منگل , 12 نومبر 2019

ثالث غیر جانبدار ہوتا ہے

تحریر: ثاقب اکبر

ثالث غیر جانبدار ہوتا ہے یا اسے غیر جانبدار ہونا چاہیے۔ یہ پاکستان ہی کا حوصلہ ہے کہ جو اپنے تمام تر ماضی اور حال کے باوجود سعودی عرب اور ایران کے مابین ثالثی کے لیے اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ ایران کے حوصلے کی بھی داد دینا چاہیے کہ اس نے کھلے دل سے اس ثالثی کو قبول کر لیا ہے۔ البتہ پاکستان کے وزیراعظم جو پہلے ثالثی کا لفظ استعمال کرتے رہے بعدازاں انھوں نے اپنے لیے ”سہولت کار“ کے منصب کا انتخاب کیا ہے۔ شاید یہ لفظ پاکستان کے پس منظر اور پیش منظر کے لحاظ سے بہتر بھی ہے۔ عجیب بات ہے کہ پاکستان کی طرف سے اس سفارتکاری یا رابطہ کاری کے دوران میں سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے اس بات کا انکار ہی کر دیا کہ سعودی عرب نے پاکستان سے ثالثی کے لیے کہا ہے۔ ان کے اس بیان کی حقیقت کیا ہے یہ تو سعودی عرب ہی واضح کر سکتا ہے، لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ دنیا کے مختلف اداروں نے اس امر کی خبر دی ہے کہ امریکی صدر اور سعودی ولی عہد نے پاکستان سے ایران اور سعودی عرب کے مابین رابطہ کاری کے لیے کہا ہے۔

شاید گومگو پیدا کرنے والے بعض بیانات کی وجہ سے ہی پاکستان کے دفتر خارجہ کو کہنا پڑا کہ یہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کا اپنا اقدام ہے، کیونکہ وہ شروع سے ہی دونوں ملکوں کے مابین ایک ثالث کا کردار ادا کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ ثالث، سہولت کار یا رابطہ کار کا کردار ادا کرنا یقیناً پاکستان کے لیے ایک افتخار کی بات ہے اور لائق قدر بھی ہے، تاہم یہ سوال اپنی جگہ پر بہت اہم ہے کہ کیا ایسا کردار ادا کرنے کے لیے غیر جانبدار ہونے کی جو شرط بیان کی جاتی ہے، پاکستان اس پر پورا اترتا ہے یا نہیں؟ اس سلسلے میں پاکستان کے دونوں ممالک سے تعلقات کی سطح کا جائزہ لینا پڑے گا۔ انڈیپینڈنٹ اردو کی ایک رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں متعین ایک سابق پاکستانی سفیر عمر خان شیر زئی کا کہنا ہے کہ امریکا کے بعد سعودی عرب کے لیے پاکستان اہم ہے۔ سعودی عرب پاکستان سے دفاعی تعاون کا خواہاں ہے۔ پاکستان میں سرمایہ کاری کی بڑی وجہ یہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ 1998ء میں جوہری دھماکوں کے تجربوں سے پہلے سعودی فرمانروا شاہ فہد بن عبدالعزیز کو پاکستان کی طرف سے جوہری دھماکوں کے تجربے اور ممکنہ عالمی پابندیوں سے متعلق حکومت پاکستان کے خدشات سے آگاہ کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ سعودی عرب توقعات سے بڑھ کر پاکستان کی مدد کرے گا۔ ایسے ہی کئی مواقع پر سعودی عرب نے پاکستان کا مالی لحاظ سے بڑھ چڑھ کر ساتھ دیا جس کی وجہ سے پاکستان بھی سعودی عرب کی طرف سے سٹرٹیجک تعاون کی خواہش پر پیچھے نہیں رہ سکتا۔ ساٹھ کی دہائی میں پاکستان نے ہی سعودی ایئر فورس بنانے میں مدد دی تھی۔ ستر کی دہائی میں بھی تقریباً پندرہ ہزار پاکستانی فوجی سعودی عرب میں متعین رہے ہیں اور اس وقت سعودی عرب کی قیادت میں جو انتالیس ممالک پر مشتمل فوجی اتحاد قائم ہے، اس کے سربراہ پاکستان کے سابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف ہیں۔ اس میں کسی قسم کا کوئی شبہ نہیں کہ یہ اتحاد ایران کے خلاف بنایا گیا ہے اور اس وقت اس کی سب سے بڑی ذمہ داری یمن کے خلاف جنگ ہے۔

