جمعرات , 21 نومبر 2019

طبلہ مولانا بجا رہے ہیں اور رقص میں سرکار ہے

وسعت اللہ خان

ایک سادھو نے کہا تھا کہ افغان خانہ جنگی میں سمندر پار والوں کی شہہ پر چند سکوں کے بدلے مت کودو۔ یہ تابعداری اور ڈالرانہ ہوشیاری تمھیں عشروں آٹھ آٹھ آنسو رلائے گی۔ مگر سقراطوں نے سادھو کی بات کو بڑبولا پن جانا اور ناقابلِ تلافی اقتصادی، سیاسی، سفارتی اور سماجی قیمت آج تک بیاج سمیت ادا ہو رہی ہے۔

پھر سادھو نے کہا دیکھو جتنا کر لیا کافی ہے۔ اب طالبان مت بنانا یہ تمہارے ہی گلے پڑ جائیں گے۔ مگر بقراطوں نے سادھو کو ایک بار پھر جھٹک دیا اور اب پوری دنیا میں ریڑھے پر ستر ہزار لاشیں رکھ کے گاتے پھر رہے ہیں کہ دھشت گردی نے کسے سب سے زیادہ ڈسا ہم سا ہو تو سامنے آئے۔

پھر سادھو نے کہا کہ اب بھی گر عقل آ جائے کہ ریاست چلانا تمہارے بس کا روگ نہیں تو جیسی کیسی جمہوریت کو چلنے دینا۔ لنگڑاتے لنگڑاتے ایک دن خود ہی اپنے پاؤں پر کھڑی ہو جائے گی۔ بیچ بیچ میں اڑنگا مت لگانا۔ مگر وہ افلاطون ہی کیا جو سادھو کی بات سن لے۔

سخت کافر تھا جن نے پہلے میر

مذہبِ دھرنا اختیار کیا

لنگڑی جمہوریت کی راہ کھوٹی کرنے کے لیے دھرنے کی لاٹھی متعارف کروا دی گئی۔ دو ہزار تیرہ میں یہ لاٹھی طاہر القادری کے روپ میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے سر پر گھمائی گئی۔ دو ہزار چودہ میں عمران خان لاٹھی بن گئے۔ دو ہزار سترہ میں خادم حسین رضوی نے خود کو اندھے کی لاٹھی کی طرح گھمایا۔

کوئی حکومت بھی دھرنے کے زور پر فوری طور پر نہیں گری۔ مگر سر پر گومڑے ضرور پڑ گئے اور نقاہت مزید بڑھ گئی اور لال بھجکڑوں نے اس کمزوری کو اپنی طاقت سمجھ لیا۔

پر ضروری تو نہیں کہ ہر لاٹھی ہر بار استعمال کے بعد سرکاری مال خانے میں اگلی مہم تک کے لیے جمع ہو جائے اور اسے صرف لائسنس یافتہ لٹیتھ ہی استعمال کرنے کے مجاز ہوں۔

جب ایک بار راستہ متعارف ہو گیا تو پھر تو کوئی بھی اپنی لاٹھی گھماتے ہوئے چل کے آ سکتا ہے۔ آج یہی ہو رہا ہے۔

مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے لیے جو دھرنائی لٹھ بردار نسخہ کنٹرولڈ کھلاڑیوں کے ذریعے استعمال کرنے کے لیے بنایا گیا وہی نسخہ کسی نے گولڈ میڈلسٹ حکیم فضل الرحمان کو پکڑا دیا اور اب صورت یوں ہے کہ بقراط، سقراط، افلاطون سر کھجا رہے کہ بوتل سے نکلنے والے مولانا کو کیسے بوتل میں ڈالیں۔

حکومت نام ہے کرائسس مینجمنٹ کا اور کرائسس مینجمنٹ تحمل و بردباری و وقار کے آمیزے کو استعمال کرتے ہوئے بحران ٹالنے کا فن ہے۔ غالباً یہ پہلی حکومت ہے جو آگ بجھانے کے لیے پٹرول استعمال کر رہی ہے۔ طبلہ مولانا بجا رہے ہیں اور رقص میں سرکار ہے۔

مزاحمتی حلوہ مولانا نے تیار کیا ہے مگر اسے فروخت اپوزیشن کے بجائے وزیرِ اعظم، کابینہ اور آئی ایس پی آر کر رہے ہیں۔

آگے کیا ہو گا؟ یہ سوال ہی بے معنی ہے۔ جو ہو رہا ہے وہ بھی دھرنے کے موجدوں سمیت کس کی سمجھ میں آ رہا ہے؟

نوٹ: ابلاغ نیوز کی پالیسی کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں

یہ بھی دیکھیں

عدالت عظمیٰ کا بابری مسجد کے حوالے سے تامل برانگیز فیصلہ اور ہندوستان کے مسلمان

تحریر: خیبر تحقیقاتی ٹیم جیسا کہ پہلے سے امید کی جا رہی تھی اور حالات …