بدھ , 13 نومبر 2019

جمہوری اسلامی اور تھیوکریسی (حصہ پنجم)

تحریر: سید امتیاز علی رضوی

انقلاب اسلامی کے موجودہ رہبر آیت اللہ خامنہ ای نے امام خمینی (رہ) کی پچیسویں برسی کے موقع پر فرمایا: کسی کو یہ وہم و گمان نہیں ہونا چاہیے کہ حضرت امام خمینی (رہ) نے انتخابات کو مغربی ثقافت سے اخذ کیا اور پھر اسے اسلامی فکر کے ساتھ مخلوط کردیا کیونکہ اگر انتخابات اور جمہوریت، اسلامی شریعت کے متن سے اخذ نہ ہوسکتی ، تو امام (رہ) اس بات کو واضح اور صریح طور پر بیان کردیتے۔

رہبر جمہوری اسلامی ایرانکے اس بیان سے واضح ہے کہ انقلاب، اسلامی اصول و روایات پر قائم ہے جن میں سے ایک جمہوریت ہے۔ اسی خطاب میں آپ نے مزید فرمایا: اس سیاسی اور مدنی نظم کی حرکت جمہوریت کی بنیاد پر ہے جو اسی شریعت کا مظہر اور اسی سے برخاستہ ہے،اور عوام بالواسطہ یا بلا واسطہ ملک کے تمام حکمرانوں کو انتخاب کرتے ہیں۔

آیت اللہ خامنہ ای نے عرب دنیا میں بیداری کی تحریکیں اٹھنے کے موقع پر ایک خطاب میں فرمایا:
"وہ چیز جو ان ممالک کیلئے مددگار ثابت ہو سکتی ہے اسلامی جمہوریت کا نظریہ ہے۔ اسلامی جمہوریت کا نظریہ جو امام خمینی رہ کا عظیم کارنامہ ہے ان سب ممالک کیلئے بہترین نسخہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس میں جمہوریت بھی ہے اور اسکی بنیادیں بھی دین پر استوار ہیں”۔

تھیوکریسی اور جمہوریت ایک دوسرے کے متضاد دو نظریات ہیں۔ جہاں تھیوکریسی ہوگی وہاں جمہوریت نہیں ہوگی اور جہاں جمہوریت ہوگی وہاں تھیوکریسی نہیں ہوگی۔ جمہوری اسلامی ایران کے نادان دوست یہ کہہ کر کہ جمہوریت اسلام سے متصادم ہے ، جمہوری اسلامی کے بنیادی نظریہ ہی کی نفی کر دیتے ہیں دوسری طرف دشمن یہ کہتے ہیں کہ ایران میں صرف جمہوریت کا نام ہے کیونکہ وہاں جمہوری تقاضوں کو پورا نہیں کیا جاتا۔

اب ہم یہ جائزہ لیں کہ جمہوری اسلامی ایران جمہوریت کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے یا نہیں تاکہ پہلی صورت میں یہ ثابت ہو جائے کہ وہاں تھیوکریٹک حکومت نہیں ہے اور دوسری صورت دلیل بنے کہ وہاں تھیوکریسی ہے۔ پہلے بہتر یہ ہے کہ اجمالی طور پر جمہوریت اور جمہوری نظاموں کو سمجھ لیا جائے۔علمائے سیاست کے نزدیک کسی بھی جمہوری نظام حکومت میں عوام کو حکومت منتخب کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ جمہوری نظاموں میں عوام کو بنیادی حقوق حاصل ہوتے ہیں۔ منتخب نمائندے اپنے حلقے کی عوام کے سامنے جواب دہ ہوتا ہے۔ اسی طرح افراد پر قانون کی بالادستی جمہوریت کی بنیادی خصوصیت ہے۔ اگرچہ جمہوریت کی جامع تعریف میں خود علمائے سیاست کا بڑا اختلاف ہے، لیکن بحیثیت مجموعی اس سے ایسا نظام حکومت مراد ہے جس میں عوام کی رائے کو کسی نا کسی شکل میں حکومت کی پالیسیاں طے کرنے کے لیے بنیاد بنایا گیا ہو۔ لہذا ہم مذکورہ چار اصولوں پر نظام جمہوری اسلامی ایران کا جائزہ لیتے ہیں یعنی (۱) عوام کو حکمران منتخب کرنے کا حق حاصل ہونا (۲) عوام کو بنیادی حقوق ملنا (۳) عوامی نمائندوں کا اپنی عوام کے سامنے جوابدہ ہونا (۴) افراد پر قانون کی بالادستی ہونا۔ اگر یہ چار اصول اسلامی حکومت میں موجود و رائج ہیں تو ہم اطمینان سے کہہ سکتے ہیں کہ یہ نظام جمہوری ہے تھیوکریسی نہیں۔

انقلاب کی کامیابی کے بعد سب سے پہلے جمہوری اسلامی کے قیام کے لئے ایک عوامی ریفرنڈم کرایا گیا۔ اگر کوئی تھیوکریٹک حکومت بنانا مقصود ہوتا تو عوام کو کہا جاتا کہ اب اللہ تعالی کے نمائندوں کے ہاتھ میں اختیار آگیا ہے لہذا کسی عوامی رائے کی اہمیت نہیں ہے جیسا کہ طالبان اور داعش کی حکومتوں کے قیام میں کیا گیا۔ کیا وہاں کسی عوامی ریفرنڈم کا ثبوت ملتا ہے۔ جمہوری اسلامی کے قیام کے لئے جو عوامی ریفرنڈم ہوا اس ریفرنڈم میں کامیابی کے بعد آئین ساز اسمبلی کے انتخابات ہوئے اور ان منتخب نمائندوں نے اسلامی جمہوری اصولوں پر مشتمل ایک نیا آئین مرتب کیا جویکم اپریل 1979 کے دن عوام کے سامنے منظوری کے لئے پیش کیا گیا۔ ایرانی عوام نے بھاری اکثریت سے اس نئے آئین کی منظوری دی۔ جمہوری نظاموں میں آئین کو عوام یا عوام کے نمائندے منظور کرتے ہیں اورایران میں جو آئین اب رائج ہے وہ عوامی منظوری سے نافذ ہوا ہے۔ لہذا اس لحاظ سے ایرانی انقلابی نظام جمہوری اصولوں پر قائم ہوا ہے اور پورے آئین میں دور دور تک تھیوکریسی کا شائبہ بھی نظر نہیں آتا۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ: ابلاغ نیوز کی پالیسی کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

پاکستان اور روس رفتہ رفتہ قریب آرہے ہیں

تحریر: ثاقب اکبر ”معاملہ سیدھا سیدھا ہے۔ بین الاقوامی سیاست میں نہ مستقل دشمنیاں ہوتی …