جمعرات , 21 نومبر 2019

بدامنی کے حالیہ واقعات میں عراق کو چھے ارب ڈالر کا مالی نقصان ہوا

بغداد: حکومت عراق نے اعلان کیا ہے کہ بدامنی کے حالیہ واقعات میں ہونے والے مالی نقصان کا تخمینہ چھے ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔

عراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی کے ترجمان عبدالکریم خلف نے اعلان کیا ہے کہ عراق میں بدامنی کے حالیہ واقعات میں ملک کو چھے ارب ڈالر کا نقصان پہنچا ہے۔انھوں نے کہا کہ حکومت عراق نے مظاہرہ کرنے والوں کے خلاف طاقت کے استعمل سے پرہیز کیا ہے اور عوامی مظاہروں کے دوران طاقت استعمال کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کرے گی ۔

عراق میں عوام کے پر امن مظاہروں کو تشدد اور بلوے میں تبدیل کردیئے جانے کے نتیجے میں ملک کو چھے ارب ڈالر کا نقصان پہنچنے کا اعلان ایسی حالت میں کیا گیا ہے کہ مظاہرین نے بدھ کو بھی جنوبی عراق کی الناصریہ آئل ریفائنری کے اطراف کی سڑکیں بند کرکے ، یہاں سے ایندھن کی سپلائی روک دی تھی۔

عراق سے موصولہ ایک اور رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کربلائے معلی کے قبائلی عمائدین نے ایرانی قونصل خانے جاکے، گزشتہ دنوں بعض شرپسندوں کی جانب سے کئے جانے والے حملے پر معذرت اور افسوس کا اظہار کیا ہے ۔

کربلائے معلی کے قبائلی عمائدین نے ایرانی قونصل خانے کے عہدیداروں سے ملاقات میں اس حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ۔

اس سے پہلے عراقی وزارت خارجہ بھی ایرانی قونصل خانے پر حملے کی مذمت کرچکی ہے۔عراقی حکام نے کہا ہے کہ بعض خفیہ طاقتیں جو داعش کے خلاف جنگ میں عراق کےساتھ ایران کے تعاون اور داعش کی شکست پر ناراض ہیں، ایران اور عراق کے دوستانہ اور برادرانہ روابط کو خراب کرنا چاہتی ہیں ۔

عراقی حکام کا کہنا ہے کہ یہ طاقتیں عراقی حکومت اور عوام سے داعش کی شکست کا بدلہ لینا چاہتی ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

یمن کے کوسٹ گارڈز نے 3 کشتیوں کو ضبط کرلیا

    صنعا: یمن کے کوسٹ گارڈز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یمن …