جمعرات , 21 نومبر 2019

عرب دماغ اور یہودی پیسہ کیا کچھ کر سکتا ہے؟ (پہلا حصہ)

سعودی عرب کے سابق انٹلیجنس سربراہ کا دعوی : ”عرب دماغ اور یہودی پیسہ ایک ساتھ آ جائے تو ہم کچھ بھی کرسکتے ہیں، سائنس اور ٹکنالوجی کے شعبے میں، انسانی اور دیگر دوسرے مسائل میں آپ سوچ لیجئے کہ ہم کہاں تک پہنچ سکتے ہیں؟!”

یہ بات سعودی عرب کے سابق انٹیلیجنس سربراہ ترکی الفیصل نے اسرائیل کے قومی سلامتی کے مشیر یعقوب امیدور سے ملاقات میں کہی تھی۔ یہ ملاقات مئی 2016 میں امریکی تھنک ٹینک "دی واشنگٹن انسی ٹیوٹ فار نیر ایسٹ پالیسی” نے کروائی تھی ۔

ترکی الفیصل نے تو عرب دماغ اور یہودی پیسوں کی بات کہی تھی تاہم دنیائے عرب میں اس کا برعکس ہو رہا ہے۔ وہاں یہودی دماغ اورعرب پیسہ استعمال ہو رہا ہے اور نتیجہ عربوں کی روز بہ روز توہین اور زوال کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔

اسرائیلی اخبار یدیعوت آحارنوت نے تل ابیب میں باخبر ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ عرب حکومتیں، اسرائیلی انٹیلیجنس کے سائبر پروگرامنگ ماہرین کی مدد لے رہی ہیں۔ اخبار کے مطابق بہت سے اسرائیلی انجینئر جنہوں نے اپنی ملیٹری سروس کے دوران خفیہ شعبے امان سے سائبر پروگریمنگ کی ٹرینگ حاصل کی ہے اس وقت بہت خطیر رقم حاصل کرکے عرب حکومتوں کے لئے کام کر رہے ہيں۔

اس سے پہلے اسرائیل کے اقتصادی خبریں شائع کرنے والے روزنامے دی مارکر نے بھی ڈارک میٹر نامی کمپنی کے بارے میں ایک رپورٹ شائع کی تھی۔ اس کمپنی کا تعلق اسرائیل کی خفیہ ایجنسی سے ہے اور یہ خلیج فارس کے ایک عرب ملک میں سرگرم ہے۔

اسرائیلی خفیہ ایجنسی میں اعلی عہدوں پر کام کر چکے افسران ریٹائرڈ ہونے کے بعد اسرائیل سے باہر جاکر کمپنیاں بنا لیتے ہیں اور یہ کمپنیاں دوسرے ممالک کو خفیہ اطلاعات فراہم کرتی ہیں۔ وہ سائبر حملوں کے لئے ماہرین کی بھرتی کرتی ہیں۔

جاری…

بشکریہ

رای الیوم

نوٹ: ابلاغ نیوز کی پالیسی کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

عدالت عظمیٰ کا بابری مسجد کے حوالے سے تامل برانگیز فیصلہ اور ہندوستان کے مسلمان

تحریر: خیبر تحقیقاتی ٹیم جیسا کہ پہلے سے امید کی جا رہی تھی اور حالات …