منگل , 12 نومبر 2019

ایف اے ٹی ایف کیا ہے اور کس طرح کام کرتی ہے؟

ایس ایم عابدی

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے قیام کا فیصلہ 30 سال قبل جی سیون (G-7) ملکوں نے 1989ء میں فرانس میں منعقد ہونے والے اجلاس میں کیا تھا۔ بعد ازاں جی سیون اتحاد کے ممبران کی تعداد 16 ہوئی جو اب بڑھ کر 39 ہوگئی ہے۔ ایف اے ٹی ایف کے اراکین کی تعداد 39 ہے جس میں 37 ممالک اور 2 علاقائی تعاون کی تنظمیں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ایف اے ٹی ایف سے 8 علاقائی تنظیمیں بھی منسلک ہیں۔ پاکستان ایف اے ٹی ایف سے وابستہ ایشیا پیسفک گروپ کا حصہ ہے۔ ایف اے ٹی ایف کی براہِ راست اور بالواسطہ وسعت 180 ملکوں تک موجود ہے۔ ایف اے ٹی ایف ایک ٹاسک فورس ہے جو حکومتوں نے باہمی اشتراک سے تشکیل دی ہے۔ ٹاسک فورس کے قیام کا مقصد منی لانڈرنگ کے خلاف مشترکہ اقدامات تھا۔ امریکا میں 11 ستمبر کے حملوں کے بعد شروع ہونے والی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں یہ ضرورت محسوس کی گئی کہ دہشت گردی کے لیے فنڈز کی فراہمی کی بھی روک تھام کے لئے مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ جس کے بعد اکتوبر 2001ء میں ایف اے ٹی ایف کے مقاصد میں منی لانڈرنگ کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کی فنانسنگ کو بھی شامل کرلیا گیا۔ اپریل 2012ء میں بڑے پیمانے پر ہتھیاروں کی فنانسنگ پر نظر رکھنے اور اس کی روک تھام کے اقدامات پر عمل درآمد کروانے کی ذمہ داری اسی ٹاسک فورس کے سپرد کی گئی۔

ٹاسک فورس اپنے کھلے ایجنڈے پر خالصتاً ٹیکنکل بنیادوں پر کام کرتی ہے، اسی لئے اس ٹاسک فورس میں مختلف ملکوں کے ماہرین برائے انسدادِ منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ شریک ہوتے ہیں۔ ٹاسک فورس کے موجودہ صدر شیالگمن لو کا تعلق چین سے ہے۔ وہ ایف اے ٹی ایف کے صدر بننے سے قبل چین کے مرکزی بینک میں منی لانڈرنگ اور دہشت گردی فنانسنگ کی روک تھام سے متعلق شعبے کے سربراہ تھے۔ شیالگمن چین میں سرمائے کی غیر قانونی نقل و حرکت کے حوالے سے متعدد اقدامات کرچکے ہیں۔ ایف اے ٹی ایف منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی فنانسنگ کے حوالے سے دنیا بھر میں یکساں قوانین لاگو کروانے اور ان پر عمل کی نگرانی کرنے کا فریضہ سرانجام دیتی ہے۔ اس کی کوشش ہے کہ اس کے ہر رکن ملک میں مالیاتی قوانین کی یکساں تعریف پر عملدرآمد کیا جائے اور ان پر یکساں طور پر عمل بھی کیا جائے تاکہ دنیا میں لوٹ کھسوٹ سے حاصل ہونے والی دولت کی نقل و حرکت کو مشکل ترین بنا دیا جائے اور لوگوں کے لیے اس قسم کی دولت رکھنا ناممکن بن جائے۔

ایف اے ٹی ایف نے اپنے قیام کے پہلے 2 برسوں میں تیزی سے کام کیا اور 1990ء تک تجاویز کا پہلا مسودہ تیار کیا۔ بعدازاں 1996ء، 2001ء، 2003ء اور 2012ء میں یہ اپنی دیگر تجاویز بھی پیش کرچکی ہے۔ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان پر جو شرائط عائد کی ہیں اور جن شعبوں میں پیش رفت کا مطالبہ کیا ہے اس پر عملدرآمد کرنا کسی ایک حکومتی ادارے کا کام نہیں ہے، اس حوالے سے پارلیمنٹ، حکومت، عدلیہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہر سطح پر کام کرنا ہوگا۔ پاکستان کو جلد از جلد قانون سازی کے علاوہ ایف اے ٹی ایف کی شرائط کو پورا کرنے کے لئے عملدرآمد کے طریقہ کار کو بھی وضع کرنا ہوگا۔ ایف اے ٹی ایف کی شرائط کو پاکستان مخالف تصور نہیں کرنا چاہیئے، اگر پاکستان میں سرمائے کی غیر قانونی نقل و حرکت رُکے گی تو اس کا فائدہ قانونی طریقے سے کمانے والے عام عوام کو ہوگا، حکومت کی جانب سے معیشت کو دستاویزی بنانے میں مدد ملے گی، قانونی لین دین میں اضافے سے ٹیکسوں کی وصولی بھی بہتر ہوگی، سب سے بڑھ کر دہشت گردوں کی مالی معاونت اور سہولت کاری پر کاری ضرب لگنے سے ملک میں امن و امان کی صورتحال میں بھی بہتری آئے گی۔

بشکریہ اسلام ٹائمز

یہ بھی دیکھیں

پاکستان اور روس رفتہ رفتہ قریب آرہے ہیں

تحریر: ثاقب اکبر ”معاملہ سیدھا سیدھا ہے۔ بین الاقوامی سیاست میں نہ مستقل دشمنیاں ہوتی …