بدھ , 13 نومبر 2019

ایف اے ٹی ایف: ’حالیہ کارروائیوں کے بعد پاکستان میں کالعدم تنظیمیں مالی مشکلات کا شکار ہیں‘

شہزاد ملک

پاکستان نے فرانس کے دارالحکومت پیرس میں جاری فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے اجلاس میں گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے گذشتہ چھ ماہ کے دوران جس معاملے پر سب سے زیادہ کام کیا ہے وہ دہشت گردی اور کالعدم تنظیموں کو ملنے والی مالی امداد کی روک تھام ہے۔

متعلقہ اداروں نے اس عرصے کے دوران پانچ ہزار سے زیادہ بینک اکاؤنٹس کو بند کرنے کے علاوہ ان اکاؤنٹس میں موجود رقم کو منجمد بھی کیا ہے۔

دہشت گردی سے نمٹنے والے قومی ادارے نیکٹا کے حکام کا کہنا ہے کہ اس ضمن میں پاکستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کالعدم قرار دی جانے والی تنظیموں اور شدت پسند تنظیموں کے عہدیداروں اور دیگر اراکین کے خلاف کارروائیاں کی ہیں۔

ان تنظیموں اور افراد کی ملکیتی جائیدادوں، جن کی مالیت کروڑوں میں بتائی جاتی ہے، کو بھی ضبط کر لیا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کو شدت پسندوں کو ملنے والی مالی امداد کو روکنے میں مبینہ طور پر ناکامی کے بعد گذشتہ برس اگست میں گرے لسٹ میں شامل کیا گیا تھا۔

ایف اے ٹی ایف نے پاکستانی حکومت کو شدت پسند تنظیموں کے خلاف کی جانے والی کارروائی کو مزید موثر بنانے کی ہدایت کی تھی۔

ابھی یہ طے ہونا باقی ہے کہ ایف اے ٹی ایف میں شامل غیر ملکی ماہرین پاکستان کی ان کوششوں کو کتنا اہم یا کامیاب سمجھتے ہیں۔

حکام کے مطابق امریکہ نے بھی پاکستانی حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے دیگر ممالک کی حمایت حاصل کرنے کی غرض سے کالعدم قرار دی جانے والی تنظیموں کے سربراہان کے خلاف کارروائی عمل میں لائے۔

دہشت گردی سے نمٹنے کے قومی ادارے کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ اب تک پانچ ہزار سے زائد ایسے بینک اکاؤنٹس منجمد کیے جا چکے ہیں جو کہ کالعدم تنظیموں کے عہدیداروں کے نام پر تھے۔

اہلکار کے مطابق سب سے زیادہ بینک اکاؤنٹس صوبہ پنجاب میں بند کیے گئے، ان اکاؤنٹس میں 20 کروڑ سے زیادہ رقم موجود تھی۔

جن افراد کے بینک اکاؤنٹس منجمد کیے گئے ہیں ان میں زیادہ تعداد ان افراد کی ہے جنھیں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے فورتھ شیڈول میں رکھا گیا ہے۔

قانون کے مطابق کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد کے نام محکمہ داخلہ کی ڈسٹرکٹ انٹیلیجینس کمیٹیوں کی سفارشات کی روشنی میں فورتھ شیڈول میں شامل کیے جاتے ہیں۔

اہلکار کے مطابق بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں کی حد تک تو دہشت گردوں کو ملنے والی مالی امداد کو روکنے میں کسی حد تک مدد ملی ہے لیکن قانون نافذ کرنے والے اداروں اور بالخصوص پولیس کے انسداد دہشت گری کے محکموں کو ایسے افراد کے خلاف کارروائی کرنے میں مشکلات درپیش ہیں جو بیرونی ممالک میں مختلف قوتوں کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ ایسے افراد نہ صرف مختلف ممالک میں لڑائی میں حصہ لے رہے ہیں بلکہ وہاں سے پاکستان میں موجود اپنی ہم خیال شدت پسند تنظیموں کو ہنڈی اور سمگلنگ کے ذریعے پیسے بھجواتے ہیں۔

اہلکار کے مطابق متعدد کالعدم تنظیموں نے بیرونی ممالک سے پیسہ لینے کے لیے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظر سے بچنے کے لیے ایک نیا طریقہ نکالا ہے۔ عام طور پر یہ رقوم ایسے اشخاص کے ذریعے بھیجی اور منگوائی جاتی ہیں جن کا بظاہر شدت پسند تنظیموں سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

اہلکار کے مطابق خفیہ اداروں کی طرف سے نیکٹا کو ایسی معلومات بھی فراہم کی گئی ہیں کہ حکومت کی طرف سے کالعدم تنظیموں کی مالی معاونت روکنے کے اقدامات کے بعد چند تنظیمیں مالی مشکلات کا شکار ہیں۔

