بدھ , 13 نومبر 2019

ایران، سعودی کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں پاکستان کی ’سہولت کاری‘ کا کیا فائدہ ہوگا؟

ثقلین امام

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان کی ایران اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ کشیدگی میں ایک ‘سہولت کار’ کی حیثیت سے ‘مصالحانہ’ کردار ادا کرنے کی کوشش کے بار آور ہونے کے حوالے سے فی الحال پیش گوئی کرنا مشکل ہے۔

تاہم پاکستان کی ان کوششوں پر دونوں ملکوں کی طرف سے مثبت ردعمل کا آنا ہی پاکستان کے اس نئے کردار کی پذیرائی ہے۔

وزیرِاعظم عمران خان نے ایرانی قیادت اور سعودی عرب کے ولی عہد دونوں سے اس ‘سہولت کاری’ کے مشن کے دوران ملاقاتیں کی ہیں۔ ایران نے ان کی کوششوں کا خیر مقدم کیا ہے۔ دوسری جانب سعودی عرب کی طرف سے بھی اب تک ان کی کوششوں پر کوئی واضح مثبت ردِ عمل سامنے نہیں آیا۔

تاہم پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے عمران خان کے ایران اور سعودی عرب کے درمیان ‘سہولت کاری’ کے اس مشن کو حوصلہ افزا قرار دیا ہے۔

حالیہ دنوں میں ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کے ایک عسکری تصادم کی صورت میں تبدیل ہو جانے کے خدشات پہلے کی نسبت کہیں زیادہ ہو چکے ہیں۔ ایران نے الزام عائد کیا ہے بحیرہِ احمر میں جدہ کی بندرگاہ سے تقریباً 60 میل دور ایرانی ٹینکر پر راکٹوں سے حملہ کیا گیا ہے۔ ایران نے کسی ملک کا نام تو نہیں لیا لیکن اشارۃً سعودی عرب پر حملے کی ذمہ داری عائد کی ہے۔

سعودی عرب نے حملے میں ملوث ہونے کے اس الزام کی تردید کی ہے اور سعودی وزیرِ خارجہ عادل بن الجُبیر نے کہا ہے کہ ‘ہم اس طرح کے حربے استعمال نہیں کرتے ہیں۔’

گذشتہ ماہ سعودی عرب کے شہروں بقیق اور خریص میں آرامکو کی تیل کی تنصیبات پر ہونے والے حملوں کا الزام امریکہ اور سعودی عرب نے ایران پر عائد کیا تھا۔ تاہم یمن میں حوثیوں نے دعویٰ کیا تھا کہ انھوں نے سعودی جارحیت کے جواب میں سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر حملہ کیا تھا۔ آکسفورڈ انسٹیٹیوٹ آف انرجی سٹیڈیز کے ایک محقق نے سعودی تیل کی تنصیبات پر حملے کو خطے میں کشیدگی کے حوالے سے ‘رولز آف انگیجمنٹ’ میں اہم تبدیلی قرار دیا ہے۔

ایران نے اس حملے سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا۔ اس سے پہلے ایران کے ساحل اور عمان کے ساحل کے قریب بھی آئل ٹینکروں پر حملے ہوئے تھے اور انگلیاں ایران کی طرف اٹھیں تھیں، تاہم ایران نے اس وقت بھی تردید کی تھی۔ اُن حملوں کی ذمہ داری بھی یمن کے حوثیوں نے قبول کی تھی۔ یمن کے حوثی ایران کی حمایت یافتہ ایک مسلح گروہ ہے جس نے نصف یمن پر اپنا قبضہ قائم کر رکھا ہے۔

ان حملوں کے بعد سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا۔ امریکہ نے کسی بھی فوجی تصادم کی حالت سے نمٹنے کے لیے سعودی عرب میں اپنی فوج تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن خود سعودی عرب سمیت خطے کے دیگر ممالک کو خدشہ ہے کہ اگر ایران اور سعودی عرب کے درمیان جنگ ہوئی تو اس کا عالمی معیشت پر تباہ کن اثر ہو گا۔

