بدھ , 13 نومبر 2019

لبنان میں ٹیکس انتفاضہ کے مطالبات

تحریر: سید اسد عباس

لبنان اقوام و مذاہب کا عجیب و غریب مرقع ہے، جو 1920ء کے سوریس معاہدے کا نتیجے میں معرض وجود میں آیا۔ مسلم خطے کے طور پر لبنان کے علاقے اموی، عباسی، سلجوق اور فاطمی حکومتوں کے زیر تسلط رہا۔ عثمانی خلافت کے خاتمے کے بعد لبنان فرانس کے حصے میں آیا۔ لبنان کا سیاسی نظام فرانس ہی کی دین ہے، جس میں ملک کا صدر عیسائی، وزیراعظم سنی مسلمان اور اسپیکر شیعہ مسلمان ہوتا ہے۔ ملک کا نائب وزیراعظم اور ڈپٹی اسپییکر ایسٹرن آرتھوڈاکس مذہب سے ہوتا ہے۔ لبنان میں پارلیمان کی نشستیں مسلمانوں اور عیسائیوں کے مابین برابر تقسیم ہیں، جس کا مقصد ملک میں مختلف مذاہب اور ان کے پیروکاروں کو اقتدار میں نمائندگی دینا ہے۔ ریاست کا سربراہ صدر ہے، سربراہِ حکومت وزیراعظم ہوتا ہے اور اس کی کابینہ میں بھی مذکورہ مذہبی اور فرقہ وارانہ تنوع کا خیال رکھا جاتا ہے۔ لبنان میں سرکاری طور پر اٹھارہ مذہبی گروہ موجود ہیں، جن میں سے ہر گروہ کا اپنا عائلی قانون اور عدالتی نظام ہے۔ لبنان کی مشرقی اور شمالی سرحد پر شام واقع ہے، جبکہ جنوب میں مقبوضہ فلسطین اور مغرب میں بحیرہ روم ہے۔ رقبے اور آبادی کے اعتبار سے یہ ایک چھوٹا ملک ہے، تاہم 1950ء کے عشرے تک یہ دنیا میں جی ڈی پی میں بڑھوتری کے اعتبار سے دوسرے نمبر تھا۔

تیل کے ذخائر نہ ہونے کے باوجود اس جی ڈی پی کی شرح کا سبب لبنان میں قائم بینک اور اس کا تجارتی مرکز ہونا تھا۔ لبنان میں ایک طویل عرصے تک خانہ جنگی رہی، جس کا آغاز فلسطینی پناہ گزینوں کی لبنان میں آمد کے بعد ہوا۔ مسلمان، عیسائی اور پھر ان کے اندر موجود گروہ آپس میں دست و گریباں رہے۔ لبنانی صدر ایلاس سرکیس نے ہمسایہ ملک شام سے گزارش کی کہ ملک میں امن و امان کو بحال کرنے کے لیے وہ اپنی افواج کو لبنان میں داخل کرے، جسے عرب لیگ کے ایک اجلاس کے ذریعے قبول کیا گیا۔ 1982ء میں پی ایل او کے حملوں کو روکنے کے لیے اسرائیلی افواج لبنان میں داخل ہوئیں اور لبنان ایک بار پھر میدان جنگ بن گیا۔ اسرائیل کی آمد کے ساتھ ہی کئی ایک مغربی ممالک کی افواج بھی لبنان میں آگئیں۔ لبنان کی خانہ جنگی کے دوران میں زمینی حالات پر ڈاکٹر مصطفیٰ چمران شہید کی کتاب لبنان نہایت اہم ماخذ ہے۔ بہرحال لبنان میں آبادی کا تناسب، یہاں موجود مختلف اقوام اور مذہبی گروہوں، ان کی سیاسی پارٹیوں اور دھڑے بندیوں کے تناظر میں یہ حقیقت عیاں ہے کہ حکومتی امور چلانے اور انتظامات کے عنوان سے یہ ایک مشکل خطہ ہے۔

2000ء میں حزب اللہ کی جدوجہد کے سبب اسرائیل کو لبنان سے اپنی افواج کو نکالنا پڑا، ساتھ ہی شام میں حافظ الاسد کی موت اور لبنانی وزیراعظم کے قتل کے باعث عوام میں یہ مطالبہ زور پکڑنے لگا کہ ملک میں امن کی غرض سے تعینات کی گئی شامی افواج کو واپس جانا چاہیے۔ شامی افواج 2005ء میں لبنان سے واپس چلی گئیں۔ 2006ء میں اسرائیل نے دوبارہ لبنان پر حملہ کیا، جسے حزب اللہ نے ناکام بنایا اور اللہ نے حزب اللہ کے جوانوں کو کامیابی عطا فرمائی۔ خانہ جنگیوں اور مختلف سیاسی گروہوں کے مابین جنگ و جدل کا شکار ملک معاشی طور پر کمزوری کا شکار ہے، اس پر مستزاد بیرونی قرضے اور پناہ گزینوں کا بوجھ لبنان کی معیشت پر پڑ رہا ہے، گذشتہ دنوں لبنان میں ڈالر کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ دیکھنے کو ملا، حکومت نے ملک کی معیشت کو سنبھالنے کے لیے عوام پر نئے ٹیکسز لگانے کا اعلان کیا، جس کے جواب میں لبنان بھر سے عوام نئے ٹیکسوں کے خلاف سڑکوں پر آگئے۔ گذشتہ پانچ روز سے لبنان کے طول و عرض میں عام شہری اشیائے صرف کی گرانی، بنیادی زندگی کے وسائل کی عدم دستیابی اور حکومتی حلقوں میں کرپشن کے خلاف سڑکوں پر سراپا احتجاج ہیں۔

