بدھ , 13 نومبر 2019

ولادیمیر پوتن کی محمد بن سلمان سے ملاقات: روس اور سعودی عرب کی بڑھتی قربت کے پیچھے کیا ہے؟

فرینک گارڈنر

ایک وقت تھا کہ ایسا سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا کہ سعودی دارالحکومت ریاض میں کسی روسی صدر کے لیے ریڈ کارپٹ استقبال رکھا جائے گا۔

آپ کو یہ بھی یاد ہوگا کہ سرد جنگ کے زمانے میں سعودی سوویت یونین کے شہریوں کو ’بے خدا کمیونسٹ‘ کہہ کر پکارتے تھے۔

لیکن اب دنیا بہت بدل گئی ہے۔

اس ہفتے روسی صدر ولادیمیر پوتن کو ریاض میں پوری 21 توپوں کی سلامی دی گئی، شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقاتیں ہوئیں، متعدد دو طرفہ معاہدوں پر دستخط ہوئے اور ایک انتہائی اہم پیش رفت جس کے تحت سعودی عرب کے امریکی اتحادیوں نے عملی طور پر شمالی شام میں کردوں کو اپنے حال پر چھوڑ دیا ہے۔

تو اب سعودی عرب اور روس کتنے قریب ہیں اور کیوں؟

کیا ہو گیا ہے؟
صدر پوتن نے سعودی عرب کا ایک غیر معمولی اور انتہائی تشہیر والا دورہ کیا ہے۔ 12 سال میں ان کا یہ پہلا دورہ تھا اور ان کے ساتھ تجارت، سیکیورٹی اور دفاع کے شعبوں سے منسلک ایک بہت بڑا وفد تھا۔

روس اور سعودی عرب کے مابین کُل دو ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کے 20 سے زیادہ معاہدوں پر دستخط ہوئے ہیں۔

سعودی عرب نے روسیوں کو 14 ستمبر کو سعودی تیل تنصیبات پر ہونے والے ڈرون حملے کے حوالے سے جاری بین الاقوامی تحقیقات کا حصہ بننے کی دعوت بھی دی ہے۔

دفاعی امور کے حوالے سے بات چیت میں روس کے فضائی دفاعی میزائل نظام ایس 400 کے خریدنے اور نصب کیے جانے پر بات ہوئی جو کہ شاید امریکہ کے لیے ایک بڑا سفارتی دھچکا ہو سکتا ہے۔

حال ہی میں امریکہ نے ترکی کی ایف 35 لڑاکا طیاروں کے پروگرام میں شرکت اس وقت منسوخ کر دی تھی جب اس نے ایس 400 خرید لیا۔

جون 2018 میں ایک معاہدے کے بعد سے روس اور سعودی عرب کے درمیان تجارتی تعلقات تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور حال ہی میں ان کے درمیان تیل کی عالمی رسد کو محدود کر کے قیمتوں پر قابو پانے کی کوششیں بھی کی گئی ہیں۔

روس کے براہِ راست سرمایہ کاری کے فنڈ کی جانب سے روسی صدر کے دورے کے موقع پر اعلانات میں مندرجہ ذیل شامل ہیں:

سعودی سرکاری تیل کمپنی ’آرامکو‘ کی جانب سے روسی تیل کی کمپنی نووومٹ میں 30 فیصد حصص کی خریداری
سعودی عرب کی جانب سے روسی طیاروں کی لیزنگ کے کاروبار میں 600 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کا معاہدہ
سعودی کمپنیوں اور روسی کمپنی گیزپروم کے درمیان قدرتی گیس کے حوالے سے اشتراک
یہ سب چیزیں اس بات کا اشارہ دیتی ہیں کہ سعودی عرب اور ایک ایسے ملک کے درمیان گرم جوشی بڑھ رہی ہے جو کہ ایک وقت پر ان کے مخالفین افغان مجاہدین کی مالی پشت پناہی کرتا تھا۔

تعلقات میں بہتری کیوں آ رہی ہے؟
سادہ الفاظ میں کہا جائے تو سعودی عرب امریکہ اور مغربی ممالک پر آج ویسے اعتبار نہیں کرتا جیسے ماضی میں کیا کرتا تھا۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ روس پر اعتبار کرتے ہیں مگر مشرقِ وسطیٰ کے حالیہ واقعات نے سعودی دربار میں لوگوں کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔

اس سلسلے میں پہلا بڑا دھچکہ اس وقت لگا جب 2011 میں عرب سپرنگ کے مظاہرے ہو رہے تھے۔ سعودی اور خلیجِ فارس کی حکومتوں کو اس بات پر حیرانی ہوئی کہ کس تیزی کے ساتھ مغربی ممالک نے اپنے طویل مدتی اتحادی حسنی مبارک کا ساتھ چھوڑا۔

اس کے مقابلے میں انھیں یہ بھی نظر آ رہا ہے کہ روس کس طرح مشرقِ وسطیٰ میں اپنے ساتھی شامی صدر بشار الاسد کے ساتھ کھڑا ہے۔

اس کے بعد دوسرا دھچکہ اس وقت لگا جب امریکی صدر اوباما نے 2015 میں ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی حمایت کر دی۔ عرب حکومتوں کا یہ شک درست تھا کہ اوباما انتظامیہ کی اس خطے میں دلچسپی کم ہو رہی تھی۔