پاکستان خطے کا ملک ہوتے ہوئے اس ممکنہ جنگ کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکے گا۔ پاکستان ایران اور سعودی عرب کی پراکسی جنگ کی وجہ سے پہلے ہی سے اندرونی طور پر پُرتشدد فرقہ وارانہ شدت پسندی کا شکار ہے۔ اس لیے پاکستان کا ان دونوں ملکوں کی جنگ سے متاثر ہونا ایک لازمی اور منطقی نتیجہ ہوگا۔

پاکستان کی مصالحت کی کوششیں
پاکستان نے اس سے پہلے بھی سنہ 2016 میں ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی میں اضافے کی وجہ سے ان کے درمیان مصالحت کی کوشش کی تھی، لیکن اُسے کوئی پذیرائی نہیں ملی تھی۔ اس وقت کے پاکستان کے وزیرِاعظم نواز شریف نے تجویز دی تھی کہ پاکستان ان دونوں ملکوں کے درمیان مصالحت کے لیے ایک ‘فوکل پرسن’ کا تقرر کرے گا اور یہ دونوں ممالک بھی اپنے اپنے ‘فوکل پرسنز’ کا تقرر کریں۔

اس وقت پاکستان کی اس کوشش پر سعودی عرب کے وزیرِ حارجہ عادل بن الجُبیر نے رد عمل میں کہا تھا کہ انھیں پاکستان کی جانب سے سعودی عرب اور ایران کے درمیان مصالحت کی کسی کوشش کے وجود کا علم نہیں ہے۔ ‘ہمیں علم ہے کہ کچھ لوگ ریاض اور تہران کے درمیان مصالحت کی کوشش کر رہے ہیں لیکن جب تک ایران کے رویے میں مثبت تبدیلی نہیں ہوگی مصالحت نہیں ہوسکتی ہے۔’

انقلاب سے پہلے ایران، سعودی عرب تعلقات
اگرچہ ایران اور سعودی عرب کی کشیدگی کی تاریخ پرانی ہے، لیکن ان کے درمیان فوجی کشیدگی کی تاریخ زیادہ پرانی نہیں ہے۔ ایران میں اسلامی انقلاب سے پہلے جب ایران امریکہ کا اس خطے میں خاص فوجی اتحادی ملک تھا، اور سعودی عرب بھی خلیج میں مغرب کا اتحادی تھا ان دونوں ملکوں کے درمیان مسلکی اختلاف کے باوجود دوستانہ تعلقات تھے۔ اس لیے اُس دور میں پاکستان یا کسی اور ملک کو ان دونوں ملکوں کے درمیان مصالحت کی ضرورت ہی نہیں پڑی۔

محمد رضا پہلوی، شاہ ایران کے ابتدائی دور میں ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات میں اتارچڑھاؤ آتا رہا لیکن کبھی بھی تعلقات میں ایسی کشیدگی نہیں تھی جس سے خطے میں پریشانی پیدا ہوئی ہو۔ دونوں ممالک امریکہ کے حلیف تھے۔ انقلاب سے قبل شاہ ایران کی کئی موقعوں پر سعودی رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی ہوئیں۔ ان دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات تو سنہ 1929 میں قائم ہوگئے تھے۔ لیکن جب ایران نے اسرائیل کو تسلیم کیا تو اس کے سعودی عرب سے تعلقات کشیدہ ہوگئے۔ اب ایران کی اسرائیل سے شدید مخاصمت ہے۔

ایران اور سعودی بادشاہوں کے دورے
تاہم سنہ 1960 میں ایک مرتبہ پھر دونوں ملکوں کے تعلقات میں گرمجوشی پیدا ہونا شروع ہوئی۔ سنہ 1966 میں سعودی عرب کے اس وقت کے فرمانروا شاہ فیصل، ایران کے دورے پر گئے جب انھوں نے اپنے ہمسائیہ ممالک کے ساتھ تعلقات کو بہتر کرنے کی پالیسی اپنائی۔ ان کے دورے کے بعد شاہ ایران نے بھی سعودی عرب کا دورہ کیا جس میں وہ مکہ اور مدینہ میں عمرہ اور زیارات کے لیے گئے۔ سعودی حکمران شاہ ایران کو جنت البقیع بھی لے کر گئے تھے۔

