جمعرات , 21 نومبر 2019

ایران کے خلاف ٹرمپ کی ہر چال ہوئی ناکام تو انہوں نے اٹھایا نیا قدم (دوسرا حصہ)

مجموعی طور پر یہاں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پابندیوں کے حوالے سے ٹرمپ انتظامیہ کی زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی دم توڑ چکی ہے اور وہ اس طرح سے ایران کو سر تسلیم خم کرانے میں بری طرح ناکام ہوگئے ہیں۔

گزشتہ جمعے کو جب ایک نامہ نگار نے ٹرمپ سے پوچھا کہ کیا یہ منصوبہ ان کے اس بیان کے خلاف نہیں ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ مشرق وسطی کے تنازعات میں مداخلت کرکے امریکا نے تاریخ کی سب سے بڑی غلطی کی ہے، تو انہوں نے جواب دیا کہ سعودی عرب ایک اچھا دوست ہے اور ہم جو بھی کہہ رہے ہیں وہ اس کی رقم ادا کرنے کے لئے تیار ہے۔

امریکی وزیر دفاع مارک اسپر نے سعودی عرب میں امریکی فوجیوں کی تعیناتی کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ قدم واضح پیغام دینے کے لئے اٹھایا جا رہا ہے کہ امریکا اپنے اتحادیوں کو اکیلا نہیں چھوڑتا۔

امریکی وزیر جنگ جب یہ دعوی کر رہے تھے تو اسی وقت امریکی فوجی شمالی شام میں اپنے سب سے قدیمی اتحادیوں میں سے ایک کردوں کو تنہا چھوڑ کر جا رہے تھے۔

اسپر نے پنٹاگن کے اس فیصلے کی دوسری وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ عالمی اقتصاد میں معاون ضروری وسائل کو پورا کرنے کا سلسلہ جاری رکھنے کے لئے سعودی عرب میں اضافی فوجیوں کی تعیناتی کی جا رہی ہے۔ حالانکہ یہ اعلان کرتے ہوئے امریکی وزیر جنگ یہ فراموش کر گئے کہ ایرانی تیل کی برآمد کو صفر تک پہنچانے کی کوشش خود امریکا ہی کر رہا ہے جو دنیا کے اقتصاد کی ایک ضرورت ہے۔

اسپر نے تیسری دلیل پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح سے ہم یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ہم عالمی قوانین کی بھرپور حمایت کرتے ہیں جس کا ہم طویل عرصے سے ایران سے مطالبہ کرتے آ رہے ہیں۔ امریکی حکام اس طرح کے بیانات دیتے وقت یہ بھول جاتے ہیں کہ اس طرح کی حرکتوں کی وجہ سے دنیا میں ان کا مذاق ہی اڑتا ہے۔

بین الاقوامی ایٹمی معاہدے سے نکل کر امریکا نے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے نہ کہ ایران نے۔

بشکریہ سحر نیوز

نوٹ: ابلاغ نیوز کی پالیسی کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

عدالت عظمیٰ کا بابری مسجد کے حوالے سے تامل برانگیز فیصلہ اور ہندوستان کے مسلمان

تحریر: خیبر تحقیقاتی ٹیم جیسا کہ پہلے سے امید کی جا رہی تھی اور حالات …