بدھ , 13 نومبر 2019

حملہ شام پر نہیں؛ دہشتگردی پر ہے

انقرہ: رجب طیب اردوغان نے انقراہ میں ایک فورم سے خطاب کرتے ہوئے اپنے حامیوں کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان کی حمایت نہ کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

ان کا کہنا تھا کہ ترکی کسی دوسرے ملک کی سرزمین پر نظر نہیں رکھتا اور جو ہماری عسکری کارروائی کو شام کے کچھ ٹکڑوں پر قبضہ کرنے کا نام دے رہے ہیں وہ درحقیقت ہماری توہین کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ ترکی کے کردوں کے خلاف عسکری کارروائی کرنے پر اسے عالمی طور پر کافی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

ایک جانب جہاں ترکی کی کردوں کے خلاف عسکری کارروائی کے نتیجے میں فرانس اور جرمنی نے انقرہ کو اسلحے کی برآمد روکنے کا اعلان کیا ہے وہیں دوسری جانب روس کا بھی کہنا ہے کہ کردوں کے خلاف ترک افواج کی کارروائی سے خطے میں داعش کو پلنے پھولنے کا موقع ملے گا۔

تاہم اس حوالے سے ترک صدر کا کہنا تھا کہ جب سے ہم نے شمال مشرقی شام میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن شروع کیا ہے، ہمیں معاشی پابندیوں اور اسلحے کی فروخت روکنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ ایسا سمجھتے ہیں کہ اس طرح کی دھمکیوں سے وہ ترکی کو روک سکتے ہیں تو وہ بہت بڑی غلطی کررہے ہیں۔

یاد رہے کہ کردوں پر سے امریکا کا "دست شفقت” ہٹ جانے کے بعد ترکی نے کردوں کے خلاف عسکری کارروائی کا آغاز کر دیا تھا تاہم چند روز قبل امریکی پابندیوں کی تاب نہ لاتے ہوئے ترکی نے 5 روزہ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔

واضح رہے کہ بین الاقوامی سیاست پر نگاہ رکھنے والے بعض مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکا کا کردوں کے سر سے اچانک اپنا "دست شفقت” ہٹا لینا اور ترکی کا ان پر حملہ کر دینا اور امریکا کا دوبارہ اس معاملے میں کود پڑنا اور ترکی کو عسکری کارروائی کو موخر کرنے کے لئے مجبور کرنا امریکا اور ترکی کی ملی بھگت اور ایک سوچی سمجھی سکیم ہے۔

یہ بھی دیکھیں

متحدہ عرب امارات:موسلا دھار بارش میں سڑکیں تالاب بن گئیں

ابوظہبی: متحدہ عرب امارات ميں بارش سے معمولات زندگی متاثر ہيں، جہاں وقفے وقفے سے …