تاہم دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں کشیدگی اس وقت پیدا ہونا شروع ہوئی تھی جب شاہ ایران نے خطے میں ایران کی سکیورٹی کے لیے ایک حصار بنانا شروع کیا۔ اس حصار سے سعودی عرب خوش نہ تھا کیونکہ اس کی نظر میں ایران حلیج فارس پر اپنا تسلط قائم کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس کشیدگی کے باوجود بھی سعودی عرب اور ایران کے درمیان امریکی حلیف ہونے کی وجہ سے تعلقات بہتر رہے۔ پاکستان بھی ایک اہم امریکی حلیف تھا لہٰذا اس کے بھی ان دونوں سے تعلقات بہتر رہے۔

ایران میں سنہ 1979 کے انقلاب کے بعد امام خمینی نے انقلاب برآمد کرنے کی بات کی تھی۔ لیکن سعودی عرب اور خطے کے دیگر ممالک نے ان کے اس بیان کو ان کی بادشاہتوں کے لیے ایک خطرہ سمجھا۔ اس بعد ان عرب ممالک میں جہاں بادشاہتیں تھیں وہ ایران کے خلاف متحد ہوگئے۔ اس طرح سعودی عرب خطے میں امریکہ کا سب سے بڑا اتحادی قرار پایا۔ عراقی رہنما صدام حسین کے بارے میں شدید تحفظات کے باوجود سعودی عرب نے ایران اور عراق کی جنگ میں عراق کا بھر پور ساتھ دیا۔ اس جنگ میں دس لاکھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

جنرل ضیا کی مصالحتی کوششیں
اس جنگ کے دوران پاکستان نے عراق اور ایران کے درمیان جنگ بند کروانے کی کوشش کی۔ پاکستان کے اس وقت کے صدر جنرل محمد ضیا الحق نے تہران، بغداد اور ریاض کے کئی دیگر اسلامی ملکوں کے ہمراہ اس جنگ کو رکوانے کے لیے دورے کیے۔ لیکن انھیں کامیابی نہیں ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ اس وقت پاکستان پر ایران پر حملہ کرنے کے لیے دباؤ تھا لیکن جنرل ضیا نے انکار کیا۔

