جمعرات , 21 نومبر 2019

کرد ملیشیا پر ترک حملے میں ممکنہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال، تحقیقات ہوں گی۔۔۔!!

کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال ممانعت پر کام کرنے والی عالمی تنظیم او پی سی ڈبلیوکے ماہرین شام میں حالیہ ایام میں ترکی کی فوجی کارروائی کے دوران کردوں کے خلاف ممنوعہ آتشیں اسلحے اور کیمیائی ہتھیاروں کے بے دریغ استعمال کےالزامات کا جائزہ لینا شروع کردیا ہے۔عالمی تنظیم کے ماہرین نے شمالی شام میں غیر روایتی اور ممنوعہ ہتھیاروں کے استعمال کے واقعات کے بارے میں معلومات جمع کررہے ہیں۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق تنظیم نے ایک ای میل میں بتایا کہ ماہرین شمالی شام میں کردوں کے خلاف غیر روایتی اور تباہ کن آتشیں اسلحے کے استعمال کے الزامات کی چھان بین کررہے ہیں۔ہیگ میں قائم تنظیم کی طرف سے کہا گیا ہے کہ فی الحال شام میں ترکی کی فوجی کارروائی کے دوران ممنوعہ ہتھیاروں کے استعمال کی جامع تحقیقات شروع نہیں کی گئیں تاہم ماہرین صورت حال کا جائزہ لے رہے ہیں تاہم عالمی تنظیم نے اس حوالے سے مزید تفصیل نہیں بتائی۔

شمالی شام میں ترک فوج کا نشانہ بننے والے کرد جنگجوﺅں نے الزام عائد کیا تھا کہ 9 اکتوبرکے بعدسےجاری کارروائی کےدوران انقرہ نے کرد انتظامیہ کےخلاف وائٹ فاسفورس کا استعمال کیاجس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوئی ہیں مگر ترکی نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔

شام میں انسان حقوق کی صورت حال پرنظر رکھنے والے ادارے سیرین آبزرویٹری برائے ہیومن رائٹس تا حال انہتھیاروں کے استعمال کی تصدیق کرنے سے قاصر ہےتاہم انسانی حقوق گروپ کا کہناتھا کہ راس العین میں ترک فوج کی بمباری کے نتیجے میں شدید جھلسے افراد کو اسپتالوں میں لایا گیا ہے۔

شام کے علاقے الحسکہ میں ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ کرد حکام نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شائع کی جس میں ان بچوں کو دکھایا گیا ہے جو خطرناک ہتھیاروں کے استعمال سے بری طرح جھلس گئے ہیں تاہم کچھ روز قبل ترک وزیر دفاع ہولوسی آکار نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تردید کی تھی۔

یہ بھی دیکھیں

روس کا سعودی عرب میں امریکی فوجیوں کے تعینات ہونے پر انتباہ

ماسکو: روس کے نائب وزیر خارجہ بوگدانوف نے سعودی عرب میں امریکی فوجیوں کے تعینات …