جمعرات , 21 نومبر 2019

ترک صدر کے نام ٹرمپ کا دھمکی آمیز خط جعلی ہے یا اصلی؟

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ترک ہم منصب رجب طیب اردوان کے نام دھمکی آمیز خط کے جعلی یا اصلی ہونے کی سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی۔

تفصیلات کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک بحث چھڑ چکی ہے جس میں ٹرمپ اردوان کو ایک خطے کے ذریعے دھمکی دے رہے ہیں۔

غیر ملکیی خبر رساں ادارے کے مطابق خط کو غیرسفارتی مندرجات پر جعلی سمجھا گیا، جبکہ امریکی ٹی وی کی اینکر نے ٹرمپ کا خط ٹوئٹ کردیا۔

امریکی صحافی پیٹر الیگزینڈر نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ خط اصلی ہے اور وائٹ ہاؤس نے اس کی تصدیق بھی کردی ہے۔

مذکورہ خط کے متن میں ترک صدر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ آپ کے مسائل حل کرنے کے لیے میں نے محنت کی، آپ دنیا کو مایوس نہ کریں، آپ ڈیل کرسکتے ہیں، اردوان بیوقوفی نہ کریں۔

خط میں امریکی صدر کی جانب سے ترکی کو ڈیل کی بھی پیشکش کی گئی، ٹرمپ نے خبردار کیا کہ ترکی ہزاروں افراد کے قتل عام کا ذمے دار نہ بنے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی کو معاشی طور پر تباہ کرنے کی بھی دھمکی دی، ان کا کہنا تھا کہ اگر آپ نے انسانیت کے لیے کام کیا تو تاریخ آپ کو اچھے انداز میں یاد رکھے گی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ کرد ترکی سے مذاکرات کرنے اور لچک دکھانے کو تیار ہیں، ترک صدر شام کے مسئلے پر سخت مؤقف اختیار نہ کریں۔

یہ بھی دیکھیں

روس کا سعودی عرب میں امریکی فوجیوں کے تعینات ہونے پر انتباہ

ماسکو: روس کے نائب وزیر خارجہ بوگدانوف نے سعودی عرب میں امریکی فوجیوں کے تعینات …