جمعرات , 21 نومبر 2019

پاکستان گرے لسٹ سے نکلے گا یا نہیں؟ فیصلہ آج ہوگا

پیرس: پاکستان کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف)کی گرے لسٹ سے باہر نکالنے یا نہ نکالنے کا فیصلہ آج ہوگا۔

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ہونے والے ایف اے ٹی ایف کے اجلاس کا آج آخری روز ہے جس میں پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے یا نہ نکالنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق پاکستان کو بلیک لسٹ کیے جانے کا کوئی امکان نہیں ہے کیونکہ پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے ایکشن پلان کے زیادہ تر نکات پر عملدرآمد کر لیا ہے۔

ایف اے ٹی ایف اجلاس: ‘پاکستان کو بلیک لسٹ کیے جانے کے امکانات کم ہوگئے’

ذرائع نے بتایا کہ پاکستان گرے لسٹ سے باہر نکلنے کے بہت پُرامید ہے اور مثبت فیصلہ آئے گا تاہم آج ایف اے ٹی ایف کےصدر پیرس میں ایک پریس بریفنگ کےذریعے حتمی فیصلوں کا اعلان کریں گے ۔

ایف اے ٹی ایف کے جائزہ اجلاس میں وفاقی وزیر اقتصادی امور حماد اظہر کی قیادت میں پاکستان کا 5 رکنی وفد شریک ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے پاکستان نے 8 ماہ کے دوران ایف اے ٹی ایف کے اہداف پر بھرپور توجہ سے کام کیا ہے جس کے نتیجے میں پاکستان کا نام بلیک لسٹ میں جانے کے خدشات نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے ارکان کی تعداد 37 ہے جس میں امریکا، برطانیہ، چین، بھارت اور ترکی سمیت 25 ممالک، خیلج تعاون کونسل اور یورپی کمیشن شامل ہیں۔

تنظیم کی بنیادی ذمہ داریاں عالمی سطح پر منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے لیے اقدامات کرنا ہیں۔

عالمی واچ لسٹ میں پاکستان کا نام شامل ہونے سے اسے عالمی امداد، قرضوں اور سرمایہ کاری کی سخت نگرانی سے گزرنا ہوگا جس سے بیرونی سرمایہ کاری متاثر ہوگی اور ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل 2012 سے 2015 تک بھی پاکستان ایف اے ٹی ایف واچ لسٹ میں شامل تھا۔

یہ بھی دیکھیں

روس کا سعودی عرب میں امریکی فوجیوں کے تعینات ہونے پر انتباہ

ماسکو: روس کے نائب وزیر خارجہ بوگدانوف نے سعودی عرب میں امریکی فوجیوں کے تعینات …