بدھ , 13 نومبر 2019

جمہوری اسلامی اور تھیوکریسی (حصہ چہارم)

تحریر: سید امتیاز علی رضوی

امام خمینیؒ کی قیادت میں 1979 میں دنیائے اسلام کا پہلا عوامی و اسلامی انقلاب ایران میں رونما ہوا جس کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ کا سب سے طاقتور شاہی نظام حکومت زمین بوس ہوگیا اور جمہوری اسلامی کے نام سے ایک نئی حکومت معرض وجود میں آئی ۔ چونکہ اس انقلاب کی قیادت مذہبی علماء کے ہاتھ میں تھی لہذا مغربی دنیا نے تو بلا جھجک اسے ایک تھیوکریٹک حکومت کے طور پر پیش کرنا شروع کردیا جس سے ہمارے خطے کے متجددین بھی متاثر ہوئے کیونکہ ان کے مطالعہ کے ذرائع زیادہ تر مغربی دنیا ہی سے جڑے ہوتے ہیں۔ دشمن تو تعصب کا شکار ہوتا ہی ہے یہاں انقلاب کے دوستوں نے بھی اپنی کم علمی یا سادگی کے باعث انقلابی حکومت کو ایک ایسی ٹھیوکریٹک حکومت کے طورپر پیش کیا جس میں ولی فقیہ کے پاس خدائی اختیارات ہوں اور وہ مافوق بشر کوئی ایسی شخصیت ہے جسے براہ راست خدا سے راہنمائی ملتی ہو پھر بشری تقاضوں کے عین مطابقانقلاب کی کچھ اہم شخصیات نے اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھایا تو اس عمل کی وجہ سے بھی دشمن کو اس اسلامی حکومت کو تھیوکریسی سے جوڑنے میں مدد ملی اور آج کے لٹریچر میں دنیا میں موجود تھیوکریٹک حکومتوں میں سر فہرست نام ایران کے نظام جمہوری اسلامی کا لیا جاتا ہے جو حقائق کے بالکل برخلاف ہے جو کہ ایک ظلم ہے جس میں اپنوںاور غیروں کا برابر کا حصہ ہے۔ اس مضمون کے بقیہ حصہ میں ہماری کوشش ہوگی کہ یہ ثابت کریں کہ کس طرح ایران کی موجودہ جمہوری اسلامی حکومت منفی معنوں میں تھیوکریٹک (ملاؤں کی مطلق العنان حکومت) نہیں ہے بلکہ جدید انسانی فطری اصولوں پر قائم ایک جمہورینظام ہے۔

ایک تھیوکریٹک حکومت عوامی حمایت سے قائم نہیں ہوتی بلکہ وہ عوامی رائے کو خدائی فرامین سے متصادم گردانتی ہے جبکہ ایران میں انقلاب اسلامی کی کامیابی کا ایک بنیادی عنصر جمہوریت ہے۔ ایران کے اسلامی انقلاب کی تحریک ہو یا انقلاب کی کامیابی کے بعد اس کے راہنماؤں کے رویے سب کے سب اس انقلاب کے جمہوری ہونے کا اعلان بھی کرتے رہے ہیں۔

امام خمینی ؒ نے کبھی بھی یہ تاثر ابھرنے نہیں دیا کہ وہ کسی آسمانی قوت سے وابستہ ہیں اور وہاں سے الہام لے کر قوم کی راہنمائی کر رہے ہیں اگرچہ کچھ خوشآمدی اور چاپلوس اپنوں نے کئی ایسی کہانیاں گھڑی ہیں اور انہیں سادہ لوح لوگوں میں زبان زد عام کیا ہے۔ امام خمینی تو اصول پسنداور گہری سوچ رکھنے والے ایک ایسے لیڈر تھے جنہیں عوامی حمایت و تائید پر یقین تھا۔ ایران میں انقلاب کے ابتداء ہی سے امام خمینی نے عوام کے دل جیت لئے تھے اور یہ انقلاب خالصتاً عوامی حمایت و تائید سے ہی کامیاب ہوا تھا۔امام خمینی نے ایران میں اسلامی نظام کی بنیاد رکھ کر دنیا میں نئی حکمرانی کا طریقہ روشناس کرایا تھا جس کی نظیر تاریخ میں پہلے نہیں ملتی۔ اب جبکہ یہ ایک بالکل نیا نظام تھا تو اس پر تھیوکریسی کا لیبل لگانے کا کیا جواز بنتا ہے؟ امام خمینی نے اسلامی اصولوں پر استوار جمہوریت کو اس نئی طرز حکمرانی کا بنیادی عنصر قرار دیا اور واضح عوامی حمایت کے باوجود جمہوری اسلامی نظام کے نفاذ کے لئے ووٹ کے ذریعے عوامی حمایت و تائید حاصل کی اور ایک ریفرنڈم کروایا حتی حالت جنگ میں بھی عوامی پارلیمنٹ اور صدارتی انتخابات منعقد کروائے اور ان میں تاخیر کو نظام اسلامی کے خلاف ایک قدم سمجھا۔ ایک مرتبہ تو صدر، وزیراعظم سمیت پارلیمنٹ کے ۷۲ ممبران کو بم دھماکے سے اڑا دیا گیا تب بھی امام خمینی نے جمہوری سلسلے کو جاری و ساری رکھا اور ہر منصب کے لئے دوبارہ انتخابات کروائے۔

