منگل , 12 نومبر 2019

ترکی کا کردوں پر حملہ۔۔۔داعش کا احیاء (1)

تحریر: ڈاکٹر راشد عباس

شمالی شام کے کرد نشین علاقوں پر ترکی کی ایک ہفتے سے جاری جارحیت کے بعد جمعرات کی شب اعلان کیا گیا کہ امریکہ اور ترکی کے درمیان شمالی شام میں پانچ روزہ جنگ بندی پر اتفاق ہوگیا ہے۔ امریکہ اور ترکی کے درمیان ہونے والے سمجھوتے کی بنیاد پر انقرہ شمالی شام میں اپنی فوجی کارروائیاں پانچ دن کے لئے روک دے گا، تاکہ کرد ملیشیا ترکی کی سرحدوں سے پانچ کلومیٹر تک پیچھے ہٹ جائے۔ ترکی کی فوج نے گذشتہ ہفتے بدھ سے دہشتگردی کے خلاف جنگ اور شام و ترکی کی سرحدوں سے کرد ملیشیا کا صفایا کرنے کے بہانے، اس ملک کے صدر رجب طیب اردوغان کے حکم سے شمالی شام پر حملہ کیا تھا۔ ترکی کیطرف سے شام کے کردنشین علاقے پر حملے نے کئی اندیشوں کو جنم دے دیا ہے۔ کیا اس سے ترکی اور شام آمنے سامنے آجائیں گے اور کرد بشار اسد کے اتحادی بن کر کردستان بنانے کے نعرے سے دستبردار ہو جائیں گے اور کیا اس طرح امریکہ اپنے فوجی انخلاء سے داعش کے لیے دو بارہ ماحول تیار کرنے میں کامیاب ہوجائے گا۔ ترکی کے حالیہ حملے نے اس طرح کے کئی سوالات کو سامنے لاکھڑا کیا ہے۔

ترکی کے اس اقدام سے آستانہ مذکرات پر کیا اثرات مرتب ہونگے اور مزاحمتی بلاک کا اس معاملے میں کیا کردار ہو گا؟۔ ان سوالات نے خطے کے حالات کے بارے تجزیہ کرنے والوں کو نئی صورت حال سے دوچار کرد یا ہے۔ دوسری جانب ترکی کیطرف سے شمالی شام اور کردوں پر حالیہ حملے پر عالمی سطح پر مختلف طرح کے ردعمل سامنے آرہے ہیں۔ ترکی نے یہ حملہ بظاہر کرد گروپ پی کے کے سے مربوط کرد ڈیموکریٹک فورسز کے خلاف انجام دیا، جسے انقرہ دہشتگرد قرار دیتا ہے، لیکن ترکی کے اس اقدام پر خطے کے ممالک نیز امریکہ، یورپ اور روس نے مختلف انداز کے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ البتہ اس بات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ ترکی نے یہ حملہ پہلی بار نہیں کیا ہے، بلکہ ترکی کیطرف کردوں پر یہ تیسرا حملہ ہے۔ ترکی نے پہلی بار اگست 2016ء میں فرات شیلڈ کے نام سے فوجی کاروائی انجام دی تھی اور اس کاروائی میں ترک فورسز نے اعزاز سے لیکر طرابلس کے علاقے پر قبضہ کر لیا تھا، دوسرا حملہ جنوری 2018ء میں شاخ زیتون نامی فوجی آپریشن کے نام سے کیا، جس کے نتیجے میں ترکی کی فوجوں نے شام کے شمالی شہر عفرین شہر پر قبضہ کر لیا تھا۔

