منگل , 12 نومبر 2019

وزیرِاعظم صاحب! ثالثی سے زیادہ ووٹرز کو اہمیت دیجیے

ایف ایس اعجازالدین

سابق بھارتی وزیرِاعظم اندرا گاندھی نے جب اپنے عشایے پر مدعو پاکستانی مہمان کو یہ نصیحت کی کہ ’جنتا کو مت بھولیے گا‘ تو اس نصیحت کی سادگی نے پاکستانی مہمان کو سوچ میں ڈال دیا۔ وہ سوچنے لگے کہ کھانے کے دوران بھارتی وزیرِاعظم کو یہ بات دہرانے کی کیا ضرورت پیش آئی، وہ اس شش و پنج سے اس وقت باہر نکلے جب انہیں یہ اندازہ ہوا کہ وہ انہیں سیاست کا ایک بنیادی سبق دے رہی ہیں۔

وہ جانتی تھیں کہ مغرب اور روس بھلے ہی انہیں دیوی آف ڈیموکریسی (جمہوریت کی دیوی) کے طور پر کتنا ہی پوجتے ہوں لیکن ان کے پاس طاقت ہے تو اپنے ووٹروں کی وجہ سے ہے، اُن ممالک کی بدولت نہیں۔

دیگر رہنما اس قدر محتاط نہیں رہے ہیں۔ متعدد بلکہ بہت سارے رہنما تو یونانی قصوں کے اس کووے کی مانند رہے ہیں جو خوشامد اور چاپلوسی کی زد میں آ کر اپنا ہی نقصان کر بیٹھا تھا۔

امریکی صدر رچرڈ نکسن سمجھتے ہیں کہ انہیں بین الاقوامی سیاست کے بارے میں دلچسپ اور گہری آگاہی اس وقت حاصل ہوئی جب بطورِ نائب صدر انہیں دنیا کا چکر لگانے کا موقع ملا۔ پھر بطورِ صدر انہوں نے روس کے ساتھ تعلقات ٹھیک کیے، شمالی ویتنام کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے میں اہم کردار ادا کیا اور وہ اسرائیل کا دورہ کرنے والے پہلے امریکی صدر بنے۔

ان کے سفارتی کارناموں میں جو سب سے نمایاں کارنامہ رہا وہ 1971ء میں عوامی جمہوریہ چین کے ساتھ تعلقات میں ہونے والی غیر معمولی پیش رفت تھا، جس مقصد کے لیے انہوں نے رومانیہ اور ساتھ ہی ساتھ پاکستان کو مصالحت کار کے طور پر استعمال کیا۔ تاہم پھر واٹر گیٹ اسکینڈل کی صورت میں انہیں اپنے ملک کے اندر بھاری قیمت چکانی پڑی تھی۔

دیگر رہنما بھی اسی نقشِ قدم پر چلنے سے خود کو روک نہ پائے۔ وزیرِاعظم مارگریٹ تھیچر نے یورپی یونین کے حوالے سے پالیسیوں کی اس قدر زبردست انداز میں پیروی کی کہ ہاؤس آف کامنز میں ان کے اپنے ساتھی خود کو نظر انداز ہوتا ہوا محسوس کرنے لگے تھے۔ حالانکہ (وہ اس سے پہلے ہی انہیں غیر اہم محسوس کروا چکی تھیں۔)

آخر میں ہوا یہ کہ ہاؤس آف کامنز میں انہیں عدم اعتماد کی تحریک لاکر عہدے سے نہیں ہٹایا گیا بلکہ ان کی اپنی ہی جماعت کنزرویٹو پارٹی میں موجود سازش کاروں کے ذریعے انہیں فارغ کردیا گیا۔ تھیچر کے ساتھیوں کو محسوس ہوا کہ وہ ویسٹ منسٹر سے بہت زیادہ آگے جاچکی تھیں۔ پھر کئی سال بعد تھیریسا مے کو اپنے ہی پکے ساتھیوں کے ہاتھوں نقصان پہنچا۔

ان کے پیش رو ہیرولڈ میک میلن کبھی پیٹر سیلرز کے لیے طنز و مزاح کا موضوع ہوا کرتے تھے۔ وہ میک میلن کی نقل اتارتے ہوئے یہ کہتے کہ ’گریٹ بریٹین یورپ میں ایک ایسے اہم مقام پر واقع ہے جہاں سے وہ ایماندار بروکر کے طور پر اپنا کردار ادا کرسکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ کوئی بھی اس سے زیادہ ایماندار نہیں ہوسکتا اور کوئی بھی بروکر نہیں بن سکتا۔‘

یہی بات پاکستان پر بھی صادق آتی ہے۔ خطے میں پاکستان ایسے مقام پر واقع ہے جہاں سے وہ ایماندار بروکر کے طور پر اپنا کردار ادا کرسکتا ہے، ظاہر ہے اب وزیرِاعظم عمران خان سے زیادہ ایماندار کون ہوگا اور کوئی بھی ملک بروکر بن ہی نہیں سکتا۔

وزیرِاعظم عمران خان کا مشن ہے کہ آتش مزاج نو دولتیے کھرب پتی عربوں اور کورش اعظم کے وارثوں کے درمیان امن قائم کیا جائے۔ اگر یہ مشن کامیاب ہوجاتا ہے تو اس کامیابی کے پیچھے 3 باپ ہوں گے، سعودی عرب، ایران اور وہ خود اور اگر مشن ناکام ہوجاتا ہے تو اس یتیم مشن کو انہیں تن تنہا ہی پالنا پڑے گا۔