جب 2017 میں نو منتخب صدر ٹرمپ نے اپنے پہلے بین الاقوامی دورے کے لیے ریاض کا انتخاب کیا تو سعودی بہت خوش معلوم ہوئے۔ واشنگٹن اور ریاض کے درمیان تعلقات بظاہر واپس پٹری پر چڑھ گئے تھے اور اربوں ڈالر کے معاہدوں کا اعلان کیا گیا۔

مگر پھر 2018 میں سعودی صحافی جمال خاشقجی کے سعودی ریاستی اہلکاروں کے ہاتھوں قتل کا معاملہ آ گیا جس پر عالمی سطح پر بہت زیادہ تنقید کی گئی۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی اس معاملے میں ممکنہ شمولیت کے باعث مغربی رہنماؤں نے ان سے دوری اختیار کر لی، کم از کم منظرِ عام پر اور جی 20 کے اجلاس میں انھیں زیادہ تر تنہا چھوڑ دیا گیا۔

اس کے برعکس روسی صدر پوتن نے اس کے ساتھ ہائی فائیو کیا۔

اگرچہ صدر ٹرمپ نے سعودی عرب سے بہتر تعلقات قائم کرنے کی کوشش کی ہے مگر سعودی حکام اب بھی ان کی شخصیت کے حوالے سے کوئی بھی حتمی فیصلہ کرنے کے قاصر ہیں اور ان کی ناقابلِ عمل اپروچ کی وجہ سے پریشان ہیں۔

اس ہفتے برطانیہ میں سعودی سفیر شہزادہ خالد بن بندر نے شام میں ترک مداخلت کو تباہ کن قرار دیا۔ یہ کارروائی وہاں سے امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد عمل میں آ سکی ہے۔ جب ان سے روس سے تعلقات میں بہتری کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’روس اکثر مشرق کو مغربی ممالک سے بہتر سمجھتا ہے۔‘

شامی خانہ جنگی کے آٹھ سال کے دوران روس نے کامیابی کے ساتھ اپنی اتحادی اسد حکومت کو بچایا ہے، اپنا جدید ترین اسحلہ دنیا کو متعارف کروایا ہے، اور ساتھ ساتھ خطے میں ایک اہم گڑھ بنالیا ہے۔

ادھر امریکی صدر بظاہر خطہ چھوڑ رہے ہیں حالانکہ 14 ستمبر کو جب امریکہ کا بیچا ہوا فضائی دفاعی نظام ڈرون حملوں کو روک نہیں سکا تو اضافی امریکی فوجیوں کو فوراً سعودی عرب میں تعینات کیا گیا۔

نتیجہ یہ ہے کہ سعودی عرب اور خلیجی ممالک اب اپنی دوستیوں میں مغربی ممالک پر شدید انحصار کو کم کرنا چاہ رہے ہیں۔

اس کا مقصد یہ ہے کہ مستقبل میں کسی قسم کے مسائل چاہے وہ مبینہ طور پر ایران سے آنے والا میزائل ہو یا خاشقجی کے قتل جیسی کوئی سفارتی جنگ، اس سے نمٹنے کے لیے مخلتف راستے موجود ہوں۔

آگے کیا ہوگا؟
اس سب کو سیاق و سباق کے ساتھ دیکھنا پڑے گا۔

سعودی عرب کا اہم ترین دفاعی ساتھی امریکہ رہا ہے اور آج بھی ہے۔ 1945 سے ایسا ہی ہے جب سعودی بادشاہ عبد العزیز صدر روزویلٹ سے ایک امریکی جنگی بحری جہاز پر ملے تھے۔

اس کے بعد سعودی عرب نے تیل کی رسد برقرار رکھنے اور امریکہ نے سکیورٹی فراہم کرنے کا وعدہ کیا اور یہ سودا اتار چڑھاؤ کا تو شکار ہوا مگر آج تک قائم ہے۔

تمام چھ خلیجی عرب ممالک میں امریکہ کے اہم بحری اڈے ہیں۔ بحرین میں صدر دفتر والا جوہری ہتھیاروں سے لیس امریکی بحریہ کا ففتھ فلیٹ خطے کی طاقتور ترین بحریہ ہے۔

جب صدر ٹرمپ ریاض آئے تھے تو 300 ارب ڈآلر کے معاہدے ہوئے۔ جب صدر پوتن آئے تو دو ارب کے معاہدے ہوئے۔

مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ مشرق وسطیٰ کے اتحادوں میں بہت بڑی بڑی تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ آپ روسی اور چینی مندوبین کے ریاض کے دوروں میں اضافے کی توقع رکھ سکتے ہیں۔

سعودی عرب کی میز پر امریکہ ہی کے پاس اہم ترین سیٹ ہے مگر اب ایسے کہیں کہ اور مہمان بھی آنے لگے ہیں۔

نوٹ: ابلاغ نیوز کی پالیسی کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں

یہ بھی دیکھیں

پاکستان اور روس رفتہ رفتہ قریب آرہے ہیں

تحریر: ثاقب اکبر ”معاملہ سیدھا سیدھا ہے۔ بین الاقوامی سیاست میں نہ مستقل دشمنیاں ہوتی …