ترک فورسز کا موجودہ فوجی آپریشن جو بہار صلح، کے نام سے انجام پا رہا ہے، ماضی کے تمام حملوں سے زیادہ وسیع اور منظم تر ہے۔ یہ فوجی کاروائی فرات اور شامی سرحد کے ساتھ ساتھ تقریبا 260 کلو میٹر رقبہ پر انجام پا رہی ہے۔ اس کاروائی میں ترک فورسز شامی سرحد کے 30 سے 40 کلو میٹر کے اندر آ کر مختلف کاروائیاں انجام دے رہی ہیں۔ ترکی کیطرف سے اس وسیع فوجی کاروائی پر امریکہ یورپ اور روس کا موقف سامنے آچکا ہے، جبکہ عرب ممالک بھی اس کاروائی سے متعلق اپنا اپنا نقطہ نظر بیان کر چکے ہیں۔ ترکی کے حالیہ حملے کے تناظر میں امریکہ، یورپ اور روس تین بڑے کھلاڑی اپنے اپنے مفادات کی روشنی میں موقف اختیار کر رہے ہیں۔ امریکہ ایک بیرونی فورس کے عنوان سے کرد ملیشا، کرد ڈیموکریٹک فورسز کے ساتھ ملکر بظاہر دہشت گرد گروہ داعش کے خلاف سرگرم عمل تھی، جبکہ ترکی امریکہ کے اس اقدام کو انقرہ مخالف کردوں کی تنظیم پی کے کے، کی عملی حمایت سے تعبیر کرتا تھا۔ ترکی نے اس حوالے سے کئی بار واشنگٹن پر الزام لگایا تھا کہ امریکہ کردوں کو بڑی مقدار میں جدید اسلحہ فراہم کر رہا ہے۔

ترکی کا یہ موقف اور الزام ڈونالڈ ٹرامپ کے حالیہ اقدام سے پہلے زور و شور سے بیان کیا جانا تھا اور ترکی نے کئ بار امریکہ سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اس علاقے سے اپنی فورسز نکال لے۔ ترکی نے گزشتہ ہفتے اپنی سرحدوں کے تیس کلو میٹر کے علاقے کو ایک پرامن کوریڈور بنانے کے لیے فوجی آپریشن کا آغاز کیا۔ یہ فوجی کاروائی اس علاقے میں موجود کرد ملیشا اور کرد ڈیموکریٹک فورسز کے خلاف تھی۔ ترکی اس کوریڈور یا 31 کلو میٹر کی سرحدی پٹی کو شام کے بیس لاکھ مہاجرین کی آباد کاری کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے، امریکہ کے موقف میں تبدیلی کا تائثر اس وقت سامنے آیا۔ جب ڈونالڈ ٹرامپ اور رجب طیب اردوغان کی ٹیلی فونک گفتگو سامنے آئی۔ یہ ٹیلی فونک مکالمہ 6 اکتوبر کو انجام پایا۔ اس گفتگو کے بعد وائٹ ہاوس نے اعلان کیا کہ امریکہ شام اور ترک کی سرحدوں سے اپنے فوجیوں کا انخلاء چاہتا ہے۔ امریکہ کا یہ اعلان کردوں سے کیے گئے، ماضی کے وعدوں سے کھلی خلاف ورزی تھی۔ امریکہ نے شام کے شمالی سرحدوں پر موجود کرد ملیشا کو دعدہ دیا ہوا تھا کہ وہ ترک فورسز کے حملے کی صورت میں ان کا ساتھ دے گا۔

امریکہ نے اپنی فورسز کو نکالنے کا حکم دینے کے ساتھ ترکی کو یہ دھمکی ضرور دی تھی کہ اگر ترکی نے شمالی شام میں ایسا اقدام انجام دیا اور ہماری ریڈ لائن کو عبور کرنے کا باعث بنا تو واشنگٹن ترکی کے اقتصاد کو برباد کر کے رکھ دے گا۔ اسی تناظر میں امریکی وزارت جنگ نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ترکی کا حالیہ حملہ امریکہ کی تائید سے انجام نہیں پایا اور شمالی شام سے امریکی فورسز کا انخلاء ترکی بارڈر سے امریکی فورسز کا محدود انخلاء ہے۔ امریکہ کی سابق وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے سات اکتوبر کو امریکی اقدام پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ترکی کیطرف سے شام کے سرحدی علاقوں پر حملہ اور ڈونلڈ ٹرمپ کیطرف سے امریکی فورسز کا انخلاء صدارتی حلف کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ترکی اور شام کی مشترکہ سرحدوں سے امریکی فورسز کا انخلاء ڈونلڈ ٹرامپ کی رجب طیب اردغان کے مقابلے میں ایک شکست سے تعبیر کیا جا رہا ہے اور اسی علاقے سے امریکی فوجی انخلاء پر امریکہ کے اندر سے شدید ردعمل سامنے آرہا ہے۔ امریکہ میں ڈیموکریٹس اور ری پبلکنز دونوں اس انخلاء کو شام سے امریکی فورسز کے مکمل انخلاء سے تعبیر کر رہے ہیں اور ڈونالڈ ٹرامپ پر کڑی تنقید کر رہے ہیں کہ اس انخلاء کے خطرناک نتائج سامنے آسکتے ہیں۔

