جمعرات , 21 نومبر 2019

اربعین، نئی اسلامی تہذیب و تمدن کی تشکیل کا پیش خیمہ (آخری حصہ)

تحریر: علی احمدی

دشمن کا منصوبہ اسلام فوبیا
1۔ شیطان کا رقص
سعودی عرب کی آل سعود رژیم خطے میں اختلاف اور تفرقے کا باعث ہے اور عالمی استعمار امریکہ کی حامی اور شریک کا کردار ادا کر رہی ہے۔ سعودی حکمران خام تیل سے حاصل دولت کے ذریعے امریکی مجرمانہ اقدامات میں براہ راست شریک ہیں۔ داعش کی مالی امداد، یمن کے عرب عوام پر حملہ اور فرانس، برطانیہ اور اسپین میں حالیہ بم دھماکے آل سعود رژیم کے بڑے جرائم میں سے چند ایک ہیں۔

2۔ سعودی اتحاد کی جانب سے بچوں کا قتل عام
سعودی عرب کی سربراہی میں عرب اتحاد نے امریکہ کی جانب سے سبز جھنڈی دکھائے جانے کے بعد یمن پر شدید حملوں کا آغاز کر دیا۔ اقوام متحدہ کے اعلی سطحی عہدیداران کے مطابق یمن کے خلاف جاری سعودی جارحیت میں اب تک 28 ہزار افراد جاں بحق یا زخمی ہو چکے ہیں جبکہ بھوک، غربت اور بیماری نے کروڑوں یمنی بچوں کی زندگی خطرے میں ڈال رکھی ہے۔

3۔ سعودی حکمرانوں کے مجرمانہ اقدامات
آل سعود کی سربراہی میں یمن کے خلاف جارح قوتوں نے اب تک بہت سے جنگی جرائم انجام دیے ہیں اور یمن کی مسلمان اور غریب قوم کے خلاف ممنوعہ ہتھیاروں کے استعمال سے بھی گریز نہیں کیا۔ آبادی والے علاقوں پر ہوائی حملے، معذور، نابینا اور محتاج افراد کیلئے بنائے گئے مراکز پر حملہ، اسپتالوں اور اسکولوں پر حملے، کارخانوں پر حملے اور دیگر انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنانا سعودی حکمرانوں کو جنگی مجرم قرار دینے کیلئے کافی ہے۔

4۔ عالمی استکبار
مسلمانان عالم کے درمیان اختلاف اور تفرقہ ڈالنے والے گروہوں کو ہمیشہ سے امریکہ، اسرائیل اور برطانیہ کی پشت پناہی حاصل رہی ہے کیونکہ یہ طاقتیں حریت پسند اور خودمختار ممالک پر اپنا تسلط قائم کرنے کے خواب دیکھتی رہتی ہیں۔ ایران کے خلاف صدام کی جارحیت، داعش کی تشکیل اور حمایت، مقبوضہ فلسطین پر غاصبانہ قبضہ، یمن پر آل سعود کی جارحیت ان استعماری طاقتوں کی چند ایک سازشیں ہیں۔

5۔ اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کا وحشیانہ پن
اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر ہوائی حملوں اور مظلوم فلسطینیوں کے قتل عام کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ ان ہوائی حملوں کے اخراجات روزانہ 40 ملین ڈالر تک ہیں۔ اب تک مختلف جنگوں اور حملوں میں 3812 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں 900 بچے بھی شامل ہیں۔ 1992ء سے لے کر اب تک 13 صحافی اور میڈیا میں کام کرنے والے 4 دیگر افراد اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں شہید ہو چکے ہیں۔

6۔ شیطان بزرگ کے جرائم
امریکہ سرکاری سطح پر شام میں تکفیری دہشت گرد گروہوں کی حمایت میں مصروف ہے اور اس طرح شام کی قانونی اور عوامی حمایت یافتہ حکومت کو سرنگون کر کے خطے میں اپنا تسلط قائم کرنے کیلئے کوشاں ہے۔ داعش نے امریکہ کی سربراہی میں بین الاقوامی اتحاد کے جنگی طیاروں کی آڑ میں موصل سے کیمیائی ہتھیار شام متنقل کئے اور وہاں بیگناہ عوام کے خلاف استعمال کئے۔