دو طرفہ تنازعات کے شکار ممالک کی کوشش ہوتی ہے کہ تیسرے فریق کی ثالثی کے بغیر ہی براہِ راست تمام مسائل کو حل کرلیا جائے۔ اس کے پیچھے ایک ٹھوس وجہ ہے۔ کوئی بھی ریاست دوسرے کی کارکردگی کی کوئی گارنٹی نہیں دے سکتی۔ ایک بروکر زیادہ سے زیادہ دو فریقوں کے درمیان معاہدے کے لیے سہولت تو فراہم کرسکتا ہے البتہ اس پر عمل درآمد کی ذمہ داری نہیں اٹھا سکتا۔

دورِ جدید کا ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ممالک معاہدوں کی پابندی کو زیادہ اہمیت ہی نہیں دیتے۔ وہ ایک لحظے میں ہی معاہدوں سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔

جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکش (جے سی پی اے) کی ہی مثال لیجیے، جس پر 2015ء میں سیکیورٹی کونسل کے 5 مستقل ممبران (امریکا، روس، چین، فرانس اور برطانیہ) کے علاوہ یورپی یونین اور جرمنی نے دستخط کیے تھے۔

لیکن 2018ء میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ببانگِ دہل معاہدے سے پیچھے ہٹنے کا اعلان کردیا اور یوں جی سی پی اے غیر فعال بن کر رہ گیا۔ اس سے بھی بُری بات یہ تھی کہ معاہدے میں شامل دیگر ملکوں نے امریکا کو اس پلان میں دوبارہ شامل ہونے پر آمادہ بھی نہیں کیا اور نہ ہی انہوں نے معاہدہ ختم ہونے دیا۔ اب یہ معاہدہ ہوا میں لٹکا ہوا ٹھیک اسی طرح نظر آتا ہے جیسے ایٹمی دھماکے کے بعد آسمان کی طرف اٹھنے والا گرد و غبار کا بڑا سا بادل ہمیشہ کے لیے ہوا میں معلق ہوگیا ہو۔

1972ء کے ہونے والے شملہ معاہدے اور اس کی روشنی میں مرتب کیے جانے والے 1999ء کے لاہور اعلامیے کی مثال لیجیے جس پر پاکستان اور بھارت دونوں نے ہی دستخط ثبت کیے تھے۔ بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی نے زیادہ غور و فکر کیے بغیر ان دستاویزات کو تاریخ کی ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا۔ اور اب ماضی کی ان دستاویزات کے بکھرے حروف کو دوبارہ مرتب کرکے ایک نیا معاہدہ تیار کرنے میں ایک نسل گزر جائے گی۔

ایسے بہت سے لوگ ہیں جو دونوں ملکوں کے سربراہوں کو یہ یاد دلا رہے ہیں کہ جن بلند و بالا میناروں پر وہ کھڑے ہوئے ہیں ان کی بنیادوں میں ان کا خون پسینہ شامل ہے۔ رگھو رام راجن (جو ریزرو بینک آف انڈیا کے سابق سربراہ ہیں) جیسے تجربہ کار بھارتی ممکنہ خدشات کا اظہار بھی کرچکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارت کے مالی خسارے کی کئی ’حقیقتیں پوشیدہ رکھی جارہی ہیں‘ اور یہ کہ بھارتی معیشت ’پریشان کن‘ صورتحال کی طرف بڑھ رہی ہے۔

پاکستانی معیشت کی حالت تو اور بھی بُری ہے۔ اسٹیٹ بینک پاکستان کی سابق گورنر ڈاکٹر شمشاد اختر نے وزیرِاعظم کی حکومت میں عہدہ لینے سے اس لیے انکار کردیا کہ انہوں نے عہدے کو اپنے لائق ہی نہ سمجھا۔ مشیرِ خزانہ اور ایف بی آر کے چیئرمین کا کہنا ہے کہ چونکہ ہماری درآمدات میں کمی آئی ہے اس لیے ہمارے مالی خسارے میں بہتری آئی ہے۔ اسلام آباد میں موجود لوگوں کو کیا یہ یاد بھی ہے کہ ہمارے ملک میں کسی وقت میں درآمدات اور برآمدات سے متعلق پالیسیاں بھی ہوا کرتی تھیں؟

کیا کسی کو 2018ء میں بطورِ وزیرِاعظم عمران خان کی پہلی تقریر یاد ہے؟ جس میں انہوں نے کہا تھا کہ تعلیمی بحران کو ہنگامی بنیادوں پر حل کیا جائے گا (واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے بھی 2013ء میں یہی الفاظ استعمال کیے تھے) اور ان کی حکومت اسکول سے باہر 2 کروڑ 25 لاکھ بچوں کو بہتر اسکولوں میں داخل کروائے گی۔ یا پھر وزیرِاعظم ہاؤس کو اعلی معیار کی حامل ریسرچ یونیورسٹی میں بدلنے کا وعدہ کسی کو یاد ہے؟

یہ سب کچھ ضرور ہوگا، لیکن صرف اس وقت جب ہمارے سربراہانِ ریاست سرکاری دوروں پر جانا اور وہاں اپنی ثالث کاری کی منت سماجت کرنا بند کریں گے۔

نوٹ: ابلاغ نیوز کی پالیسی کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

پاکستان اور روس رفتہ رفتہ قریب آرہے ہیں

تحریر: ثاقب اکبر ”معاملہ سیدھا سیدھا ہے۔ بین الاقوامی سیاست میں نہ مستقل دشمنیاں ہوتی …