اگرچہ حکومت نے ابتدائی مظاہروں کے بعد ہی ٹیکس لگانے کے اعلان کو واپس لے لیا، تاہم ملک میں مختلف جماعتوں کی جانب سے حکومت کے استعفٰی اور ٹیکنوکریٹس کی حکومت بنانے کا مطالبہ سامنے آنے لگا۔ لبنان کی عیسائی جماعت القوات البنانیہ نے کابینہ سے اپنے وزراء کو مستعفی کرنے کا اعلان کردیا اور اس کے سربراہ سمیر گیگیا نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ حکومت اس معاشی بحران سے نہ نمٹنے کے سبب استعفی دے۔ یاد رہے کہ سمیر گیگیا نے 19 اکتوبر کو العربیہ نیوز چینل کے ساتھ ٹیلفونک رابطے میں کہا تھا کہ "لبنان میں اقتدار میں شامل فریق مایوسی اور لاچارگی کا شکار ہیں، ان کا اسٹیبلشمنٹ میں رہنا مناسب نہیں”۔ سمیر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کی جماعت ٹکنوکریٹس کی حکومت کی تشکیل تک پہنچنے کے لیے سعد الحریری کے ساتھ رابطہ میں ہے۔ حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے بھی ٹیکسوں کی مذمت کی، تاہم حکومت کے خاتمے کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے عوام سے کہا کہ ملک کی موجودہ معاشی حالت کی ذمہ دار فقط یہ حکومت نہیں، بلکہ سابقہ حکومت بھی ہے۔ امل ملیشیا کی جانب سے متعدد مقامات پر مظاہرین کو ڈرانے اور دھمکانے کی اطلاعات بھی گردش کر رہی ہیں۔

لبنان کے وزیراعظم نے گذشتہ دنوں اپنے اتحادیوں کو معاشی اصلاحات قبول کرنے کے لیے 72 گھنٹے کی مہلت دی تھی، جس کے مکمل ہونے پر انھوں نے جو اصلاحات پیش کیں، اس میں وزراء اور سیاستدانوں کی تنخواہوں میں پچاس فیصد کمی، کئی ایک ریاستی اداروں بشمول وزارت اطلاعات کا خاتمہ، ملک میں تعمیر و ترقی کے ذمہ دار اداروں کے بجٹ میں ستر فیصد کمی، سال کے آخر تک ملک میں ایک اینٹی کرپشن کمیٹی کا قیام، ٹیلی کمیونیکیشن کو پرائیویٹائز کرنے کے لیے اقدامات، ریاست کے زیراہتمام چلنے والے برقی نظام کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات، غربت کے تحت زندگی بسر کرنے والے خاندانوں کو لاکھوں ڈالرز کی فراہمی، اسی طرح گھروں کی تعمیر کے لیے 160 ڈالر کے قرضوں کی فراہمی، بینکوں کے منافع پر ٹیکس کی زیادہ کٹوتی وغیرہ شامل ہیں۔ آخری اطلاعات تک مظاہرین نے اس اعلان کو قبول نہیں کیا ہے اور انھوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ملک میں غیر سیاسی ججوں کی ایک کونسل تشکیل دی جائے، جو اگلے انتخابات تک ملک کے انتظامات چلائے۔

لبنان کے عوام اپنے ملک کے حالات کو بہتر سمجھتے ہیں، تاہم سید حسن نصراللہ کی بات صائب معلوم ہوتی ہے، اٹھارہ مذاہب اور مختلف قومیتوں کی موجودگی میں ایک مستحکم سیاسی نظام کی تشکیل کوئی آسان کام نہیں ہے۔ لبنانی عوام کے معاشی اصلاحات اور کرپشن کے خلاف اقدامات کے مطالبات ضرور جائز ہوں گے، تاہم اگلے انتخابات میں کوئی سونے کی چڑیا لبنانیوں کے ہاتھ آنے والی نہیں ہے، جس سے ان کے معاشی مسائل فوری طور پر حل ہو جائیں، یہ ایک صبر آزماء جدوجہد ہے جو لبنانیوں کو مل کر کرنی ہوگی۔ لبنان کے جغرافیائی حالات شاید کسی ایسی مہم جوئی کی اجازت نہیں دیتے، جس کے نتیجے میں لبنان ایک مرتبہ پھر خانہ جنگی یا جنوب میں بیٹھے خونخوار دشمن کے لیے تر نوالہ ثابت ہو۔ تاریخ اس امرکی گواہ ہے کہ لبنان میں پیدا ہونے والی ہر بے چینی اور بدامنی کا اصل منبع یہی خونخوار درندہ رہا ہے۔

نوٹ: ابلاغ نیوز کی پالیسی کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

پاکستان اور روس رفتہ رفتہ قریب آرہے ہیں

تحریر: ثاقب اکبر ”معاملہ سیدھا سیدھا ہے۔ بین الاقوامی سیاست میں نہ مستقل دشمنیاں ہوتی …