اتوار , 17 نومبر 2019

اسرائیل و عرب ممالک کے تعلقات ظاہر کرنے پر اصرار کیوں؟ (دوسرا حصہ)

 

ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل ان تعلقات کو ظاہر کرکے اپنے آپ کو علاقے میں ایک جائز حکومت ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ عرب ممالک کو بھی، جو علاقے میں اپنی حالت کو بہت کمزور دیکھ رہے ہیں، امریکا و یورپ خاص طور پر صیہونی لابی کو خوش کرنے کے علاوہ کوئی راستہ دکھائی نہیں دے رہا ہے۔

ان کی نظر میں ان تینوں کو خوش کرنے کا سب سے اچھا راستہ، صیہونی حکومت کے ساتھ اپنے تعلقات کو استوار کرنا ہی ہے۔ اسرائیل کے معاریو اخبار کے سیکورٹی امور کے تجزیہ نگار یوسی میلمین نے ابھی اپنے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ممکنہ طور پر اس طیارے میں اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو یا موساد کے چیف کوہنے سوار تھے جو شام کے امور میں سعودی حکام سے بات کرنے کے لئے ریاض گئے تھے۔

خاص طور پر اس لئے بھی کہ امریکا کے وزیر دفاع مارک اسپر، اس طیارے کی ریاض کی جانب پرواز کے دوران سعودی عرب میں ہی تھے۔ اس طیارے کی مشتبہ پرواز کچھ عرب ممالک کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات کے بارے میں نتن یاہو کے بیان کی یاد دلاتی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اسرائیل کے کچھ اہم عرب ممالک سے تعلقات قائم ہو چکے ہیں جن کے تل ابیب سے باضابطہ و سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔ اسرائیلی حکام نے اب تک اس مشتبہ پرواز کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہا ہے۔

اس سے کچھ ہی دن پہلے بحرین میں سمندری سیکورٹی کے بارے میں ایک کانفرنس منعقد ہوئی تھی جس کی ایک بڑی خصوصیت اس میں امریکی و اسرائیلی حکام کی واضح طور پر شرکت تھی اور اسے علاقائی و بین الاقوامی میڈیا نے کافی کوریج بھی دی تھی۔

اسرائیل یہ خیال کر رہا ہے کہ وہ عرب سربراہوں کی خراب صورتحال سے سوء استفادہ کرکے اور عرب ممالک کے ساتھ اپنے وسیع تعلقات کا اعلان کرکے اپنے آپ کو علاقے میں ایک فطری اور قابل قبول حکومت دکھانے کی کوشش کر رہا ہے لیکن یہ اس کی غلط فہمی ہے کیونکہ طویل عرصے میں اس سیاسی و تبلیغاتی حربے کا جو سب سے اہم نتیجہ سامنے آئے گا وہ یہ ہے کہ خود عرب ممالک کےعوام کے درمیان اس کے رہنماؤں اور حکومتوں کا جواز ختم ہو جائے گا اور صیہونی حکومت، امریکا و یورپ کی پوزیشن پہلے سے ہی کمزور ہو جائے گی۔ بہرحال علاقے میں صیہونی حکومت، امریکا اور یورپ کے قدموں کو جس چیز نے مضبوط بنایا ہے وہ یہی عرب حکومتیں ہیں ۔

بشکریہ سحر نیوز

نوٹ: ابلاغ نیوز کی پالیسی کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں

یہ بھی دیکھیں

مہنگائی میں اضافہ اور حکومت کی ذمہ داریاں

تحریر: طاہر یاسین طاہر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اتار چڑھائو معمول کا معاملہ ہے۔ …