جمعرات , 21 نومبر 2019

اسرائیل و عرب ممالک کے تعلقات ظاہر کرنے پر اصرار کیوں؟ (پہلا حصہ)

اسرائیلی میڈیا نے سعودی حکام کے ساتھ صیہونی حکام کی ملاقاتوں کی اضافے کی خبر دی ہے۔

صیہونی میڈیا نے بتایا ہے کہ امریکا کے وزیر دفاع مائک اسپر کے سعودی عرب کے دورے کے دوران ایک اعلی اسرائیلی عہدیدار نے بھی اعلی سعودی عہدیدار سے ملاقات کی ہے۔ یروشلم پوسٹ نے لکھا کہ اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ غیر واضح پروازیں، یہ سوال پیدا کرتی ہیں کہ کیا بنیامن نتن یاہو نے ریاض کا سفر کرکے بن سلمان سے ملاقات کی ہے۔

ہارٹس اخبار کے ایک تجزیہ نگار آوری شاریف نے اپنے ایک ٹویٹ میں بتایا تھا کہ ایک پرائیوٹ طیارے نے ریاض اور تل ابیب کے درمیان مشتبہ اڑان بھری۔ انہوں نے ریاض میں امریکا، سعودی عرب اور اسرائیل کی سہ فریقی خفیہ ملاقات کا امکان ظاہر کیا تھا۔ اس سے پہلے علاقے میں اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے کے حامی کچھ عرب ممالک کے حکام کا اصرار ہوتا تھا کہ صیہونی حکومت سے ان کا تعاون، خفیہ رہے کیونکہ وہ اس کے اجتماعی اثرات سے خوفزدہ رہتے تھے۔

اہم بات یہ ہے کہ اسرائیل بھی اس حوالے سے عرب حکمرانوں کی تشویش کو سمجھتا تھا لیکن آجکل اسرائیل بھی اور عرب ممالک بھی اب اپنے تعلقات کو خفیہ رکھنے پر اصرار نہیں کر رہے ہیں۔

یورشلم پوسٹ نے لکھا کہ چیلنجر 604 نوعیت کے ایک پرائیویٹ طیارے نے گزشتہ پیر کی رات بن گورین ہوائی اڈے سے اردن کے دار الحکومت میں ایک ہوائی اڈے کی جانب پرواز کی تھی اور دو منٹ روکنے کے بعد سعودی عرب کے دار الحکومت ریاض کے کسی ہوائی اڈے کی جانب بڑھ گیا تھا۔

یہ طیارہ 55 منٹ تک ریاض میں رکا رہا اور اس کے بعد براہ راست بن گورین ائیرپورٹ لوٹ آیا تھا۔ اخبار نے لکھا کہ فلائٹ رڈار ویب سائٹ پر اس طیارے کی پرواز کے راستے کی تلاش کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ اس نے گزشتہ کچھ مہینوں میں تل ابیب اور قاہرہ کے درمیان متعدد پروازیں کی ہیں۔

اس طیارے کا ریاض سے براہ راست تل ابیب پہنچنا کئی سوال پیدا کرتا ہے خاص طور پر اس لئے بھی کہ اسرائیل سے سعودی عرب کے واضح و باضابطہ تعلقات نہیں ہیں۔

جاری…

بشکریہ سحر نیوز

نوٹ: ابلاغ نیوز کی پالیسی کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں

یہ بھی دیکھیں

عدالت عظمیٰ کا بابری مسجد کے حوالے سے تامل برانگیز فیصلہ اور ہندوستان کے مسلمان

تحریر: خیبر تحقیقاتی ٹیم جیسا کہ پہلے سے امید کی جا رہی تھی اور حالات …