امریکی ایوان نمائندگان کی اسپکر نینسی پلوسی نے کہا ہے کہ یہ انخلاء تحفظات کو مدنظر رکھے بغیر ایک گمراہ کن فیصلہ ہے۔ اس سے امریکی فورسز کی داعش کے خلاف کوششیں بے نتیجہ ثابت ہونگی اور اس میں روس اور ایران کے لیے خطرناک پیغام جائے گا۔ اس سے ہمارے اتحادی ممالک کو بھی غلط پیغام جائے گا اور یہ تاثر ابھر ے گا کہ امریکہ اپنے اتحادیوں کے لیے قابل اعتماد نہیں ہے۔ امریکی ماہرین کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ اقدام 2018ء کی قومی سلامتی کی طے شدہ معین اسٹریٹجی سے تضاد رکھتا ہے۔ اس اسٹریٹجی میں مطلوبہ اہداف کے حصول کے لیے جو حکمت عملی طے کی گئی تھی، امریکی فورسز کا اس علاقے سے انخلاء اس سے ہرگز میل نہیں کھاتا۔ امریکی سینٹ میں ری پبلکنز کے سینٹر میک کانل نے ٹرامپ کے اس فیصلے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے سے صرف روس، ایران اور بشار اسد کو فائدہ پہنچے گا اور اس سے داعش کو دوبارہ پروان چڑھنے کا موقع مل جائے گا۔ مک کانل کا کہنا تھا کہ شام سے امریکی افواج کا انخلاء امریکہ کے قومی مفاد میں نہیں ہے۔ امریکہ کے اعلیٰ فوجی حکام بھی ڈونلڈ ٹرامپ کے اس فیصلے پر تنقید کر رہے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس فیصلے کے بعد ایک بار پھر ڈونلڈٹرمپ اور امریکی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان تنازع زور پکڑ لے گا۔

ایک ایسے وقت میں جب ڈونالڈ ٹرامپ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کا چرچا بھی زوروں پر ہے، امریکی صدر کا یہ اقدام جلتی پر تیل کا کام کر دے گا۔ ڈونلڈ ٹرامپ کی مخالف سیاسی جماعت ڈیموکریٹس اس فرصت سے بھرپور استفادہ کر کے ٹرامپ کے لیے مشکلات ایجاد کر سکتی ہے۔ ڈونالڈ ٹرامپ کے اس فیصلے سے خطے کے امریکی اتحادی بھی مایوسی کا شکار ہیں اور انکا امریکہ پر اعتماد ختم ہو جائیگا۔ امریکہ کی طرف سے ترکی کو حملہ روکنے کی تاکید اور حالیہ جنگ بندی ایک نیا موڑ ضرور ہے، لیکن ترک حکومت تمام دھمکیوں کو نظرانداز کر کے اپنی روش پر قائم رہنے کا اعلان کرچکی ہے۔ امریکہ کے وزیر خزانہ اسٹیو منوچین نے گزشتہ جمعہ کے دن اعلان کیا تھا کہ ڈونالڈٹرامپ نے ایک حکم نامہ پر دستخط کر دیئے ہیں، جس کی بدولت امریکہ ترکی کے خلاف جاری پابندیاں عائد کر سکتا ہے۔ امریکی وزیر خزانہ کے بقول اب امریکہ ترکی کے خلاف سنگین پابندیاں عائد کر کے ترکی کی اقتصاد کو بھاری نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ٹرامپ نے امریکی انتظامیہ کو کہا ہے کہ ترکی کے خلاف سنگین پابندیاں عائد کرنے کی منصوبہ بندی کریں، لیکن یہ پابندیاں فوری عائد نہیں ہونگی، امریکی دھمکیوں کے بعد ترکی میں ترک کرنسی لیرا کی ویلیو کم ہوتی ہے۔
جاری ہے۔۔۔

نوٹ: ابلاغ نیوز کی پالیسی کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

پاکستان اور روس رفتہ رفتہ قریب آرہے ہیں

تحریر: ثاقب اکبر ”معاملہ سیدھا سیدھا ہے۔ بین الاقوامی سیاست میں نہ مستقل دشمنیاں ہوتی …