جمعرات , 21 نومبر 2019

اشرف غنی کا امن منصوبہ ‘خواہشات کی فہرست’ ہے، افغان چیف ایگزیکٹو

کابل: افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے افغان صدر اشرف غنی کے 7 نکاتی امن منصوبے کو ’غیر حقیقی اور خواہشات کی فہرست‘ قرار دے دیا۔

افغان نیوز ایجنسی طلوع میں شائع رپورٹ کے مطابق خبر رساں ادارے اے ایف پی کو دیے گئے انٹرویو میں عبداللہ عبداللہ نے کہا کہ اشرف غنی کی ٹیم نے گزشتہ ماہ 7 نکاتی تجویز پیش کی تھی جس میں ملک میں جنگ کے خاتمے کا ذکر کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ’سچ پوچھیں تو کسی نے بھی اس نام نہاد 7 نکاتی منصوبے کو بطور منصوبہ نہیں لیا بلکہ تجویز محض خواہشات کی فہرست تھی‘۔

اے ایف پی کے مطابق اشرف غنی کی مذکورہ تجویز پر غیر حقیقت پسندانہ طبقے نے کڑی تنقید کی، جس میں طالبان سے مذاکرات سے قبل ایک ماہ کے لیے جنگ بندی معاہدہ بھی شامل تھا۔

انہوں نے کہا کہ ’مذکورہ تجویز کو بشمول عوام کوئی بھی سنجیدگی سے نہیں لے رہا‘۔

واضح رہے کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے طالبان کے ساتھ جاری امن مذاکرات رواں برس ستمبر میں منسوخ کردیے تھے۔

عبداللہ عبداللہ نے کہا کہ ’آئندہ ہونے والے کسی بھی مذاکرات کے لیے یہ لازمی ہے کہ فریقین افغان حکومت کے وفد کو شامل کریں، خواہ وہ ان کی سربراہی میں ہوں یا اشرف غنی کی‘۔

ان کا کہنا تھا کہ افغان حکومت کو افغان امن عمل کا ایک حصہ بننا ہوگا۔

اس ضمن میں اشرف غنی کے ترجمان صدیق صدیقی نے عبداللہ عبداللہ کے موقف پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اشرف غنی کے 7 نکاتی منصوبے پائیدار امن کا ضامن ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’مذکورہ تجویز میں قومی اتفاق رائے شامل ہے‘۔

یہ بھی دیکھیں

یمن کے کوسٹ گارڈز نے 3 کشتیوں کو ضبط کرلیا

    صنعا: یمن کے کوسٹ گارڈز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یمن …