جدید مغربی تہذیب میں جمہوری نظام حکومت کو ایک بڑی اچھائی سمجھا جاتا ہے لہذا اسلام مخالف مغرب زدہ لوگ اسلامی ممالک میں استبدادی، آمرانہ اور مطلق العنانیت پر مبنی نظام ہائے حکومت پر ہمیشہ تنقید کرتے ہیں اور ایران کے اسلامی جمہوری نظام کے خلاف بھی انہوں نے یہی پروپیگنڈا کیا کہ ایران کا انقلابی نظام حکومت جمہوری اور عوامی نہیں ہے۔ افسوس یہ ہے کہ متعدد اسلامی شدت پسندانہ نظریات کے حامل مذہبی لوگ بھی جمہوریت اور عوامی رائے کو سرے ہی سے خلاف شریعت کہہ کر اپنی نادانستگی میں اسلام دشمنوں کی حمایت کر تے ہیں اور ایران کی جمہوری اسلامی حکومت کا جو عوامی اور جمہوری چہرہ ہے اسے چھپا کر دشمن کی اس بات کی تائید کر جاتے ہیں کہ یہ حکومت ایک تھیوکریٹک حکومت ہے۔

انقلاب اسلامی ایران جدید دور میں اسلامی اور انسانی مذہبی تاریخ کا پہلا انقلاب ہے جو عوامی بنیاد پر برپا کیا گیا ہے۔ ایران میں اس انقلاب کے بعد ایک نئے نظام کی تشکیل وتعمیرکے عمل کا آغاز ہوا۔ یہ نیا نظام نہ صرف جمہوری بلکہ مثالی جمہوری اصولوں پر قائم کیا گیا ہے ۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ اسلامی جمہوریت مغربی ثقافت میں پھلنے پھولنے والی جمہوریت کا عین چربہ ہو بلکہ یہ جمہوریت خود اسلام کے متن سے نکلی ہے اور یہی اسلامی اور غیر اسلامی مذاہب میں فرق ہے۔ غیر اسلامی مذاہب میں الہی احکام کی اصالت گم ہو چکی ہے جبکہ مذہبی پیشواؤں کی ذاتی خواہشوں اور تمایلات نے غالبا کر لیا ہے لیکن اسلام میں قرآن و حدیث کی اصلی ماخذ آج بھی موجود ہیں اور ملائیت اور مذہبی پپیشوائیت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ فقاہت کا جو نظام اسلام میں موجود ہے اس کی اہمیت اکیڈمک ہے اور اجتہاد اور استنباط کی ایک ٹکنیک کا نام ہے جو زندہ دینی مصادر سے حکم خدا کو اخذ کرنا ہے جس میں مجتہد یا فقیہ کے ذاتی تمایلات اور خواہشوں کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔

جاری ہے۔۔۔۔۔

نوٹ: ابلاغ نیوز کی پالیسی کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں

یہ بھی دیکھیں

پاکستان اور روس رفتہ رفتہ قریب آرہے ہیں

تحریر: ثاقب اکبر ”معاملہ سیدھا سیدھا ہے۔ بین الاقوامی سیاست میں نہ مستقل دشمنیاں ہوتی …