جمعرات , 21 نومبر 2019

شام میں آئین ساز کمیٹی کی تشکیل

تحریر: سید نعمت اللہ

آخرکار شام میں نئے آئین کی تشکیل کیلئے پہلا اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے اور آئین سازی کی چھوٹی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ شام کیلئے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی گیر پیڈرسن نے پیر کے روز کمیٹی کے اراکین میں آئین سازی کیلئے منعقد ہونے والی نشستوں کا شیڈول تقسیم کیا۔ یہ کمیٹی 45 اراکین پر مشتمل ہے جو تین گروپس میں تقسیم ہیں۔ ہر گروپ میں 15 اراکین شامل ہیں۔ ایک گروپ شام حکومت کی نمائندگی کرتا ہے، دوسرا اپوزیشن جبکہ تیسرا گروپ سول سوسائٹی کی نمائندگی کر رہا ہے۔ آئین سازی کیلئے تشکیل دی گئی بڑی کمیٹی میں ان تمام حلقوں کے گروپس بھی موجود ہیں جن میں سے ہر گروپ 50 اراکین پر مشتمل ہے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے جاری ہونے والے شیڈول سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس ادارے کیلئے چھوٹی کمیٹی کے منعقد ہونے والی نشستوں کی نوعیت اور اس میں انجام پانے والی گفتگو بہت اہمیت کی حامل ہے۔ شیڈول میں ان نشستوں اور مذاکرات کے نظم و نسق کو یقینی بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اسی طرح اس بات کا بھی خیال رکھا گیا ہے کہ کہیں اراکین کے درمیان نوک جھونک مذاکرات کی ناکامی کا باعث نہ بنے۔

سب سے پہلے اس نکتے کی جانب توجہ ضروری ہے کہ شام کی آئین ساز کمیٹی کی سرگرمیاں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2254 کی روشنی میں تین ممالک روس، ایران اور ترکی کی مسلسل محنت اور تگ و دو کے نتیجے میں آغاز ہوئی ہیں۔ گذشتہ ہفتے جمعرات اور جمعہ کے روز جنیوا میں اس کمیٹی کا دو روزہ اجلاس بھی منعقد ہوا ہے۔ اس اجلاس میں تمام اراکین نے متفقہ طور پر "آئین ساز کمیٹی کے اراکین کا ضابطہ اخلاق” منظور کیا۔ اسی طرح چھوٹی کمیٹی کی ترکیب اور اس کی ذمہ داریوں کا بھی تعین کیا گیا۔ طے پایا ہے کہ شام کے نئے آئین سے متعلق سامنے آنی والی آراء اس چھوٹی کمیٹی میں زیر بحث لائی جائیں گی اور انہیں حتمی شکل دی جائے گی۔ اس کے بعد انہیں حتمی منظوری کیلئے بڑی کمیٹی میں بھیج دیا جائے گا۔ اسی طرح یہ بھی طے پایا ہے کہ حتمی منظوری کمیٹی میں موجود اراکین کی تین چوتھائی اکثریت کی حمایت سے دی جائے گی۔ اس قانون کا مقصد کسی بھی گروپ کی جانب سے دیگر گروپس پر اپنی رای تحمیل کئے جانے کی روک تھام کرنا ہے۔

شام کی آئین سازی کی چھوٹی کمیٹی باقاعدہ طور پر اپنی سرگرمیوں کا آغاز کر چکی ہے۔ آئندہ چند دنوں میں اس کی چار گھنٹوں پر مشتمل نشستوں کا آغاز ہو جائے گا۔ اسی طرح دن کے باقی حصے میں اراکین کو ایکدوسرے سے صلاح مشورے کا وقت دیا جائے گا۔ اگرچہ ماضی کے تجربات کی روشنی میں چھوٹی کمیٹی کی نشستوں کیلئے انتہائی سخت قوانین اور ضابطے تشکیل دیے گئے ہیں لیکن ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ یہ کمیٹی توقعات پر پورا اترتے ہوئے مطلوبہ نتائج فراہم کر سکے گی۔ ماضی میں مختلف گروپس کی شدید نوک جھونک مذاکرات میں ناکامی کا باعث بنتی آئی ہے۔ اس شک و تردید کی بڑی وجہ مختلف گروپس کی جانب سے شفاف موقف بیان نہ کرنا ہے۔ اب تک ان کی جانب سے سامنے آنے والے بیانات کلی نوعیت کے تھے اور انہوں نے زیادہ تر اپنی آرزووں اور اہداف کا ذکر کیا ہے۔ اسی طرح ان کی جانب سے شام کے نئے آئین کے بارے میں کوئی واضح لائحہ عمل بھی بیان نہیں کیا گیا ہے۔

اسی عدم شفافیت اور اختلاف کے باعث بڑی کمیٹی کے تمام 150 اراکین ایک بات پر متفق القول دکھائی دیتے ہیں کہ ان کے سامنے انتہائی دشوار راستہ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ چھوٹی کمیٹی کے اراکین کو درپیش اصل مشکلات جنیوا میں نہیں بلکہ خود شام کے اندر ہیں۔ ایک طرف شام کے شمالی علاقہ جات میں جنگ بندی کے بعد پیدا ہونے والا سکون انتہائی نازک ہے اور اکا دکا جھڑپیں جاری ہیں جن کی ایک مثال حال ہی میں دہشت گرد عناصر کی جانب سے شام کے شمال مشرقی حصے میں فوجی کانوائے پر حملہ ہے اور ہر لمحہ جنگ بندی ٹوٹ جانے کا امکان موجود ہے۔ دوسری طرف ادلب میں دہشت گرد عناصر کی موجودگی، کردوں کی جانب سے خودمختاری حاصل کرنے کی کوشش اور امریکہ کی جانب سے تیل کے کنووں پر کردوں کو مسلط کر دینا ایسے دیگر مسائل ہیں جو چھوٹی کمیٹی کی نشستوں اور ان میں انجام پانے والی گفتگو پر اثرانداز ہوں گے۔ لہذا پہلے مرحلے پر چھوٹی کمیٹی کے 45 اراکین کو اختلافات کی گہری خلیج سے عبور کرنا ہو گا۔ اقوام متحدہ اپنے شیڈول کے ذریعے اس کام کیلئے پرامید نظر آتی ہے۔ شام میں رونما ہونے والا ہر واقعہ اس کمیٹی کے اراکین کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ شام کی آئین ساز کمیٹی نے ایسے حالات میں کام کا آغاز کیا ہے جب اس کی کارکردگی سے متعلق بہت زیادہ قیاس آرائیاں پائی جاتی ہیں۔

نوٹ: ابلاغ نیوز کی پالیسی کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں

یہ بھی دیکھیں

عدالت عظمیٰ کا بابری مسجد کے حوالے سے تامل برانگیز فیصلہ اور ہندوستان کے مسلمان

تحریر: خیبر تحقیقاتی ٹیم جیسا کہ پہلے سے امید کی جا رہی تھی اور حالات …