7۔ شیطان بزرگ کا منحوس منصوبہ
داعش کے حالیہ کمانڈرز کی اکثریت ماضی میں عراق کے مشہور جیل "بوکا” میں قید تھے۔ یہ جیل صدام حسین کی سرنگونی کے بعد امریکیوں نے بنایا تھا اور انہی کی زیر نگرانی چل رہا تھا۔ ابوبکر بغدادی بھی اسی جیل میں قید تھا جسے بعد میں آزاد کر دیا گیا اور امریکہ کے مجرمانہ منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کیلئے اسے 30 ملین ڈالر بھی دیے گئے۔

8۔ افریقی مسلمانوں کی مظلومیت
ریاض تکفیری دہشت گرد گروہ "بوکوحرام” کا اصلی حامی تھا۔ سعودی حکام نے نائیجیریا کے مسلمانوں میں تفرقہ ڈال کر وہاں خانہ جنگی کا آغاز کروایا اور یوں براعظم افریقہ میں اپنے تسلط پسندانہ اہداف حاصل کرنے کی کوشش کی۔ شیخ زکزاکی کی گرفتاری کے بعد بوکوحرام کی دہشت گردانہ کاروائیوں میں شدت آئی اور دہشت گردی ترویج کرنے والا وہابی طرز فکر بھی زور پکڑتا گیا۔

اربعین، اسلامی تہذیب و تمدن کی تشکیل کا پیش خیمہ
1۔ اربعین، مسلک سے بالاتر حقیقت
اربعین ایک خاص مسلک اور مذہب سے مخصوص نہیں ہے اور اس کا دائرہ بہت وسیع ہو چکا ہے۔ جیسا کہ اربعین کی پیادہ روی میں دیکھا جا سکتا ہے اس میں اہلسنت مسلمان اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد جیسے عیسائی اور یہودی اور حتی ایسے افراد بھی شرکت کرتے ہیں جن کا کسی دین اور مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔ درحقیقت اربعین ایک مزاحمتی تشخص میں تبدیل ہو چکا ہے۔

2۔ وحدت، عظیم اسلامی تمدن کی تشکیل کا پیش خیمہ
اگر اسلامی ممالک جیسے عراق، ایران اور مغربی ایشیا اور شمالی افریقہ کے دیگر مملک کی تمام تر صلاحیتیں اور توانائیاں ایک جگہ جمع ہو جائیں اور آپس میں متحد ہو جائیں تو اس وقت امت مسلمہ عزت الہی کا مظہر بن سکتی ہے اور عظیم اسلامی تمدن کے جلوے دنیا والوں پر عیاں ہو سکتے ہیں۔

3۔ شہادت کی روزی
شام اور عراق میں مقامات مقدسہ کا دفاع کرنے والے مدافعین حرم میں ایسے بہت سے افراد تھے جو اب شہید ہو چکے ہیں اور ماضی میں اربعین کی پیادہ روی میں شرکت کرتے رہے ہیں۔ عین ممکن ہے انہوں نے شہادت کی روزی سید الشہداء امام حسین علیہ السلام سے حاصل کی ہو۔

4۔ امام عصر عج کے ظہور کا پیش خیمہ
اربعین کا عظیم مارچ انسانوں کے ذہن کو روشن، ان کی سوچوں کو پختہ، قلوب کو نورانی کر کے انسانی معاشرے کو امام عصر عج کے ظہور کیلئے تیار کر رہا ہے۔ مزید برآں، امام زمانہ عج نے بھی کوفہ شہر کو اپنی حکومت کا مرکز قرار دینا ہے جو کربلا کے قریب واقع ہے۔ لہذا حسینیت اور مہدویت کے درمیان تعلق سے چشم پوشی اختیار کرنا ممکن نہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اربعین حسینی یقیناً امام زمانہ عج کے ظہور کا پیش خیمہ ثابت ہو گا۔

نوٹ: ابلاغ نیوز کی پالیسی کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

عدالت عظمیٰ کا بابری مسجد کے حوالے سے تامل برانگیز فیصلہ اور ہندوستان کے مسلمان

تحریر: خیبر تحقیقاتی ٹیم جیسا کہ پہلے سے امید کی جا رہی تھی اور حالات …