منگل , 12 نومبر 2019

لبنان میں احتجاجی مظاہروں کے بعد 4 وزراء عہدوں سےمستعفی ہوگئے

بیروت: لبنان میں 3 دنوں سے جاری احتجاجی مظاہروں کے بعد 4 وزرا نے مستعفی اور ایک اتحادی جماعت نے حکومت سے علیحدگی کا اعلان کردیا ہے۔

لبنان میں 3 دنوں سے جاری احتجاجی مظاہروں کے بعد 4 وزرا نے مستعفی اور ایک اتحادی جماعت نے حکومت سے علیحدگی کا اعلان کردیا ہے۔

ذرائع کے مطابق بیروت اور طرابلس سمیت لبنان کی تمام ہی بڑے شہروں کی مرکزی شاہراہیں احتجاجی مظاہرین سے بھری ہوئی ہیں، یہ مظاہرین تین دن سے سڑکوں پر موجود ہیں جب کہ حکومت مخالف احتجاج نے پُرتشدد مظاہروں کی صورت اختیار کرلی ہے، توڑ پھوڑ جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپوں کے باعث سڑکیں میدانِ جنگ کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ مظاہرین وٹس ایپ اور دیگر سماجی سائٹوں پر اضافی ٹیکس عائد کرنے کے حکومتی فیصلے کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔

حکومت مخالف مظاہروں کو عوامی حمایت ملنے کے بعد اتحادیوں کے سہارے کھڑی سعد حریری کی حکومت کمزور پڑتی جارہی ہے، حکومت کی اتحادی جماعت ’کریسچیئن پارٹی‘ نے اتحاد سے علیحدگی جب کہ ’لبنانی فورس پارٹی‘ کے 4 وزرا نے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا ہے۔ وزیراعظم سعد حریری نے اپنے اتحادیوں کو منانے کی کوششوں کا آغاز کرتے ہوئے ایک ” ریفارم پیکیج ” کا اعلان کیا ہے جس میں قیمتوں اور نرخوں میں کمی کا عندیہ دیا گیا ہے جو کہ مظاہرین کا درینہ مطالبہ بھی ہے تاہم مظاہرین کی جانب سے پختہ یقین دہانی اور چند فوری قدامات تک احتجاج ختم نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

متحدہ عرب امارات:موسلا دھار بارش میں سڑکیں تالاب بن گئیں

ابوظہبی: متحدہ عرب امارات ميں بارش سے معمولات زندگی متاثر ہيں، جہاں وقفے وقفے سے …