازع کے حوالے سے کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا، جس کے حوالے سے امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ فیصلہ 17 نومبر سے قبل سنائے گا۔

بھارتی نشریاتی ادارے ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رنگن گوگوئی کی سربراہی میں قائم 5 رکنی بینچ نے دلائل کو نمٹاتے ہوئے فریقین کو 3 دن کے اندر اپنا تحریری بیان دینے اور تحفظات سے آگاہ کرنے کی ہدایت کی۔

واضح رہے کہ یہ بھارت کی تاریخ کا دوسرا طویل ترین کیس ہے جس کی 40 سماعتیں ہوئیں اور آج بھارت کی عدالت عظمیٰ نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔

اس سے قبل طویل ترین مقدمہ 1972 کا کیساونندا بھارتی کیس تھا جہاں 13 ججوں پر مشتمل بینچ نے پارلیمنٹ کی طاقت کے حوالے سے فیصلہ دینے سے قبل مقدمے کی 68دن تک سماعت کی تھی۔

قبل ازیں بابری مسجد سے متعلق کیس کی سماعت پر چیف جسٹس نے بھارتی سپریم کورٹ میں ہندو مہاسبھا پارٹی کی جانب سے دلائل کے لیے مزید مہلت سے متعلق دائر درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’بس بہت ہوگیا‘۔

بھارتی چیف جسٹس دہائیوں سے زیرِ سماعت اس کیس کے 5 رکنی بینچ کے سربراہ تھے، جس میں اس بات کا فیصلہ ہونا ہے کہ بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر ہونی چاہیے یا نہیں۔

بدھ کو ہونے والی یہ سماعت بھارت میں بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر سے متعلق کیس کی 40ویں سماعت تھی۔

اس حوالے سے این ڈی ٹی وی کی رپورٹ میں بتایا کہ 3 رکنی ایودھیا ثالثی پینل کی جانب سے آج مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی رپورٹ جمع کروائے جانے کا امکان تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت کی سپریم کورٹ کی جانب سے 17 نومبر کو چیف جسٹس راجن گوگوئی کی مدت ملازمت مکمل ہونے سے قبل فیصلہ سنائے جانے کا امکان ہے۔

خیال رہے کہ 2 روز قبل بھارتی حکام نے سپریم کورٹ میں حتمی دلائل کے آغاز پر عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کردی تھی۔

یہ بھی دیکھیں

یمن کے کوسٹ گارڈز نے 3 کشتیوں کو ضبط کرلیا

    صنعا: یمن کے کوسٹ گارڈز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یمن …