سعودی عرب، ایران کشیدگی کا نیا دور
پھر 1987 میں حج کے دوران ایرانی حاجیوں کی سعودی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ تصادم ہوا تھا جس میں سعودی فورسز کی فائرنگ سے سینکڑوں ایرانی ہلاک ہوئے تھے۔ ایران نے اس واقعے کے بعد سعودی عرب سے سفارتی تعلقات منقطع کر لیے تھے۔ تاہم ان دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات سنہ 1991 میں بحال ہوئے۔ لیکن ان کی بحالی میں پاکستان کا کوئی قابلِ ذکر کردار نہیں تھا۔
ایران کے جوہری منصوبے میں پاکستان کے کردار پر دنیا بھر میں پاکستان پر انگلیاں اٹھتی رہی ہیں۔ پاکستان پر الزام یہ لگتا ہے کہ اس کے سینٹری فیجز، ایران کے جوہری منصوبوں کی انسپکشن کے دوران جوہری توانائی کی نگرانی کے اقوام متحدہ کے ادارے آئی اے ای اے نے پکڑے تھے۔ پاکستان اور ایران کے درمیان اس واقعے کے بعد تعلقات میں سرد مہری پیدا ہوئی تھی۔
پھر اسی دوران جب پاکستان اور سعودی عرب افغانستان کی جنگ میں اتحادی تھے تو اس وقت ایران اور پاکستان کے درمیان افغانستان میں روسی فوجوں کے انخلا کی صورت میں اثر و رسوخ کے لیے مقابلے کی پراکسی جنگ شروع ہوگئی۔ مقابلے کی یہ جنگ اگلی پوری دہائی طالبان کے زوال تک جاری رہی جو 9/11 کے امریکہ پر حملوں اور پھر امریکہ کی افغانستان میں طالبان کی حکومت پر حملے اور اِس کے خاتمہ پر منتج ہوئی۔
سنہ 2015 میں یمن میں ڈرامائی طور پر حوثیوں کی دارالحکومت صنعا پر چڑھائی اور صدر عبد ربہ ہادی منصور کی حکومت کو تقریباً ملک بدر کردینے کے بعد جب سعودی عرب نے یمن میں حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائی کا آغاز کیا تھا تو پاکستان سے فوجی امداد مانگی تھی۔ پاکستان نے دو مسلم ملکوں کے درمیان جنگ میں کسی کا فریق بننے سےگریز کیا۔ پاکستان کی پارلیمان نے تاریخی فیصلے کے ذریعے اس جنگ میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کرکے سعودی امیدوں پر پانی پھیر دیا تھا۔
سنہ 2015 کے حج کے حادثے میں بھی سیکنڑوں حاجی ہلاک ہوئے تھے۔ سعودی عرب نے کہا کہ 769 حاجی ہلاک ہوئے تھے لیکن حبر رساں ادارے ایسو سی ایٹڈ پریس نے ہلاکتوں کی تعداد 2400 بتائی تھی۔ ہلاک ہونے والوں میں 464 ایرانی حاجی تھے۔ پاکستان کا اس موقعے پر بھی کوئی مصالحانہ کردار نہیں دیکھا گیا۔
اس کے بعد ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کی ایک اور وجہ سنہ جنوری 2016 میں سعودی عرب کے ایک شیعہ رہنما شیخ نمر النمر کا سر قلم کیے جانے کا واقعہ تھا۔ ان تمام واقعات پر پاکستان نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان مصالحانہ کردار ادا کرنے کی نہ کوشش کی اور نہ ہی پیش کش کی۔

اسی برس یعنی سنہ 2016 میں جب ایرانی صدر حسن روحانی پاکستان کے دورے پر آئے تھے تو اس وقت پاکستانی میڈیا نے خبریں دیں کے پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے ایرانی رہنما کے سامنے انڈیا کے مبینہ جاسوس کلبھوشن یادیو کا معاملہ بھی ایرانی صدر کے سامنے اٹھایا تھا۔ عموماً ایسی خبریں فوج کے متعلقہ محکمے کی مبینہ ہدایت پر شائع کی جاتی ہیں۔ تاہم ایرانی صدر نے اس قسم کی کسی بات چیت کی تردید کی۔ لیکن پاکستانی فوج کے ترجمان نے اصرار کیا کہ یہ معاملہ ایرانی صدر کے سامنے اٹھایا گیا تھا۔

پاکستانی فوج کے ترجمان کا اس طرح ٹویٹ کرنے سے ایران اور پاکستان کے تعلقات متاثر ہوئے اور مثبت پیش رفت کے امکانات سرد پڑ گئے۔ اس طرح اس وقت یہ بات کھل کے نظر آئی کہ پاکستان کی سویلین قیادت کی ایران کے بارے میں کوئی اور پالیسی ہے جبکہ فوجی سربراہ کی کوئی اور۔ اس قسم کا تضاد اگر کسی مہذب ملک میں میڈیا پر سامنے آتا تو فوج کے سربراہ کو فوراً گھر رخصت کردیا جاتا۔

سنہ 2016 وہ سال تھا جب ایران پانچ عالمی طاقتوں کے ساتھ اپنے جوہری منصوبے کو محدود کرنے کے معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد پاکستان سے اقتصادی تعلقات کی بہتری کرنے کے لیے کوشاں تھا۔ اور صدر حسن روحانی کے دورے کا یہی مقصد تھا۔ مبصرین کے مطابق، صدر حسن روحانی کی اس طرح میڈیا میں تردید کر کے پاکستانی فوج نے سُبکی کی تھی جس کے نتیجہ میں پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات کی بہتری کا یہ موقعہ ضائع ہو گیا۔