افغانستان میں سوویت یونین کی فوجی مداخلت کے بعد مجاہدین کی حمایت اور پھر طالبان کی معاونت میں پاکستان اور سعودی عرب اکٹھے رہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق افغان جہاد کے آدھے اخراجات سعودی عرب نے برداشت کیے تھے۔ عمران خان کی قیادت میں قائم ہونے والی نئی حکومت کو مالی مشکلات سے نکالنے کے لیے بھی سعودی عرب پیش پیش رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے آرامکو پر یمنیوں کے حملے کے بعد سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ ٹیلی فون پر اظہار یکجہتی کیا اور آرامکو پر حملوں کی مذمت کی اور ان کا مقابلہ کرنے کے لیے سعودی مملکت کے اقدامات کی حمایت کی۔ انھوں نے سعودی عرب کے دورہ کے موقع پر شاہ سلمان کو پاکستان کی مسلسل حمایت کا یقین دلایا۔ جب پاکستان کی سپریم کورٹ کی طرف سے جنرل(ر) راحیل شریف کے وزارت دفاع کی طرف سے دیے گئے این او سی کو غیر قانونی قرار دیا گیا تو وزیراعظم عمران خان کی صدارت میں کابینہ کے اجلاس میں انھیں این او سی جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

اس کے ساتھ ساتھ سعودی عرب اور امریکا کے مابین جس درجے کے تعلقات ہیں انھیں بھی پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ عمران خان کی قیادت میں پاکستان کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ جو نئے تعلقات اور رشتے استوار ہوئے ہیں وہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ دوسری طرف ایران اور امریکا کے مابین تناﺅ تاریخ کے شدید ترین مرحلے سے گزر رہا ہے۔ ایسے میں پاکستان کا سعودی عرب اور ایران کے مابین ثالثی یا سہولت کاری کا کردار بہت سے سوالات کو جنم دیتا ہے۔ شاید اسے ان کوششوں کے تناظر میں بھی دیکھنے کی ضرورت ہے جو جاپان، جرمنی اور فرانس کی حکومتوں کے سربراہوں کی طرف سے امریکا اور ایران کے مابین مذاکرات کے لیے کی جارہی ہیں۔ بعید نہیں ہے کہ وزیراعظم عمران خان کا سفارتکاری کا مذکورہ اقدام اس پس منظر میں دیکھا جائے۔ اگرچہ آرامکو پر حوثیوں کے حملے کے بعد اس امر کا امکان پیدا ہو گیا تھا کہ سعودی عرب اپنی جنگی حکمت عملی پر نظر ثانی کرے، چونکہ اگر محمد بن سلمان سعودی عرب کو ایک نئی طرز کا ملک بنانے کے درپے ہیں جس کی روشنی میں وہ آرامکو کو پرائیوٹائز کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

محمد بن سلمان ٹورازم انڈسٹری کو فروغ دینا چاہتے ہیں تو پھر سعودی عرب پر یمن جنگ کے نئے مرحلے میں خوف کی جو کیفیت طاری ہو گئی ہے، اس کا خاتمہ ضروری ہے۔ آرامکو کے بارے میں دیکھا گیا خواب اب شرمندہ تعبیر ہوتا دکھائی نہیں دیتا، یہاں تک کہ صورت حال یکسر تبدیل ہو جائے۔ اسی طرح جنگی حالات میں، انوسٹمینٹ ملکوں میں داخل نہیں ہوتی، بلکہ خارج ہوتی ہے۔ اس ساری صورت حال میں امریکا کی طرف سے سعودی عرب کے دفاع کے وعدے بھی مشکوک ہو گئے ہیں اور امریکی صلاحیتوں پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ علاوہ ازیں علاقے میں جو امریکا کے اقتصادی مفادات ہیں وہ بھی خطرے میں پڑ چکے ہیں۔ خطے کے مختلف ممالک میں چھیڑی گئی جنگیں بھی امریکی مفادات میں ختم ہوتی دکھائی نہیں دیتیں۔ لہٰذا بعید نہیں ہے کہ امریکا اور سعودی عرب فیس سیونگ کے لیے کسی راستے کی تلاش میں ہوں۔

ایسے میں پاکستان اگر کچھ کر سکے تو بہتوں کا بھلا ہے۔ ایران کے ساتھ کیے گئے پاکستان کے تمام تر وعدے ابھی تک وعدے ہی ہیں، ایران کے ساتھ پاکستان کے اقتصادی تعلقات بھی بہت نچلی سطح پر ہیں۔ پاکستان اور ایران کے مابین کوئی سرحدی جھگڑا نہ ہونے کے باوجود ابھی تک تمام معاملات فائلوں میں موجود ہیں، لیکن پھر بھی ایران تناﺅ کی کیفیت سے نکل آئے تو اس کے معاشی حالات یقیناً بہتر ہو سکتے ہیں، البتہ معاشی پابندیوں سے گزر کر آج کا ایران خاصا مختلف ہوچکا ہے۔ ایسے میں اس کی طرف سے اگر ثالثی کے اقدام کو کھلے دل سے خوش آمدید کہا گیا ہے تو اسے خطے کے لیے اچھی خبر قرار دینا چاہیے۔ البتہ پاکستان کے لیے سوچنے کی ضرورت ہے کہ ثالث غیر جانبدار ہوتا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

پاکستان اور روس رفتہ رفتہ قریب آرہے ہیں

تحریر: ثاقب اکبر ”معاملہ سیدھا سیدھا ہے۔ بین الاقوامی سیاست میں نہ مستقل دشمنیاں ہوتی …