جمعرات , 21 نومبر 2019

امریکہ کا جنگ بندی معاہدے کی پاسداری پرپابندیاں ہٹانے کا عندیہ

واشنگٹن: شمالی شام میں امریکا کی ثالثی میں جنگ بندی ہے، تاہم اس کے باوجود مختلف علاقوں میں جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔امریکا نے ترکی سے پابندیاں ہٹانے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ ترکی نے اگر جنگ بندی کا احترام کیا تو عائد پابندی ہٹادی جائیں گی۔ امریکی حکام نے ترکی سمیت کرد جنگجوؤں پر بھی دباؤ ڈالا ہے کہ وہ سیزفائر سے متعلق ہونے والے معاہدے کی پاسداری کریں، تاہم تازہ اطلاعات کے مطابق ترکی نے جنگ بندی میں ایک دن کی توسیع کردی ہے جس کے تحت روس اور ترکی شمالی شام کے حصے کو مشترکہ کنٹرول کریں گی۔

ادھر عالمی رہنماؤں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ شمالی شام میں جنگ بندی کے خاتمے سے خوف و ہراس کے ساتھ لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہوجائیں گے۔خیال رہے کہ امریکا اور ترکی کے درمیان ہونے والے معاہدے کے تحت ترکی نے کردوں کو سرحدی علاقہ خالی کرنے کے لیے پانچ دن (120 گھنٹے) کی مہلت دی تھی۔ترکی اپنے مشرقی سرحد سے ملحقہ شامی علاقے میں 36 لاکھ شامہ مہاجرین کو بساکر ایک ’سیف زون‘ بنانا چاہتا ہے تاہم اس علاقے سے امریکی فوج کے انخلا کے بعد ایک بحران پیدا ہوا اور وہاں پر کردوں کی موجودگی پر ترکی نے علاقہ خالی کروانے کے لیے آپریشن شروع کردیا تھا۔

یہ بھی دیکھیں

روس کا سعودی عرب میں امریکی فوجیوں کے تعینات ہونے پر انتباہ

ماسکو: روس کے نائب وزیر خارجہ بوگدانوف نے سعودی عرب میں امریکی فوجیوں کے تعینات …