ایسی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد مالی مشکلات پر قابو پانے کے لیے اغوا برائے تاوان اور گاڑی چوری کی وارداتوں میں ملوث ہیں۔

وزارتِ داخلہ کے ذرائع کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے صوبہ پنجاب میں سب سے زیادہ جن کالعدم تنظیموں کے خلاف موثر اور بروقت کارروائی کی گئی ہے وہ جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت ہے۔

ان دونوں تنظیموں کی مرکزی قیادت سمیت درجنوں افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور اُن کے خلاف مقدمات انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں۔

ذرائع کے مطابق ان دونوں تنظیموں کے خلاف کارروائی کرنے کی ایک بڑی وجہ ایف اے ٹی ایف کی تنظیم، ایشیا پیسفک گروپ، کی سربراہی انڈیا کے پاس ہے اور اے پی جی گروپ کے اجلاس میں ان دونوں کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی کو تیز کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ انڈیا ممبئی حملوں کا ذمہ دار ان دونوں کالعدم تنظیموں کے مبینہ سرپرست حافظ سعید کو قرار دیتا ہے۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ان دونوں تنظیموں اور گرفتار ہونے والے افراد کے زیرِ استعمال جائیدادوں کو بھی ضبط کر لیا ہے جو اُنھوں نے مبینہ طور پر محتلف لوگوں سے چندہ اکھٹا کر کے خریدی تھیں اور جن کی مالیت کروڑوں روپے میں ہے۔

نیکٹا کے اہلکار کے مطابق نیکٹا نے حکومت کو سمگلنگ کی روک تھام اور ہنڈی کے کاروبار کو بند کرنے کے حوالے سے مختلف ملکوں میں رائج قوانین کے حوالے بھی دیے ہیں۔

واضح رہے کہ حال ہی میں قومی اسمبلی نے فارن ایکسچینج ریگولیشنز میں ترمیم کا بل بھی منظور کیا تھا اور اس بل کو منظور کرنے کا مقصد غیر ملکی زرِمبادلہ کی نقل و حرکت پر نظر رکھ کر منی لانڈرنگ پر سخت سزائیں تجویز کرنا تھا۔

نیکٹا کے اہلکار کے مطابق پنجاب میں پولیس کے انسداد دہشت گردی کے محکمے کو جن تنظیموں کے علاوہ جن شخصیات اور ان کے قریبی ساتھیوں کے خلاف کارروائی کو تیز اور موثر بنانے کا حکم دیا گیا ہے اس میں لشکر جھنگوی اور اس کی ذیلی تنظیموں کے علاوہ جماعت الدعوۃ، لشکر طیبہ اور حافظ سعید احمد اور مولانا مسعود اظہر شامل ہیں۔

نیکٹا کے سابق سربراہ خواجہ فاروق کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ مشکل کام محتلف تنظیموں کو خیرات یا چیرٹی کے نام پر بیرون ممالک سے آنے والی امداد کو روکنا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ حکومت کے لیے یہ بہت مشکل ہوتا ہے کہ وہ کسی ملک کو چیرٹی کے نام پر پیسے بھیجنے سے روکے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ حکومت اپنے طور پر مختلف دینی مدارس کو ملنے والی امداد اور اس رقم کے استعمال کو ریگولیٹ کرنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن اس کے علاوہ بھی ان تنظیموں اور دینی مدارس کو مختف مد میں پیسے مل رہے ہیں جس میں ہنڈی کے علاوہ مقامی افراد سے ملنے والے پیسے بھی شامل ہیں۔

خواجہ فاروق کا کہنا تھا کہ گذشتہ حکومت کی طرف سے الیکٹرانک میڈیا پر ایک مہم چلائی گئی تھی جس میں عوام کو یہ پیغام دیا جاتا تھا کہ وہ ایسی کسی بھی تنظیم کو پیسے نہ دیں جو شدت پسندی یا حکومت مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہوں۔

اُنھوں نے کہا کہ الیکٹرانک میڈیا پر چلنے والی اس مہم کی فنڈنگ یو ایس اے آئی ڈی کی طرف سے کی گئی تھی اور پیسہ ختم ہونے کے بعد یہ مہم ختم کردی گئی تھی۔

ایف اے ٹی ایف کے رواں اجلاس سے پہلے ایشیا پیسیفک گروپ نے پاکستان کی طرف سے شدت پسند تنظیموں کی مالی معاونت کو روکنے کے لیے کیے گئے اقدامات کا جائزہ لیا تھا۔

نوٹ: ابلاغ نیوز کی پالیسی کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں

یہ بھی دیکھیں

پاکستان اور روس رفتہ رفتہ قریب آرہے ہیں

تحریر: ثاقب اکبر ”معاملہ سیدھا سیدھا ہے۔ بین الاقوامی سیاست میں نہ مستقل دشمنیاں ہوتی …