ہفتہ , 23 نومبر 2019

مسجد الاقصیٰ پر اسرائیلی یلغار کشیدگی بڑھانے کی سازش ہے:اُردن

21212

اردن (مانیٹرنگ ڈیسک)اردن کی حکومت نے مسجد اقصیٰ میں اعتکاف بیٹھے فلسطینی روزہ داروں پر اسرائیلی پولیس کے وحشیانہ تشدد اور مقدس مقام کی بے حرمتی کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے مذہبی اشتعال انگیزی اور قابل نفرت اقدام قرار دیا ہے۔اطلاعات کے مطابق اسرائیلی پولیس کی جانب سے نہتے نمازیوں، روزہ داروں اور مسجد میں اعتکاف بیٹھے فلسطینی شہریوں پر آنسوگیس کی شیلنگ، لاٹھی چارج اور وحشیانہ تشدد قابل نفرت اقدامات ہیں، جن کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فورسز کی طرف سے فلسطینی نمازیوں پر آنسوگیس شیلنگ کرنا، ربڑ کی گولیوں کا استعمال اور نمازیوں کے خلاف کریک ڈاؤن اس بات کا ثبوت ہیں کہ اسرائیلی حکومت دانستہ طورپر حرم قدسی میں حالات کو کشیدگی کی طرف لے جا رہی ہے۔اردنی حکومت کے ترجمان اور وزیر اطلاعات محمد المومنی نے کہا کہ مسجد اقصیٰ پر اسرائیلی فوج اور پولیس کی یلغار بلا جواز اور کشیدگی بڑھانے کی سازش ہیں۔ انہیں فوری بند ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اسرائیلی پولیس نے مسجد اقصیٰ میں موجود نمازیوں کو تشدد کا نشانہ بنانا اور فلسطینی اوقاف کے کارکنوں کو گرفتار کر کے جیلوں میں ڈالنا ظالمانہ اقدامات، مذہبی آزادیوں پرحملے اور مقدس مقامات کی کھلے عام بے حرمتی کے مترادف ہیں۔محمد المومنی نے کہا کہ مسجد اقصیٰ کا تقدس سرخ لکیر ہے، اسے کسی صورت میں پامال نہیں ہونے دیا جائیگا۔ اطلاعات کے مطابق اردنی وزیرخاجہ ناصر جودہ نے بیت المقدس میں موجودہ کشیدگی اور مسجد اقصیٰ پر اسرائیلی پولیس گردی کے حوالے سے اسرائیلی حکام سے رابطہ کیا ہے۔ ناصر جودہ نے صہیونی حکام پرواضح کیا ہے کہ قبلہ اول پراسرائیلی فورسز کے حملے، نمازیوں ، روزہ داروں اور معتکفین پر تشدد ناقابل برداشت اقدامات ہیں۔ اسرائیل فوری طورپر پولیس گردی کا سلسلہ بند کراتے ہوئے فلسطینیوں کی مذہبی آزادی کو یقینی بنائے۔

یہ بھی دیکھیں

صدر روحانی کا معاشی مشکلات پر عوام کے صبر و تحمل کا شکریہ

تہران: اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حسن روحانی نے کابینہ کے اجلاس میں ایرانی عوام …