جمعرات , 12 دسمبر 2019

وزیراعظم عمران خان نے کرتارپور راہداری کا افتتاح کردیا

کرتارپور: وزیراعظم عمران خان نے باباگرونانک کے 550ویں جنم دن کے موقع پر کرتارپور راہداری کا باضابطہ افتتاح کردیا۔

کرتارپور راہداری کے افتتاح کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے سکھ برادری کو بابا گرونانک دیوجی کے 550ویں جنم دن کی مبارک باد دی۔

وزیراعظم عمران خان نے کرتارپور سے جڑے منصوبوں کو 10 ماہ کے قلیل عرصے میں مکمل کرنے والے تمام اداروں اور وزارتوں کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ میرے حکومت اتنی محنتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جو بھی اللہ کے پیغمبر اس دنیا میں آئے وہ انصاف اور انسانیت کا پیغام لے کر آئے،انسانیت اور انصاف جانوروں کے معاشرے سے فرق کرتی ہے، جہاں نہ انسانیت ہوتی ہے نہ انصاف ہوتا وہاں جو صرف طاقتور ہوتا ہے بچ جاتا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ گرونانک کا نظریہ فلسفہ بھی انسانیت اور محبت کی بات کرتے ہیں، انسانوں کو تقسیم کرنے، نفرتیں پھیلانے کی بات نہیں کرتے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ برصغیر میں وہ لوگ جو انسانیت کے لیے آئے تھے بڑے بڑےصوفی بابا فرید شکر گنج، نظام الدین اولیا، حضرت محی الدین چشتی آج بھی لوگ ان کے مزاروں پر جاتے ہیں کیونکہ وہ انسانیت کے لیے آئے تھے۔

وزیراعظم نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ یہ ہم آپ کے لیے کرسکے، مجھے اندازہ نہیں تھا برصغیر میں کرتارپور کی کیا اہمیت تھی۔

انہوں نے کہا کہ یہ دنیا کی سکھ برادری کا ’مدینہ‘ ہے، آپ کے دل سے نکلتی ہے، آپ کو یہاں آنے کا موقع ملا۔

عمران خان نے کہا کہ اللہ کے تمام پیغمبر لیڈرز تھے اور لیڈر نفرت نہیں بلکہ لوگوں کو ملاتا ہے، لیڈر نفرت پھیلا کر ووٹ نہیں لیتا، نیلسن منڈیلا نے 27 سال برس جیل میں کاٹنے کے بعد اپنے مجرموں کو معاف کیا اور محبت کا پیغام دے کر خون کی ہولی سے ملک کو بچا لیا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو بتایا کہ ’خطے میں سب سے بڑا مسئلہ غربت ہے‘ اور تجارت اور سرحدیں کھولنے سے خوشحالی آسکتی ہے۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا میں نے نریندر مودی سے کہا تھا کہ ہمارے درمیان کشمیر کا مسئلہ موجود ہے جسے ہم ہمسائیوں کی طرح بات چیت کرکے حل کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم من موہن سنگھ نے ایک تقریب میں کہا تھا کہ ’مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ حل کردیا جائے تو برصغیر کا خطہ ابھر سکتا ہے‘۔

عمران خان نے کہا یہ کچھ نریندر مودی کہا تھا لیکن اب یہ مسئلہ خطے کی حدود سے نکل کر انسانیت کا مسئلہ بن چکا ہے۔

کرتارپور راہداری کے افتتاح کے موقع پر وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ وزیر داخلہ اعجاز شاہ، وزیر مذہبی امور پیرنور الحق قادری، معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانی ذوالفقار بخاری نے شرکت کی۔

علاوہ ازیں افتتاحی تقریب میں گورنر پنجاب چوہدری سرور، وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور معروف کاروباری شخصیت انیل مسرت بھی شریک تھے۔

کرتارپور آمد پر وزیراعظم عمران خان نے ٹرمینل ون اور امیگریشن کاؤنٹرز کا دورہ کیا اور یاتریوں کے لیے چلائی جانے والی شٹل سروس سے گورداوارہ پہنچے، جہاں انہوں نے گوردوارے کے مختلف حصوں کا معائنہ کیا۔

امیگریشن کاؤنٹرز پہنچنے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے یاتری کے طور پر پاکستان آنے والے سابق بھارتی وزیراعظم من موہن سے ملاقات کی، مصافحہ کیا اور ان سے خیریت بھی دریافت کی۔

بعدازاں وزیراعظم عمران خان نے کرتارپور راہداری کی افتتاحی تقریب میں شریک سابق بھارتی کرکٹر اور وزیر نوجوت سنگھ سدھو سے بھی ملاقات کی۔

وزیراعظم عمران خان نے بابا گرونانک کے550ویں جنم دن کی تقریبات کے آغاز پر گوردوارے میں داخل ہوتے وقت سکھ مذہب کے احترام کے تحت سر بھی ڈھانپا۔

یہ بھی دیکھیں

روس و پاکستان میں قربتیں بڑھنے لگیں

روسی کمپنیوں نے پاکستان میں 10 ارب ڈالر مالیت کی سرمایہ کاری کی خواہش ظاہر …