سعودی قیادت میں اسلامی ملکوں کا فوجی اتحاد
لیکن جب اسی برس اس وقت کے پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف ریٹائر ہوئے تو انھیں فوراً ہی سعودی عرب نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے اسلامی ملکوں کے فوجی اتحاد کی سربراہی کی پیش کش کردی۔ اس فوج میں ایران کو شامل نہیں کیا گیا تھا اور عمومی تاثر یہی رہا ہے کہ سعودی عرب نے یہ فوجی اتحاد ایران کے خلاف قائم کیا۔

ابھی تک اس بات کی کسی ذمہ دار حلقہ نے تصدیق نہیں کی ہے کہ سعودی عرب کا فوجی اتحاد یمن میں براہِ راست حوثیوں کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے یا نہیں، لیکن سوشل میڈیا پر اس بارے میں کئی ایک باتیں کی جارہی ہیں۔ بلکہ انڈین میڈیا نے تو باقاعدہ نام لے کر کہا کہ جنرل راحیل شریف کی قیادت میں اس سعودی فوجی اتحاد کے فوجیوں نے گزشتہ ماہ یمن کی سرحد کے قریب نجران میں حوثیوں کی گوریلا کاروائی کے بعد ان کے سامنے ہتھیار ڈالے تھے۔ سعودی عرب نے اس حملے کی تردید کی ہے۔

ایران-سعودی عرب کے درمیان مصالحت کا امکانات

اب حالات مخلتف ہیں۔ سعودی عرب کے حساس اثاثوں یعنی اس کی تیل کی تنصیبات پر حملہ ہوا ہے، حملے کی ذمہ داری سعودی عرب، امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے مل کر ایران پر عائد کی ہے، لیکن اب تک ایران کے خلاف کوئی فوجی کاروائی نہیں کی ہے۔ ایران کے خلاف فوجی الزام عائد کرنے کے بعد کاروائی نہ کرنے سے مراد یہ لی گئی ہے کہ وجہ کوئی بھی ہو، فی الحال امریکہ یا کوئی دوسری طاقت خلیج میں جنگ لڑنا نہیں چاہتی ہے۔

دوسری جانب چین نے سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر حملے کی ذمہ داری ایران پر عائد کرنے سے گریز کیا ہے، جبکہ روس نے کہا ہے کہ اُسے نہیں علم کے تیل کی تنصیبات پر حملہ کس نے کیا۔ ان حالات میں مصالحت کی کوششوں کے کامیاب ہونے کے امکانات نظر آتے ہیں۔ جب جنگ سے سب گریز چاہتے ہیں تو تنازعات کا سفارت کاری کے دائرے میں لے جانا ایک منطقی پیش رفت ہے۔

روسی صدر ولادیمیر پیوتن نے بھی سعودی عرب کے حالیہ دورے کے موقعہ پر ایران اور سعودی عرب کے درمیان مصالحت کی پیش کش کی ہے جو اس بات کا اشارہ ہے کہ روس خطے میں امریکہ کے کم ہوتے ہوئے کردار سے پیدا ہونے والے خلا کو پر کرنے کے لیے تیار ہے۔ سعودی عرب بھی روس کے کردار کی پذیرائی کرنے کے لیے تیار نظر آتا ہے۔ ایران تو روس کا پہلے سے ایک حلیف ہے۔ اس طرح ممکن ہے کہ پاکستان کی ‘سہولت کاری’ کی اور روس کی ‘مصالحت کاری’ کی کوششیں بارآور ثابت ہوں۔

نوٹ: ابلاغ نیوز کی پالیسی کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں

یہ بھی دیکھیں

پاکستان اور روس رفتہ رفتہ قریب آرہے ہیں

تحریر: ثاقب اکبر ”معاملہ سیدھا سیدھا ہے۔ بین الاقوامی سیاست میں نہ مستقل دشمنیاں ہوتی …