جمعرات , 21 نومبر 2019

روس اور ترکی شمالی شام کا حصہ مشترکہ کنٹرول کریں گے

سوچی: ترکی اور روس کے درمیان یہ اتفاق ہو گیا ہے کہ وہ مشترکہ طور پر ترک سرحد کے قریب شمالی شام کے کچھ حصے کا کنٹرول سنبھالیں گے۔ کُرد فورسز جنگ بندی معاہدے کے تحت اس علاقے سے نکل رہی ہیں،ترک صدر رجب طیب اردوآن اور ان کے روسی ہم منصب ولادیمیر پوٹن کے درمیان گزشتہ روز روس کے سیاحتی مقام سوچی میں ایک ملاقات ہوئی جو چھ گھنٹوں تک جاری رہی۔ اس ملاقات کے بعد دونوں ممالک نے شام کے شمالی حصے کا کنٹرول اپنے پاس رکھنے کے حوالے سے اس معاہدے کا اعلان کیا۔

اس معاہدے کے تحت اس علاقے میں سیز فائر میں م‍زید ایک دن کی توسیع پر بھی اتفاق کیا گیا تاکہ ترک سرحد کے قریبی علاقوں سے کُرد ملیشیا کے جنگجو نکل سکیں۔ یہ مہلت منگل 22 اکتوبر کی شب ہی ختم ہو رہی تھی تاہم اس سے چند گھنٹے قبل ہی اس میں توسیع پر اتفاق ہوا۔گزشتہ ہفتے امریکا کی کوششوں سے ترکی اور کرد ملیشیا وائی پی جی کے درمیان جنگ بندی معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت کرد ملیشیا کو شمالی شام کے ان علاقوں سے نکلنے کے لیے پانچ روز کی مہلت دی گئی تھی جہاں ترکی ایک محفوظ علاقہ قائم کرنا چاہتا ہے تاکہ وہاں ترکی میں موجود شامی مہاجرین کو لا کر بسایا جائے۔

اس کے علاوہ بھی ترکی وائی پی جی کو کالعدم تنظیم کردستان ورکرز پارٹی کا حصہ قرار دیتے ہوئے اسے دہشت گرد گروپ سمجھتا ہے اور وہ اپنی سرحد کے قریب اس گروپ کو طاقت پکڑتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتا۔امریکا کی کوششوں سے ترکی اور کرد ملیشیا وائی پی جی کے درمیان جنگ بندی معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت کرد ملیشیا کو شمالی شام کے ان علاقوں سے نکلنے کے لیے پانچ روز کی مہلت دی گئی تھی۔روسی صدر کے ساتھ ملاقات کے بعد ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے اس معاہدے کو ‘تاریخی‘ قرار دیا جس کے سبب شام میں قیام امن کے لیے ‘ایک نئے دور کا آغاز‘ ہو گا۔

اس معاہدے میں سیز فائر میں توسیع کا وقت بدھ 23 اکتوبر کی دوپہر سے شروع کرنے پر اتفاق ہوا جب روسی ملٹری پولیس اور شام سرحدی گارڈز اس علاقے میں داخل ہو جائیں گے اور وائی پی جی سے منسلک عناصر کو وہاں سے نکلنے میں مدد فراہم کریں گے۔اس کے بعد ترک اور روسی فورسز مشترکہ طور پر اس علاقے میں گشت شروع کردیں گی۔ ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے مطابق، ”23 اکتوبر کی دوپہر کے بعد سے 150 گھنٹوں کے اندر وائی پی جی کے دہشت گرد اور ان کے ہتھیاروں کو 32 کلومیٹر کے فاصلے سے باہر کر دیا جائے گا۔ اس گروپ کے محفوظ پناہ گاہوں اور پوزیشنوں کو تباہ کر دیا جائے گا۔‘‘

روسی صدر کے بہ قول صدراردوان نے انہیں شام کے شمال مشرقی علاقے میں ترک فوج کے آپریشن کی وضاحت کی ہے۔ ان دونوں لیڈروں کی مختصر پریس کانفرنس کے بعد ترکی اور روس کے وزرائے خارجہ نے صحافیوں سے گفتگو کی ہے۔دوسری جانب روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف کا کہنا تھا کہ صدر پیوٹن اور اردون دونوں نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ روس 1998 میں ترکی اور شام کے درمیان طے شدہ عدنہ سیکیورٹی سمجھوتے پر عمل درآمد کرائے گا۔

یہ بھی دیکھیں

روس کا سعودی عرب میں امریکی فوجیوں کے تعینات ہونے پر انتباہ

ماسکو: روس کے نائب وزیر خارجہ بوگدانوف نے سعودی عرب میں امریکی فوجیوں کے تعینات …